دسمبر کی آخری شام اور تم 169

دسمبر کی آخری شام اور تم

تحریر شئیر کریں

(ایک ادھوری محبت کی مکمل یاد)

دسمبر کی آخری شام اور تم

دسمبر کی آخری شام…

یہ محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں ہوتی،
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سال ختم ہوتا ہے
اور یادیں بولنے لگتی ہیں۔

میرے بلاگ پر دسمبر کی آخری شام بار بار کلک ہو رہی ہے،
مگر اس بار دل نے کہا
اسی جیسے موضوع پر،
مگر تمہارے نام،
کچھ اور لکھا جائے۔

—

دسمبر اور تمہاری یاد

مجھے یاد ہے
تم کہا کرتے تھے:
“مجھ پر لکھا کرو”

اور آج میں تم پر لکھ رہی ہوں،
مگر اس وقت
جب تم اس دنیا میں نہیں ہو۔

ہم ملے تھے پچیس نومبر کو،
اور صرف پانچ دن بعد
دسمبر آ گیا تھا۔

وہ کتنا خوبصورت دسمبر تھا…
شادی کے ابتدائی دن،
نیا رشتہ،
نئی ذمہ داریاں،
اور تم۔

وہ دسمبر
جس میں سب کچھ نیا تھا
اور دل بھرا ہوا تھا۔

ویسا دسمبر
پھر کبھی نہیں آیا۔

—

زندگی کی تلخیاں اور دسمبر کا ساتھ

زندگی کے مسائل تب بھی تھے،
تلخیاں بھی تھیں،
آوازیں اونچی ہو جانا،
چیخ جانا،
خاموش ہو جانا —
سب کچھ تھا۔

مگر ان سب کے باوجود
دسمبر ہمیں قریب لے آتا تھا۔

دسمبر میں
ہم اکٹھے مونگ پھلی کھاتے،
دھوپ میں بیٹھ کر سینکتے،
اور شام ڈھلے
آگ کا الاؤ جلا کر
خاموش بیٹھے رہتے۔

وہ خاموشی
آج شور بن کر دل میں گونجتی ہے۔

—

آٹھ سال کا ساتھ

آٹھ سال…
یہ کوئی چھوٹا وقت نہیں ہوتا۔

آٹھ سال ہم نے ایک ساتھ گزارے،
کبھی خوشی میں،
کبھی غم میں،
کبھی شکر میں،
کبھی صبر میں۔

زندگی ہمیشہ آسان نہیں تھی،
مگر تم ساتھ تھے۔

اور پھر
تم چلے گئے۔

—

جدائی کے بعد پہلا دسمبر

تمہارے جانے کے بعد
جو خلا بنا ہے
وہ کتنا گہرا ہے
یہ صرف اللہ جانتا ہے۔

یہ تمہارے جانے کے بعد
پہلا دسمبر ہے،
اور اس کی آخری اداس رات۔

ایسی رات
جس میں نہ تمہاری آواز ہے،
نہ تمہارا ساتھ،
بس ایک احساس ہے
جو بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے۔

اتنا
کہ دل تھک جاتا ہے۔

—

محبت یا عادت؟

پتہ نہیں
اسے محبت کہتے ہیں
یا عادت۔

مگر جو بھی ہے
وہ ہے۔

اور شاید
ہمیشہ رہے گا۔

تم میرے احسان ہو،
میرے بیٹے کے باپ ہو،
اور میرے دل میں
ہمیشہ زندہ رہو گے۔

—

دسمبر ہر سال آئے گا،
آخری شام بھی آئے گی،
مگر وہ دسمبر
جس میں تم تھے
وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔

اور شاید
اسی کا نام
یاد ہے۔

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں