143

اندھیرے کے مکین قسط 3

تحریر شئیر کریں

اندھیرے کے مکین  قسط 1

ناول نگار:روبینہ شاہین
باب 3 — “ایلا کا خاندان اور احمد کا پہلا سبق”


کمرے میں گہرا اندھیرا

جب احمد اپنے کمرے میں واپس پہنچا، تب تک باہر Utqiagvik پر طویل ترین رات کا سیاہ رنگ پوری طرح گہرا ہو چکا تھا۔ کھڑکی سے نظر آنے والا منظر اب روشنی کا مکمل فقدان تھا۔ باہر، سٹریٹ لائٹس کے گہرے زرد دائرے برف کی چمک میں دُھندلے پڑ رہے تھے۔ یہ منظر ایسا تھا جیسے اندھیرے کی گہرائی میں موجود چھوٹے جزیرے ہوں۔

کمرہ گرم تھا، لیکن اس کے باوجود احمد کو اپنے اندر کوپاک کی آواز گونجتی محسوس ہو رہی تھی: “اصلی اندھیرا تو یہاں ہوتا ہے۔”

وہ اپنی ریسرچ ڈائری لے کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کا منصوبہ تھا کہ وہ اگلے دو ماہ صرف ‘ماحولیاتی ڈپریشن’ اور ‘سورج کے جانے کا نفسیاتی اثر’ پر توجہ دے گا۔ تاہم، اب اسے محسوس ہوا کہ اس کا موضوع بہت تنگ ہے۔

“یہ لوگ اندھیرے سے نہیں ڈرتے،” اس نے لکھا۔ “یہ لوگ تنہائی سے ڈرتے ہیں۔ ان کی کامیابی ان کی ‘جڑت’ اور ثقافتی رسم و رواج میں پنہاں ہے۔ اس لیے، مجھے اس جڑت کو سمجھنا ہو گا۔”

مگر جب اس نے باہر پھیلی، لامحدود برف کو دیکھا، تو ایک سرد لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔ اسے شدید سڑیس محسوس ہو رہا تھا۔ اس سڑیس کے عالم میں ایک چہرہ بار بار اس کی یاد میں ابھر رہا تھا۔ اگر وہ اس سے وفا کرتی تو شاید آج وہ اس برفانی ویرانی اور ان اندھیروں میں نہ ہوتا۔ یہ خیال اسے تیزی سے ماضی کی طرف کھینچ رہا تھا۔

گراؤنڈنگ کا عمل اور ملاقات

یکدم احمد کو یاد آیا کہ وہ کس طرف جا رہا ہے۔ وہ اپنی ریسرچ کے لیے آیا تھا، ماضی میں بھٹکنے کے لیے نہیں۔ اس نے اپنے خیالات کے بہاؤ کو فوراً روکا۔ کن پٹی پر انگلی رکھ کر، آہستگی سے تین بار “سٹاپ” کہا۔ یہ اس کی گراؤنڈنگ تکنیک کا حصہ تھا۔

وہ اٹھ کر ہاتھ منہ دھونے لگا۔ پھر وہ کمرے میں موجود اشیاء – لکڑی کی میز، گرم رضائی، اور پیلی پڑتی کتابوں – پر غور کرنے لگا۔ اس تکنیک سے وہ ایک بار پھر حال میں واپس آ چکا تھا۔ ایک دل تھا جو اب بھی وہی دھڑک رہا تھا، لیکن دماغ نے فی الحال ماضی کے بوجھ کو اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔

اگلی صبح (جو کہ درحقیقت سٹریٹ لائٹس کی گواہی میں آنے والا نیا وقت تھا) دروازے پر دستک ہوئی۔ ایلا ایک بڑی سی فشنگ جیکٹ پہنے کھڑی تھی۔

“اٹھو، ریسرچر!” ایلا نے ہنستے ہوئے کہا۔ “تمہیں لگا تھا کہ اندھیرا ہو گیا تو دنیا رک جائے گی؟ بلکہ، یہاں روزمرہ کی زندگی بہت سخت ہوتی ہے۔ چلو، تمہیں ‘انؤپیئک’ زبان کا پہلا سبق سکھاتی ہوں، اور ساتھ ہی برف پر زندہ رہنے کے چند اصول بھی۔”

احمد فوراً تیار ہو گیا اور ایلا کے ساتھ چل پڑا۔ چنانچہ، ایلا اسے کمیونٹی ہال کے قریب بنے ایک چھوٹے سے، صاف ستھرے گھر کی طرف لے گئی۔ اس گھر سے تازہ لکڑی جلنے اور مچھلی کے تیل کی ہلکی سی خوشبو آ رہی تھی۔

“یہ میرا گھر ہے،” ایلا نے بتایا۔ “اور یہ ہیں میرے والد، یوتک۔ انؤپیئک میں ‘یوتک’ کا مطلب ہے ‘وہ جو سفر کرتا ہے۔’ اور امی، سیما، یعنی ‘آنکھیں۔'”

یوتک، جو ایک بڑی میز پر مچھلی کاٹ رہے تھے، نے مسکرا کر احمد کا استقبال کیا۔ ان کا چہرہ کوپاک جیسا باوقار تھا، مگر آنکھوں میں زیادہ مضبوط عزم تھا۔ اس کے بعد، یوتک نے اشارے سے احمد کو بیٹھنے کا کہا۔

ایلا نے ایک کاغذ پر کچھ لکھا اور احمد کی طرف بڑھایا۔ “یہ لو تمہارا پہلا سبق۔” کاغذ پر لکھا تھا: “Quyanaq.”

“بولو، قویانہق۔” ایلا نے وضاحت کی۔ “اس کا مطلب ہے ‘شکریہ’۔ تم نے کل کمیونٹی ہال میں ہمارے کھانے کا سوپ لیا، ہم سے بات کی، لہٰذا تمہیں یہ کہنا چاہیے۔” احمد نے ہچکچاتے ہوئے کہا: “قویانہق؟” “صحیح!” یوتک ہنس پڑے۔

یوتک نے اپنی زبان میں ایلا سے کچھ کہا، اور ایلا نے ترجمہ کیا: “ابا کہہ رہے ہیں کہ ریسرچ کرنے سے پہلے، تمہیں ہماری روح میں جھانکنا ہو گا۔ دراصل، روح میں جھانکنے کا پہلا دروازہ زبان ہے۔ زبان صرف الفاظ نہیں ہوتی، یہ کسی کے دل میں داخل ہونے کا راستہ ہوتی ہے۔”

احمد کو شدت سے محسوس ہوا کہ اس کی ریسرچ کا طریقہ کار مکمل تبدیل ہونے والا ہے۔ بلاشبہ، وہ محض سوالنامے بھر کر ان لوگوں کے دلوں کے اندھیرے دور نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے لیے اسے ان کے ساتھ رہنا، ان کی زبان سیکھنا، اور ان کی طرح سوچنا ہو گا۔

> “میں پاکستان سے یہاں اندھیرے کے مکینوں کے دل روشن کرنے آیا ہوں۔ اور روشنی کا پہلا سبق یہاں ‘شکریہ’ ادا کرنے اور زبان سیکھنے سے شروع ہوتا ہے،” اس نے دل میں سوچا۔

>

سیما (ایلا کی والدہ) نے گرم لکڑی کے چولہے سے ایک پیالہ نکالا، جس میں مہر (Seal) کا گرم سوپ تھا۔ “پیو،” سیما نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “اور ہمیشہ یاد رکھو، اس رات میں ہر نئی چیز تمہیں زندہ رکھے گی۔”

احمد نے وہ سوپ پیا۔ اس کا گرم، نمکین ذائقہ روح تک اتر گیا۔ وہ صرف سوپ نہیں تھا، وہ Utqiagvik کی زندگی اور محبت کا پہلا گھونٹ تھا۔ آخرکار، احمد کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ روشنی صرف سورج میں نہیں ہوتی، بلکہ یہ گرم سوپ، ایک دوستانہ لفظ اور کسی کے خاندان کے خلوص میں بھی چھپی ہوتی ہے۔

احمد کو یقین تھا کہ وہ Utqiagvik کی طویل رات کے خوف پر قابو پا چکا ہے۔ 64 دنوں کی مسلسل تاریکی نے اسے تنہائی اور اپنی اندرونی ہمت پر انحصار کرنا سکھا دیا تھا۔ ایک شام، جب برف باری تھم چکی تھی اور ہر طرف خاموشی کا راج تھا، اس نے کمیونٹی ہال سے باہر نکل کر کچھ دیر چہل قدمی کرنے کا فیصلہ کیا۔ تازہ برف پر اس کے قدموں کے نیچے دبتی ہوئی کراہٹ ایک عجیب سی سکون بخش رہی تھی، مگر یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔

​جیسے ہی وہ ہال کے پچھلے حصے کی طرف مڑا، اس کی نظر اچانک زمین پر پڑنے والے کچھ ایسے نشانات پر پڑی جنہوں نے اسے ساکت کر دیا۔ یہ انسانی قدموں کے نشان نہیں تھے… نہ ہی کسی عام جانور کے۔ گہرے، بے ترتیب، اور غیر معمولی بڑے نشانات تھے جو برف پر ایسے گڑے ہوئے تھے جیسے کسی بھاری وجود نے برف کو کچل کر راستہ بنایا ہو۔ یہ نشانات کمیونٹی ہال کی پچھلی دیوار سے شروع ہو کر، چند فٹ کے فاصلے پر ایک گھنے برفانی ڈھیر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ احمد کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ کیا یہ وہی چیز تھی جس کے بارے میں مقامی لوگ سرگوشیاں کرتے تھے؟ کیا “اندھیرے کے مکین” صرف کہانیوں کا حصہ نہیں تھے بلکہ حقیقت میں کمیونٹی ہال کے اتنے قریب آ چکے تھے؟ اس کے دماغ میں سنسنی دوڑ گئی اور ایک سرد لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اتر گئی۔جاری ہے

اندھیرے کے مکین  قسط 3

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں