تحریر: روبینہ شاہین

Calendar 2026 کی پہلی صبح کا آغاز ہو چکا تھا۔ آرکٹک کے افق پر سورج تو اب بھی روٹھا ہوا تھا، مگر احمد کے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر پھیلی برف پر سالِ نو کی آتش بازی کے رنگ اب مدھم پڑ رہے تھے۔
احمد نے تھکن دور کرنے کے لیے کچن کا رخ کیا، جہاں مہنگائی کا ایک الگ ہی طوفان اس کا منتظر تھا۔ اتکیانوک (Utqiagvik) میں زندگی گزارنا کسی مالیاتی معجزے سے کم نہ تھا؛ یہاں سڑکیں نہیں تھیں، اس لیے سوئی سے لے کر جہاز کے انجن تک ہر چیز ہوائی جہاز کے ذریعے لائی جاتی تھی۔ احمد نے جب فریج سے دودھ کا ڈبہ نکالا تو اسے اس کی قیمت یاد آکر ایک جھٹکا لگا۔ یہاں ایک گیلن دودھ کی قیمت پاکستان کے ایک پورے ہفتے کے راشن کے برابر تھی۔ چائے کا ایک کپ، جو لاہور کی گلیوں میں ایک معمولی سی عیاشی تھی، یہاں کسی قیمتی مشروب سے کم نہ تھا۔ مگر وہ ٹھہرا “چائے کا دیوانہ”؛ اس کے لیے ریسرچ کی تھکن اور ہڈیوں میں اترتی ٹھنڈ کا واحد علاج الائچی والی کڑک چائے ہی تھی۔ اس نے بھاری دل کے ساتھ قیمتی دودھ کی چند بوندیں پین میں ڈالیں اور خود کلامی کی، “نورین کے نزدیک کامیابی مہنگی گاڑیوں میں تھی، مگر آج مجھے احساس ہو رہا ہے کہ اس برفیلی قید میں چائے کا ایک گرم کپ میسر ہونا بھی کتنی بڑی کامیابی اور اللہ کا کرم ہے۔”
ذہن کو تروتازہ کرنے کے لیے احمد نے جیکٹ پہنی اور تھوڑی دیر واک کے لیے باہر نکلا، مگر بستی کی گلیوں میں قدم رکھتے ہی اسے ایک عجیب سے سناٹے اور خوف کا احساس ہوا۔ یہاں ‘واک’ کرنا پارک میں ٹہلنے جیسا نہیں تھا بلکہ موت سے آنکھ مچولی کھیلنے کے مترادف تھا۔ مقامی لوگ ہاتھوں میں رائفلیں تھامے مستعد تھے اور ان کی نظریں بستی کے کناروں پر جمی تھیں۔ ایک بوڑھے شکاری نے احمد کو دیکھتے ہی اشارہ کیا کہ وہ بستی کے وسط میں ہی رہے۔ فضا میں یہ تناؤ ‘قطبی ریچھ’ (Polar Bear) کے خوف کی وجہ سے تھا جو بھوک کی شدت میں اکثر بستی کا رخ کر لیتے تھے۔ سفید برف پر سفید موت کا یہ سایہ اتنا خاموش ہوتا ہے کہ جب تک وہ سامنے نہ آئے، اس کی موجودگی کا پتا نہیں چلتا۔ احمد کو احساس ہوا کہ یہاں کے باسیوں کے لیے ہر نیا دن اور Calendar 2026 کی ہر صبح ایک نئی جنگ ہے، جہاں زندگی کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت بیدار رہنا پڑتا ہے۔
واپسی پر یونیورسٹی کے لاؤنج میں اس کی ملاقات ڈاکٹر ہینز اور ڈاکٹر ایلینا سے ہوئی، جن کا تعلق بالترتیب جرمنی اور روس سے تھا اور وہ برسوں سے اس منجمد دنیا میں تحقیق کر رہے تھے۔ “احمد! یہاں کے رسم و رواج کو صرف کتابوں سے مت سمجھنا،” ڈاکٹر ہینز نے کافی کا مگ تھامتے ہوئے کہا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں جب کوئی شکاری پہلی وہیل مچھلی پکڑتا ہے تو پورے گاؤں کو دعوت دی جاتی ہے، کیونکہ بانٹنا یہاں کی بقا کا اصول ہے۔ ڈاکٹر ایلینا نے اضافہ کیا کہ “یہاں ‘وقت’ کا تصور وہ نہیں جو ہم برلن یا ماسکو میں سیکھ کر آئے ہیں۔ یہاں گھڑیاں نہیں، بلکہ نیچر کے اشارے زندگی چلاتے ہیں۔ اگر تم نے یہاں کے انوپیٹ (Inupiat) لوگوں کے ‘ٹیبو’ (Taboos) کی عزت نہ کی، تو تم چاہے کتنے ہی بڑے سائنسدان بن جاؤ، یہ برف تمہیں کبھی قبول نہیں کرے گی۔” ان غیر ملکی اساتذہ کی گفتگو سے احمد پر یہ راز کھلا کہ یہ لوگ اپنے ملکوں کی چکا چوند چھوڑ کر یہاں کیوں پڑے ہیں—دراصل آرکٹک کی یہ بے رحم فطرت انسان کو اپنی اوقات اور کائنات کی وسعت کا وہ سبق سکھاتی ہے جو بڑے بڑے شہروں کے شور میں کہیں کھو جاتا ہے۔
اس کی میز پر وہ قدیم دھاتی ٹکڑے پڑے تھے جنہیں اس نے Iriqtaq کے چیمبر سے نکالا تھا۔ جیسے ہی اس نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا اور Magnetic Field Data کا موازنہ Calendar 2026 کے نئے شمسی چکر (Solar Cycle) سے کیا، اس کے ہوش اڑ گئے۔ ڈیٹا بتا رہا تھا کہ زمین کی مقناطیسی لہریں محض قدرتی تغیر نہیں تھیں، بلکہ ان دھاتی ٹکڑوں میں ایک ایسی فریکوئنسی (Frequency) چھپی تھی جو شاید انسانی تاریخ کے کسی گمشدہ باب کا پتا دے رہی تھی۔
احمد نے آپ یہ ڈائری میں لکھا”وقت کا پہیہ گھوم رہا ہے اور Calendar 2026 کی آمد ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم اب بھی اس مادی دوڑ میں اندھے بنے ہوئے ہیں۔ ہم ستاروں پر کمند ڈالنے کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر اپنے دل کی بستی میں چھپے اندھیروں کو دور کرنے میں ناکام ہیں۔
یاد رکھیے! سچی کامیابی ڈگریوں، بینک بیلنس یا مغربی تہذیب کی نقالی میں نہیں ہے۔ سچی کامیابی اس ‘معتبر حرف’ میں ہے جو اللہ کی محبت میں زبان سے ادا ہو۔ اگر ہم نے اس بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ اپنے ایمان کی سمت درست نہ کی، تو ہم بھی تاریخ کے ان ملبے تلے دب جائیں گے جن کا ذکر ایلا کے دادا کی ڈائری میں تھا۔
ا
آئیے! اس سے پہلے کہ ہماری زندگی کا کیلنڈر آخری صفحے پر پہنچ جائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ کامیابی صرف وہی ہے جو آخرت کے میزان میں تولی جا سکے۔
اندھیرے کے مکین: قسط 9