کہانی: پانچ منٹ 167

کہانی: پانچ منٹ

تحریر شئیر کریں

کہانی: پانچ منٹ

رات گہری ہو چکی تھی۔
گلی میں آخری بلب بھی مدھم پڑ گیا تھا اور مکان کے اندر خاموشی ایسی تھی جیسے دیواریں بھی سانس روک کر کھڑی ہوں۔

اسے اس کمرے کی چابی آج ہی ملی تھی۔
عارضی قیام تھا، چند دن کا۔
مالک مکان نے جاتے ہوئے بس اتنا کہا تھا:
“اوپر والا کمرہ بند ہے، استعمال مت کیجیے گا۔”

لیکن انسان کی فطرت ہے — جس چیز سے روکا جائے، وہی کھینچتی ہے۔

وہ نیچے اپنے کمرے میں لیٹا تھا کہ اوپر سے ہلکی سی آہٹ سنائی دی۔
کوئی قدم… یا شاید محض وہم۔

اس نے گھڑی دیکھی۔
“صرف پانچ منٹ… دیکھ کر آ جاتا ہوں۔”

یہ وہ جملہ تھا جو اکثر بڑی غلطیوں کی ابتدا بنتا ہے۔

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دل تیز دھڑک رہا تھا۔
ہر قدم کے ساتھ اسے لگ رہا تھا جیسے کوئی دیکھ رہا ہو۔
اوپر والے کمرے کے دروازے کے سامنے پہنچ کر وہ رک گیا۔

دروازہ بند تھا۔
لیکن اندر سے روشنی کی ایک باریک لکیر جھلک رہی تھی۔

“کون ہو سکتا ہے؟”
اس نے خود سے سوال کیا۔
گھر تو خالی تھا۔

ہاتھ بڑھایا…
چابی گھمائی…
دروازہ چرچراتا ہوا کھل گیا۔

اندر کوئی نہیں تھا۔

کمرہ صاف، بستر سلیقے سے لگا ہوا، مگر فضا میں عجیب سا بوجھ۔
اچانک اس کی نظر آئینے پر پڑی۔

آئینے پر چاک سے لکھا تھا:
“ہر دروازہ جو کھل سکتا ہے، تمہارے لیے نہیں ہوتا۔”

اس کا جسم سن ہو گیا۔
یہ تحریر… اس نے تو نہیں لکھی تھی۔

اسی لمحے پیچھے سے آواز آئی:
“آپ کو اوپر نہیں آنا چاہیے تھا۔”

وہ مڑا تو ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا — مالک مکان۔
آنکھوں میں سختی نہیں، افسوس تھا۔

“یہ کمرہ؟” اس نے کپکپاتی آواز میں پوچھا۔

بوڑھا بولا:
“یہ اُن لوگوں کا امتحان ہے جو تجسس کو عقل پر ترجیح دیتے ہیں۔
یہاں کوئی گناہ نہیں ہوتا… مگر نیت بے نقاب ہو جاتی ہے۔”

وہ خاموش ہو گیا۔
اسے احساس ہوا کہ وہ کسی جرم کے لیے نہیں آیا تھا،
مگر حد پار کرنے آیا تھا۔

بوڑھے نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا:
“جو خود کو روک لے، وہی محفوظ رہتا ہے۔
اور جو پانچ منٹ کو معمولی سمجھے… وہی اکثر پچھتاتا ہے۔”

وہ نیچے لوٹا تو دل بھاری تھا، مگر ضمیر ہلکا۔

یہ افسانہ گناہ کا نہیں،
حدود کا ہے۔

اور سبق یہ کہ:
ہر آہٹ خطرہ نہیں،
مگر ہر تجسس ضروری بھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں