ناول:جب قرآن جلائے گئے 1 186

ناول:جب قرآن جلائے گئے قسط 1

تحریر شئیر کریں

ناول:جب قرآن جلائے گئے 1

سورج واپسی کے لیے عازمِ سفر تھا۔ نارنجی اور گہرے سرخ رنگ کے سائے افق پر یوں پھیل رہے تھے جیسے کوئی مصور اپنی آخری تخلیق مکمل کر رہا ہو۔ شام اپنے پر پھیلائے آنے کو بے تاب تھی اور درختوں کی اوٹ سے آتی ہوئی ہوا میں ایک عجیب سی خنکی محسوس ہو رہی تھی۔ پارک میں موجود پرندے خاموش ہو کر اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ رہے تھے، مگر ڈاکٹر ونسٹن کے ذہن کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
ونسٹن اپنے گھر کے سامنے واقع پارک کے اسی پرانے بنچ پر بیٹھا تھا جہاں کی تنہائی اسے ہمیشہ عزیز رہی تھی۔ وہ ایک کامیاب سائنسدان تھا، ایک ایسا محقق جس کے نام کا ڈنکا پورے امریکہ میں بجتا تھا۔ اس کی زندگی میں کسی مادی شے کی کمی نہیں تھی، مگر پھر بھی کبھی کبھی اس پر اداسی کا ایک ایسا دورہ پڑتا جو کئی کئی دنوں تک اس کے اعصاب پر طاری رہتا۔ یہ اداسی کسی نقصان کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ یہ ایک لاحاصل جستجو کا کرب تھا۔
اس کے دماغ میں عجیب و غریب سوال سر اٹھانے لگتے۔ وہ جتنا ان سوالوں کو جھٹک دینا چاہتا، وہ اتنا ہی زیادہ شور مچاتے۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتا تو اسے ہر چیز اجنبی لگتی۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ اس سیارے پر ایک ایسا مسافر ہے جو اپنا پتہ بھول گیا ہے۔
آج بھی اس کی کیفیت مختلف نہیں تھی۔ وہ خاموشی سے سامنے کی پگڈنڈی کو دیکھ رہا تھا جب اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی جو اپنی پالتو بلی کے ساتھ واک کر رہی تھی۔
ونسٹن کی نظریں اچانک ان دونوں کی ٹانگوں پر جم گئیں۔ اس نے دیکھا کہ بلی کے چاروں پیر زمین کی سطح کے ساتھ ایک فطری ہم آہنگی میں تھے۔ وہ مٹی پر چل رہی تھی تو ایسا لگتا تھا کہ زمین کی کششِ ثقل (Gravity) اسے خوش آمدید کہہ رہی ہے۔ مگر وہ لڑکی؟ وہ دو پاؤں پر توازن برقرار رکھنے کی ایک مصنوعی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے ہر قدم میں ایک ایسی جدوجہد تھی جو بلی کی چال میں مفقود تھی۔
ونسٹن کے ذہن میں ایک چنگاری سی لپکی۔ اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی ڈائری نکالی اور لرزتے ہاتھوں سے چند الفاظ لکھے:
“کیا ہم اس زمین کے لیے بنے بھی ہیں یا نہیں؟”
اس نے سوچا کہ دنیا کا ہر جانور دھوپ میں گھنٹوں گزارتا ہے اور اسے کچھ نہیں ہوتا، مگر انسان کی نازک جلد سورج کی تپش سے جھلس جاتی ہے۔ ہر جانور قدرت کی دی ہوئی غذا براہِ راست کھاتا ہے، مگر انسان اسے آگ پر پکائے بغیر ہضم نہیں کر پاتا۔ ہر جانور فطری ماحول میں بیمار نہیں پڑتا، مگر انسان دائمی بیماریوں کا گھر ہے۔
“کیا ہم یہاں کے اصل باسی ہیں؟” اس نے خود سے سوال کیا۔ “یا ہمیں کہیں اور سے لا کر یہاں پھینک دیا گیا ہے؟”
ونسٹن کے لیے یہ محض ایک خیال نہیں تھا، بلکہ ایک نئی تحقیق کا نقطہِ آغاز تھا۔ وہ ایک ماہرِ ماحولیات (Ecologist) کے طور پر جانتا تھا کہ ہر مخلوق اپنے ماحول کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ہوتی ہے، مگر انسان زمین پر سب سے زیادہ “بے چین” مخلوق ہے۔
وہ پارک سے اٹھا اور پر سوچ انداز میں گھر کی طرف بڑھ گیا۔ آج اس کی اداسی میں ایک عزم شامل ہو چکا تھا۔ اسے اپنی نئی ریسرچ کے لیے وہ موضوع مل گیا تھا جو شاید بنی نوع انسان کی تاریخ بدل کر رکھ دے۔ اس نے اپنے ذہن میں اس پراجیکٹ کا ایک عارضی نام رکھا: “The Alien Human” (اجنبی انسان)۔
گھر پہنچ کر اس نے اپنی لیبارٹری کا دروازہ کھولا۔ کیتھی، جو اس کی سب سے قابل معاون تھی، وہاں پہلے سے موجود کچھ ڈیٹا ترتیب دے رہی تھی۔ ونسٹن کو اس حال میں دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی۔
“سر! آپ ٹھیک تو ہیں؟” اس نے فکر مندی سے پوچھا۔
ونسٹن نے میز پر رکھے ایک جینیاتی نقشے (Genetic Map) پر انگلی رکھتے ہوئے کہا، “کیتھی! ہم پچھلے دس سال سے غلط رخ پر کام کر رہے تھے۔ ہم انسان کو زمین کے ارتقاء کا حصہ سمجھ رہے تھے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہو سکتی ہے۔”
کیتھی کے چہرے پر حیرت کے سائے لہرائے۔ “آپ کا کیا مطلب ہے سر؟”
“میرا مطلب یہ ہے کیتھی، کہ انسان اس زمین کی پیداوار نہیں ہے۔ یہ کسی بہت ہی پرسکون، بہت ہی اعلیٰ اور بہت ہی مختلف ماحول کی مخلوق ہے جسے کسی “غلطی” یا “لغزش” کی وجہ سے اس خشک زمین پر، جو کہ کسی جیل کی مانند ہے، قید کر دیا گیا ہے۔”
کیتھی خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ یہ ایک ایسا انقلابی دعویٰ تھا جو ونسٹن کے کیریئر کو تباہ بھی کر سکتا تھا اور اسے شہرت کی بلندیوں پر بھی پہنچا سکتا تھا۔
“ہمیں انسانی ڈی این اے کے ان حصوں پر کام کرنا ہوگا جنہیں سائنسدان اب تک ‘جنک ڈی این اے’ (Junk DNA) کہہ کر نظر انداز کرتے رہے ہیں،” ونسٹن نے جوشیلے انداز میں کہنا شروع کیا۔ “وہیں ہمارے اصل گھر کا پتہ ملے گا۔”
ونسٹن اس وقت یہ نہیں جانتا تھا کہ جس سچائی کی تلاش میں وہ نکل رہا ہے، وہ محض سائنسی لیبارٹریوں تک محدود نہیں ہے۔ اسے یہ بھی علم نہیں تھا کہ شہر کے دوسرے کونے میں کچھ سیاسی اور مذہبی جنونی ایک ایسی مہم کا آغاز کر رہے ہیں جو پوری دنیا میں آگ لگا دے گی۔
شام ڈھل چکی تھی اور اندھیرا گہرا ہو رہا تھا۔ ونسٹن کی لیب کی کھڑکی سے دور سڑک پر لگی ایک بڑی سکرین نظر آ رہی تھی جس پر ایک بریکنگ نیوز چل رہی تھی: “آزادیِ اظہار کے نام پر ایک متنازعہ احتجاج کی کال۔۔۔ مقدس کتابوں کو نشانہ بنانے کا اعلان۔”
ونسٹن نے ایک حقارت بھری نظر اس سکرین پر ڈالی اور پردہ گرا دیا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ جس کتاب کو جلانے کی تیاری کی جا رہی ہے، اس کا ایک ایک حرف اس کی ریسرچ کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس کا یہ سائنسی سفر اسے مٹی کی راکھ سے نکال کر الہامی نور کی دہلیز تک لے جائے گا۔
داستانِ ہجرت کا پہلا باب شروع ہو چکا تھا۔
(جاری ہے)
ناول:جب قرآن جلائے گئے قسط 1

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں