
سیرہ ریٹریٹ کی آخری شام تھی۔ پہاڑوں کے دامن میں سورج آہستہ آہستہ رخصت ہو رہا تھا اور فضا میں عجب سا سکون اتر آیا تھا۔ لکڑی کے ہال میں چند لوگ دائرے کی صورت بیٹھے تھے۔ سب کے ہاتھ میں نوٹس تھے، مگر اصل نوٹس دلوں میں لکھے جا رہے تھے۔
احمد بھی وہیں بیٹھا تھا۔ تیز ذہن، مضبوط دلائل اور حق بات کہنے کا جنون… مگر آج اس کے اندر عجیب سی بے چینی تھی۔
وہ ہمیشہ خود کو حق کا علمبردار سمجھتا آیا تھا۔ جہاں غلط دیکھا، بول پڑا۔ جہاں کمزوری دیکھی، نشتر چلا دیا۔ اسے لگتا تھا کہ سچ چونکہ سچ ہے، اس لیے اس کا لہجہ بھی سچا ہونا چاہیے، چاہے کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو۔
ریٹریٹ کے استاد نے خاموشی توڑی۔
“کیا کبھی آپ نے سوچا کہ حق بات کہنا بھی ایک امانت ہے؟ اور امانت حکمت کے بغیر ضائع ہو جاتی ہے۔”
احمد چونکا۔
اس کے ذہن میں اچانک کئی منظر ابھر آئے۔
وہ دوست جسے اس نے سب کے سامنے “منافق” کہہ دیا تھا۔
وہ بہن جس کی غلطی پر اس نے وعظ کے تیر برسا دیے تھے۔
وہ نوجوان جو اس کی باتوں کے بعد مسجد سے ہی دور ہو گیا تھا۔
وہ سب حق پر تھا… مگر نتائج؟
وقفے کے دوران احمد باہر نکلا۔ ٹھنڈی ہوا میں درختوں کے پتے سرسرانے لگے۔ اسے یاد آیا کہ سیرت کے سبق میں آج ہی سنا تھا کہ رسولِ کریم ﷺ نے کبھی حق بات کو لوگوں کی عزت روند کر نہیں پہنچایا۔
طائف کا وہ واقعہ…
مکہ کے وہ مخالف…
وہ سخت دل لوگ، جن کے لیے بھی دعا نکلی، بددعا نہیں۔
“یا اللہ…” احمد کے لب ہلے،
“میں نے حق کو اپنا ہتھیار بنا لیا، امانت نہیں سمجھا۔”
واپس آ کر اس نے خاموشی سے اپنی ڈائری کھولی اور لکھا:
حق بات کا بھی ایک حق ہوتا ہے۔
وہ یہ کہ اسے نرمی، حکمت اور دور اندیشی کے ساتھ ادا کیا جائے۔
ورنہ حق، خیر کے بجائے فتنہ بن جاتا ہے۔
ریٹریٹ کے اختتام پر احمد وہی انسان نہیں تھا۔ اس کے پاس اب بھی دلیل تھی، مگر ساتھ صبر بھی تھا۔ زبان میں سچ تھا، مگر لہجے میں رحمت آ گئی تھی۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ
سیرت صرف یاد کرنے کا نام نہیں،
بلکہ اپنے رویے کو رسولِ رحمت ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کا نام ہے۔
اور یہی سیرہ ریٹریٹ کا اصل سبق تھا۔
حق کا بوجھ