asan-rasta-afsana 166

افسانہ: آسان راستہ

تحریر شئیر کریں

asan-rasta-afsana

وہ ہر رات سونے سے پہلے خود سے ایک ہی وعدہ کرتا تھا:
“کل میں مختلف ہوں گا۔”

لیکن صبح آتے ہی سب کچھ ویسا ہی رہتا۔

موبائل کی اسکرین پر الارم بجتا، وہ آنکھیں کھولے بغیر اسنوز کر دیتا۔ پانچ منٹ، پھر دس، پھر وہی پرانا جواز:
“آج بہت تھکا ہوا ہوں، کل سے پکا۔”

یہ تھکن کسی جسمانی مشقت کی نہیں تھی، یہ اس اصول کے ٹوٹنے کی تھکن تھی جسے اس نے خود کبھی بڑی یقین سے اپنایا تھا۔

وہ جانتا تھا مسئلہ حالات نہیں ہیں۔
نہ دفتر، نہ رشتے، نہ وقت کی کمی۔
مسئلہ وہ جگہ تھی جہاں اس نے خود سے سمجھوتہ کیا تھا — بار بار۔

کچھ اذیتیں چیختی نہیں ہیں،
بس اندر کہیں بیٹھ جاتی ہیں،
خاموش، مستقل، بھاری۔

وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا تو سامنے والا شخص اجنبی لگتا۔ وہی چہرہ، وہی آنکھیں، مگر نگاہوں میں وہ اعتماد نہیں تھا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔
وہ کسی کو الزام نہیں دے سکتا تھا۔ نہ ماضی کو، نہ کسی انسان کو، نہ کسی حادثے کو۔

کیونکہ یہ سب اس کی اپنی کمائی تھی۔

اس نے بنیادی اصول توڑا تھا:
اپنے آپ سے سچ بولنے کا اصول۔

ہر بار جب محنت سامنے آتی، دماغ فوراً آسان راستہ تجویز کر دیتا۔
“بس آج چھوڑ دو، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔”
اور وہ مان جاتا۔

فرق فوراً نہیں پڑتا تھا،
فرق آہستہ آہستہ پڑتا تھا۔
اتنا آہستہ کہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ خود سے کتنی دور آ چکا ہے۔

ایک دن وہ بہت دور نکل آیا۔

وہاں خوشی یاد کی چیز بن گئی تھی،
اور سکون ایک پرانا لفظ۔

اسی دن اسے احساس ہوا کہ واپسی مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں۔
بس شرط یہ ہے کہ قدم ادھورا نہ ہو۔

اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ بڑا انقلاب نہیں لائے گا،
بس ایک چھوٹا سا اصول واپس لائے گا —
روز خود سے وعدہ پورا کرنے کا۔

اکیلے یہ مشکل لگ رہا تھا،
اس لیے اس نے کسی کو بتا دیا۔
کوئی ناصح نہیں، کوئی جج نہیں —
بس ایک انسان جو اسے یاد دلا سکے کہ وہ بھاگ نہ جائے۔

آسان راستہ آج بھی موجود تھا،
مگر اب وہ جانتا تھا کہ آسان ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتا۔

کچھ محنتیں وقتی ہوتی ہیں،
اور کچھ اذیتیں مستقل۔

اس نے وقتی محنت چن لی۔

اور پہلی بار،
سوتے وقت
اس نے کل کے لیے وعدہ نہیں کیا —
آج کے لیے شکر ادا کیا۔
افسانہ: آسان راستہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں