دسمبر کی آخری شام
روبینہ شاہین
دسمبر کی آخری شام تمہارے نام
۔۔۔۔۔
میری زندگی میں بارہا دسمبر آۓ اور گزر گۓ۔ظاہر دسمبر آیا ہوگا تو دسمبر کی آخری شام بھی تو آئی ہوگی۔۔۔۔میرےلیے دسمبر اس لیے بھی منفرد ہوتا ہے کہ مجھے سردی بہت لگتی ہے۔اتنی کہ مت پوچھیں۔۔۔۔
میں نے بہت سوچا کہ دسمبر پہ کچھ لکھوں؟ کیا لکھوں۔۔۔تصور میں کچھ نقش ابھرے تو سوچا چلو تمھیں پہ لکھ لیتی۔۔۔
دسمبر کی اداس بھری شامیں اور منجمد کر دینے والی سردی کیا کم ہے جو اب تمھیں بھی یاد کروں۔۔۔ ظاہر ہے لکھنا ہے تو کچھ منٹ ہی سہے تمہیں دینے ہوں گے، دسمبر کی آخری شام تمہارے نام کرنا ہوگی۔۔۔چلو کیا یاد کرو گے تم بھی۔۔۔کچھ کھٹی میٹھی ہو جائیں پھر۔۔۔
تمھیں بھولے تو ایک مدت گزر گئ۔۔۔۔زندگی کی اس بھیڑ میں کھو جانے والو کے لیے اتنا وقت کہاں بچتا کہ انھیں رویا جاۓ۔۔۔بجھی راکھ کو کریدا جاۓ۔بجھی راکھ کو کریدنے سے آنکھیں ہی خراب نہیں ہوتیں کردار بھی خراب ہو جایا کرتا ہے۔
سنو میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں۔بہت خوش نا سہی پر مطمن ہوں کہ تم نہیں ملے۔مل جاتے تو شاید اتنی خوش نا ہوتی کیونکہ میری قسمت میں تیرے بعد جو لوگ آۓ انھوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔یہاں تک ان بہتے آنسووں نے مجھے میرے رب کے نزدیک کیا۔کہیں پڑھا تھ جو مصیبت رب کے نزدیک کرے وہ رحمت ہوتی تو تیرا ہجر تیری جدائی میرے لیے رحمت بن گئ ہے۔رحمت ہی رحمت۔۔
میں یہ سب کیوں لکھ رہی ہوں۔کیونکہ میں جانتی ہوں کہ تم اب تک ایک بنجر درخت ہو۔جس پہ کبھی پھل پھول نہیں لگتے۔بنجر زمینیں ہوں یا انسان اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔بالکل تمہاری طرح۔۔ اپنے اس کھوکھلے پن کو کبھی لڑکیوں سے دوستی کر کے تو کبھی بے جا پیسہ لٹا کر ختم کرنا چاہتے ہیں۔مگر وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔۔۔ہمیشہ تازہ رہتا اور چھبتا رہتا۔سنو جس راستے کا تم نے آغاز کیا ہے اس کا احتتام تباہی ہوتی ہے۔۔۔
میں جانتی ہوں تمھیں یہ سب بہت برا لگے گا۔مگر میں ٹھہری ایک سچی اور کھری لڑکی۔۔۔۔آج یہ سچ دسمبر کی آخری شام کے نام کرنا ہے۔آخر دسمبر کی یہ شام بھی تو منانی ہے نا توکیوں نا چند کھری کھری سنا دی جائیں ان جانے والو کو جو جا چکے مگر کسک بن کے اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں تو کبھی سبق بن کے۔۔
سنو میں نے تمھیں کسک نہیں سبق بنایا ہے۔ماضی سبق کے لیے ہوتا ہے اور زندگی سبق کے لیے۔۔۔سبق ازبر نا ہو تو ماضی حال بن کر بے حال کرتا رہتا ہے۔میں بے حال نہیں ہونا چاہتی تھی۔کیونکہ میں نے تمھیں کھویا نہیں تھا تم نے مجھے کھویا تھا۔۔میں تب بھی محبت کے امتحان میں پوری اتری۔۔۔میں اب بھی اتر رہی ہوں۔تم سے واسط نا رکھ کر تم سے سارے تعلق توڑ کر میں اس دلوں میں محبتیں ڈالنے والے رب کو سرخرو کرنا چاہتی تھی کہ تمہارے بعد اسی کے لیے جینا چاہتی تھی اور چاہتی ہوں۔۔۔اس نے مجھے بنجر نہیں چھوڑا۔۔برگ و بار ہی نہیں پھلوں سے میری جھولی بھر دی۔۔۔۔پھل دار درخت جس کی گھنی چھاؤں تلے عمر گزر رہی ہے ۔۔۔پھر کاہے کا دکھ کاہے کا غم۔۔۔۔۔۔
سنو اگر یہ تحریر تمہاری نظروں سے گزرے تو بس اتنی استدعا ہے اپنا یہ کھیل ختم کر دینا۔۔۔۔اور کتنی روحوں کو ناپاک کرو گے۔۔۔۔۔میری دعا ہے تیرے بنجر درخت کو پھل لگے۔۔اللہ تیرے اندر کی کسک کو بھر دے تجھے مطمن کردے۔
سنو میں تمھیں بنجر نہیں دیکھ سکتی۔میں چاہتی ہوں تم برگ وبار لاو۔۔پھلو پھولو۔۔۔کیونکہ محبت کرنے والے کبھی بددعا نہیں دیا کرتےت
سنو دسمبر کی آخری شام گواہ رہنا” میں نے تجھے معاف ۔کیا۔معاف کیا۔معاف کیا۔۔۔۔میرا خدا بھی تجھے معاف کرے
دسمبر کی آخری شام