بے چہرگی کا سایہ 196

افسانہ: بے چہرگی کا سایہ

تحریر شئیر کریں

بے چہرگی کا سایہ

علی جمال بالائی منزل پر کھڑا ہوا، سرد ہوا کے جھونکوں میں سانس لینے لگا۔ پہاڑیوں کے پیچھے ادھورا چاند ابھرا تو وہ رک گیا، مبہوت سا اسے دیکھنے لگا۔ اچانک ناک میں ایک بدبو چلی، وہی بدبو جو کئی مہینوں سے اس کے ساتھ تھی۔

گھر میں سب معمول کے مطابق تھے: بیوی نادیہ، بیٹا احسن، بیٹی فاطمہ۔ لیکن علی کے دل میں ایک عجیب سا کھچاؤ تھا۔ ملازمہ نسرین ایئر فریشنر چھڑک رہی تھی، اور اس دوران اسے کسی بچے کی دبی دبی چیخ سنائی دی—ایسی چیخ جو واقعی وہاں موجود کسی نے نہیں کی تھی۔

رات کو آئینے میں علی کا عکس غائب ہو گیا۔ اس کی جگہ ایک سیاہ بالوں والا، بدبودار ریچھ کھڑا تھا—ضمیر کا عکس، جرم کا مظہر۔

صبح ہوتے ہی نادیہ اور بچے روانہ ہو گئے۔ علی تنہا، خاموشی میں بیٹھا، اپنے جرم کی یادوں میں گھرا رہا۔ ہر لمحہ وہ معصوم بچی کی چیخیں کانوں میں گونج رہی تھیں، جس کے ساتھ اس نے ظلم کیا اور گناہ کا انجام خود پر محسوس کیا۔

دن کے اختتام پر، علی سڑک پر گاڑی چلاتا ہوا بچی کو دیکھ کر خوفزدہ ہوا۔ فل بریک لگایا، مگر کار بجلی کے کھمبے سے جا ٹکرائی۔ شیشہ ٹوٹا اور علی جمال کا وجود اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

اس کے بعد صحافی نے میز پر پڑا کاغذ دیکھا:

> “میں اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہوں۔ انجام سے بچنا ممکن نہیں۔”

اشارے رہ گئے، اعلان نہیں۔ جرم، خوف، ضمیر اور انجام—سب کچھ خاموشی میں، قاری کے ذہن میں گونجتا ہوا۔

—

افسانہ: بے چہرگی کا سایہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں