212

میں زکوۃ ہوں!

تحریر شئیر کریں

میں تمہیں رمضان المبارک میں یاد دلانے آئی ہوں! میں اسلام کا تیسرا اہم رکن ہوں۔ میرے بغیر اسلام کی عمارت مکمل نہیں ہوتی۔ میں مال کی پاکیزگی، برکت، اور غریبوں کے لیے امید ہوں۔ میں وہ حق ہوں جو اللہ نے تمہارے مال میں رکھا ہے تاکہ تمہاری دولت آزمائش نہ بنے بلکہ تمہارے لیے فلاح اور نجات کا ذریعہ بن جائے۔

لیکن افسوس! کتنے ہی لوگ مجھے بھول چکے ہیں، کتنے ہی مجھے ادا نہیں کرتے! کچھ بخل کرتے ہیں، کچھ غفلت برتتے ہیں، اور کچھ دنیا کی محبت میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ مجھے اہمیت ہی نہیں دیتے۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ جو مجھے ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قرآن و حدیث میں کتنی سخت وعیدیں ہیں؟

میں نہ ہوں تو تمہارے مال کا انجام کیا ہوگا؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔ جس دن اس (سونے چاندی) کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی، (کہا جائے گا:) یہ ہے جو تم اپنے لیے جمع کرتے تھے، پس اپنے جمع کیے ہوئے (مال) کا مزہ چکھو۔”
(سورۃ التوبہ: 34-35)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال عطا کرے اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کے گلے میں طوق بنا دیا جائے گا، جو اسے ڈسے گا اور کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔”
(بخاری: 1403)

میں تمہارے مال کو پاک کرتی ہوں!

میں تمہاری دولت کو پاک اور برکت والا بناتی ہوں۔ اگر تم مجھے ادا کرتے ہو، تو تمہارا مال محفوظ رہتا ہے، تمہارے رزق میں اضافہ ہوتا ہے، اور تمہارے دل میں سکون آتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“زکوۃ مال کو کم نہیں کرتی بلکہ بڑھاتی ہے۔”
(مسلم: 2588)

 میں غرباء اور مساکین کا حق ہوں!

اللہ نے مجھے تمہارے مال میں اس لیے رکھا ہے تاکہ تمہارے بھائی، بہنیں، یتیم، بیوائیں، اور محتاج لوگ بھوکے نہ رہیں۔ جب تم مجھے ادا کرتے ہو، تو تم صرف اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے بلکہ ایک پورے معاشرے کو مضبوط بنا رہے ہو۔

“اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حق تھا۔”
(سورۃ الذاریات: 19)

رمضان میں میری اہمیت

رمضان المبارک کا مہینہ برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب نیکیوں کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ مجھے اس مہینے میں ادا کرنا تمہارے گناہوں کو مٹاتا ہے، تمہارے درجات بلند کرتا ہے، اور تمہیں اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔

کیا تم جانتے ہو کہ صدقہ اور زکوۃ دینے والا قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے میں ہوگا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے اور اسے چھپاتا ہے یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا، وہ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوگا۔”
(بخاری: 1423)

 میں فرض ہوں، مجھے ادا کرو!

اے مسلمانوں! میں زکوۃ ہوں، مجھے ادا کرو تاکہ تم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا مال تمہارے لیے قیامت کے دن بوجھ بن جائے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا، وہ مال قیامت کے دن زہریلے سانپ کی شکل میں اس کے پیچھے لگا دیا جائے گا اور وہ اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔”
(مسلم: 988)

کیا تم مجھے ادا کرو گے؟ یا قیامت کے دن مجھے اپنا دشمن پاؤ گے؟ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے!

میں زکوۃ ہوں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں