
الاسکا کی منجمد رات اب اپنے عروج پر تھی، لیکن احمد کے اپارٹمنٹ کے چھوٹے سے کمرے میں گفتگو کی حرارت نے سردی کے احساس کو مٹا دیا تھا۔ Fatima اور مایا کے جانے کے بعد احمد کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اس کے ذہن میں Fatima کی باتیں گونج رہی تھیں۔ اسے محسوس ہوا کہ حق کی پکار صرف الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ جب کردار بولتا ہے تو خاموشی بھی تبلیغ بن جاتی ہے۔
احمد نے دوبارہ اپنی ڈائری کھولی۔ آج اسے الاسکا کے ان مسلمانوں کے بارے میں مزید لکھنا تھا جنہوں نے یہاں کی برفانی وادیوں میں اسلام کے نور کو عام کیا۔ اس نے قلم اٹھایا اور اپنے مخصوص انداز میں جرنلنگ شروع کی:
> “الاسکا میں اسلام کی تاریخ محض چند افراد کی ہجرت نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم اخلاقی انقلاب کی داستان ہے۔ یہاں کے مقامی لوگ، جنہیں ‘انیوٹ’ (Inuit) یا ‘ایسکیمو’ کہا جاتا ہے، اپنی فطرت میں بہت سادہ اور جفاکش ہیں۔ جب 20ویں صدی کے وسط میں یہاں تیل اور گیس کے شعبوں میں کام کرنے کے لیے پاکستانی، بھارتی، لبنانی اور مصری مسلمان آئے، تو وہ اپنے ساتھ صرف ہنر نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات لائے تھے۔”
>
احمد نے ڈائری میں ایک خاص واقعے کا ذکر کیا جو اس نے الاسکا کی اسلامی لائبریری کے ڈیجیٹل آرکائیو میں پڑھا تھا۔ یہ واقعہ ایک مقامی سردار کا تھا جس نے ایک مسلمان ورکر کے اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔ وہ ورکر سخت سردی میں اپنا کھانا ایک بوڑھے غیر مسلم پڑوسی کے ساتھ بانٹتا تھا، چاہے خود بھوکا ہی کیوں نہ رہ جائے۔ یہی وہ ‘حیا’ اور ‘ایثار’ ہے جو اسلام کی پہچان ہے اور جس نے یہاں کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔
مایا کی میزبانی اور الاسکن سوغات “Akutaq”
اگلے روز شام کے وقت، مایا نے احمد اور Fatima کو اپنے گھر مدعو کیا۔ مایا آج بہت پرجوش تھی کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے ایک روایتی الاسکن میٹھا تیار کر رہی تھی۔
“احمد! آج تم وہ چکھو گے جسے ہم الاسکا کے لوگ ‘اکوٹک’ (Akutaq) یا ‘ایسکیمو آئس کریم’ کہتے ہیں،” مایا نے کچن سے آواز لگائی۔
Fatima نے ہنستے ہوئے احمد کو بتایا، “احمد، یہ عام آئس کریم جیسی نہیں ہوتی۔ قدیم زمانے میں یہ قطبی ہرن کی چربی اور برف سے بنتی تھی، لیکن اب مایا اس میں تازہ بیریز (Berries) اور مٹھاس شامل کرتی ہے۔ یہ ہماری ثقافت کا خاص حصہ ہے۔”
جب مایا ایک بڑے پیالے میں سفید اور جامنی رنگ کا آمیزہ لے کر آئی، تو کمرہ بیریز کی بھینی بھینی خوشبو سے مہک اٹھا۔ مایا نے بڑے چاؤ سے دونوں کو Akutaq پیش کیا۔
احمد نے پہلا چمچ لیا تو ٹھنڈک کے ساتھ ایک عجیب سی تازگی کا احساس ہوا۔ “واہ مایا! یہ تو واقعی منفرد ہے۔ لاہور کی فالودہ آئس کریم کے بعد یہ پہلی چیز ہے جس نے مجھے حیران کیا ہے۔”
مایا کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ “تم جانتے ہو احمد، قدیم دور میں جب شکاری طویل سفر پر جاتے تھے، تو ان کی مائیں اور بیویاں انہیں یہ بنا کر دیتی تھیں تاکہ وہ توانائی سے بھرپور رہیں۔ یہ صرف ایک ڈش نہیں، ہماری بقا کی علامت ہے۔”
کافی دیر تک وہ تینوں ہنسی مذاق اور خوش گپیوں میں مصروف رہے۔ Fatima نے اپنی زندگی کے وہ قصے سنائے جب اس نے شروع میں حجاب پہننا شروع کیا اور کیسے اس کے قبیلے کے لوگ اسے حیرت سے دیکھتے تھے، جبکہ احمد نے اسے لاہور کے رنگین بازاروں اور وہاں کے کھابوں کی یادیں تازہ کر کے سنائیں۔
سائنسی الجھن اور مایا کا اضطراب
خوش گپیوں کے دوران اچانک مایا سنجیدہ ہوگئی۔ وہ رہ رہ کر احمد سے وہی سوال پوچھنا چاہ رہی تھی جو کل رات اس کے ذہن میں تشنہ رہ گئے تھے۔
“احمد،” مایا نے آخر کار خاموشی توڑی۔ “تمہاری وہ دوست Fatima… وہ جب حجاب پہنتی ہے، تو کیا اسے یہ بوجھ نہیں لگتا؟ یہاں کی آزادی، یہاں کا لبرل کلچر تو اسے قید سمجھتا ہے۔”
احمد نے مایا کو غور سے دیکھا۔ “Fatima کے لیے اس کا اسکارف اس کی پہچان ہے، اس کی حیا کی ڈھال ہے۔ مغربی معاشرہ جسے آزادی کہتا ہے، وہ اکثر اوقات عورت کو نمائش کی چیز بنا دیتا ہے۔ کیا یہ منافقت نہیں کہ ہم ہر چیز کی منطق ڈھونڈتے ہیں مگر جب بات ‘مقدس حدود’ کی آتی ہے تو اسے قدامت پسندی کا نام دے دیتے ہیں؟”
مایا احمد کی گفتگو کے اس تیکھے پن سے تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ مٹی کی خوشبو اور ایمان کی خوشبو میں کوئی گہرا تعلق ہے جو اب اس کی سمجھ میں آنے لگا تھا۔
تحقیق کا نیا رخ اور ایک غیر متوقع انکشاف
احمد کی ریسرچ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی تھی جہاں اسے قدیم مقامی روایات اور جدید فزکس کا ملاپ کرنا تھا۔ مایا کے قبیلے کی ایک بزرگ خاتون نے احمد کو ایک ایسی غار کے بارے میں بتایا تھا جہاں کی دیواریں ‘روشنی خارج’ کرتی تھیں۔
احمد نے سوچا کہ شاید یہ کوئی ‘بائیو لیومینیسنس’ کا عمل ہو، مگر اس کا ذہن اب کسی بڑے معجزے کی تلاش میں تھا۔ اسی شام، جب وہ واپسی کی تیاری کر رہا تھا، اسے Fatima ملی۔
“احمد! ہم ایک چھوٹا سا پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں،” Fatima نے پرجوش انداز میں کہا۔ “ہم چاہتے ہیں کہ ان سردیوں میں ہم نہ صرف لوگوں کو کھانا پہنچائیں، بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ‘سیرتِ نبوی ﷺ’ پر بات کریں تاکہ انہیں پتا چلے کہ اسلام صرف ایک مذہب نہیں، بلکہ انسانیت کا درد ہے۔”
احمد نے مسکرا کر حامی بھر لی۔ اسے محسوس ہوا کہ الاسکا کی ان سرد راتوں میں ایمانی حرارت اب بلند ہونے والی ہے۔
Ye be parhey
تبصرے بند ہیں