203

ماں کا قاتل، میری محبت

تحریر شئیر کریں

1985 کی جنوری کی ایک ہڈیوں کو چیرتی ہوئی سرد رات تھی۔ ہم تین افراد کا چھوٹا سا گھر، غربت کی گواہی دیتا پرانا در و دیوار، اور ماں کی ممتا سے لبریز آغوش، وہی ہمارا جہاں تھا۔ اچانک دروازہ ٹوٹنے کی آواز آئی، جیسے موت نے ہماری دہلیز پر دستک دی ہو۔ تین ڈاکو گھر میں گھس آئے۔ ماں نے فوراً میری اور میرے چھوٹے بھائی کی جان بچانے کے لیے ہمیں الماری میں چھپا دیا۔ الماری کے شگاف سے میں نے وہ منظر دیکھا جو آج تک میری روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔

ڈاکوؤں کے سردار نے ماں سے پیسوں کا مطالبہ کیا۔ ماں نے التجا کی، مگر جب اس کے پاس کچھ نہ نکلا تو انہوں نے اسے مارا، نوچا، اور میری ماں کی عزت پامال کی۔ پھر بے رحمی سے اس کا قتل کر دیا۔ میں نے اس سردار کی شکل الماری کے شگاف سے دیکھی۔ وہ چہرہ میری آنکھوں میں قید ہو گیا، جیسے آگ میں لکھا کوئی نقش۔

سال گزرے، میں یتیمی، غربت اور دکھوں کی آندھیوں سے لڑتا رہا۔ تعلیم میری پناہ گاہ بنی۔ 1997 میں کالج میں داخل ہوا۔ وہیں میری ملاقات عائشہ سے ہوئی۔ عائشہ میری کلاس کی سب سے ہونہار، سب سے خوبصورت اور سب سے معصوم لڑکی تھی۔ محبت ہوئی، سچی اور بے لوث۔ لیکن جیسے میری تقدیر میں آزمائشیں لکھ دی گئی تھیں، ویسے ہی غربت نے ایک بار پھر میرے ہاتھوں سے سب کچھ چھین لیا۔ عائشہ کے خاندان نے میری غربت کو دیکھ کر رشتہ ٹھکرا دیا۔

میں نے ہار نہیں مانی۔ دل میں ماں کا خون، آنکھوں میں انتقام کی آگ، اور دل میں محبت کا درد لے کر CSS کا امتحان دیا۔ میں پاس ہو گیا۔ اب میں کسٹم آفیسر تھا، عزت بھی تھی، اختیار بھی، مگر دل کا زخم اب بھی تازہ تھا۔

ایک دن ڈیوٹی پر اچانک میری ملاقات عائشہ کے والد سے ہوئی۔ وہ ایک درآمداتی کیس میں میرے پاس آئے تھے۔ جب وہ میرے سامنے بیٹھے، میں جیسے پتھر کا ہو گیا۔ میری آنکھیں ان کے چہرے سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ وہی آنکھیں، وہی ابرو، وہی چہرہ۔
یہ وہی چہرہ تھا جسے میں نے الماری کے شگاف سے دیکھا تھا۔
یہ وہی شخص تھا… ماں کا قاتل، میری محبت کا باپ!

میری سانسیں رک گئیں۔ دل کی دھڑکن جیسے چیخ پڑی۔ وقت جیسے منجمد ہو گیا۔ میرا جسم پسینے میں بھیگ گیا، مگر میرے اندر ایک طوفان اٹھا — کیا میں اب بھی خاموش رہوں گا؟ کیا عائشہ کا باپ میرے لیے قاتل ہے یا میری محبت کا محافظ؟
اب فیصلہ مجھے کرنا تھا۔

—

یہ صرف ایک کہانی نہیں، جذبات کا طوفان ہے۔ یہ اس بچے کی داستان ہے جس نے اپنی ماں کو کھو کر دنیا پائی، مگر اس دنیا کے بدلے محبت اور انتقام کے بیچ چُناؤ کرنا پڑا۔

کیا آپ ہوتے تو کیا کرتے؟ انتقام لیتے یا معاف کر دیتے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

ماں کا قاتل، میری محبت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں