"ندا کی قرآن جرنلنگ روشنی بن گئی۔ قسط 45 میں وہ ایک آن لائن کورس کا آغاز کرتی ہے جو دلوں کو جگاتا ہے — قلم کی نوک پر روشنی 240

پہلی اُڑان  قسط 40

تحریر شئیر کریں

پہلی اُڑان  قسط

40 (دوسرا حصہ)

ندا کا نیا مشن: آہِ غزہ سے عمل کی جانب

نداء کا پورا دن اچھا گزرا تھا، مگر رات کو جب سوشل میڈیا پر غزہ کی آخری سسکیاں سنیں، تو وہ بے چین ہو گئی۔ بالکل ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کا اپنا جسم بھی اسی تکلیف میں ہو، جیسے وہ اپنے آپ کو غزہ کے لوگوں کے درد میں شریک سمجھنے لگی ہو۔ ایک لمحے کے لیے، وہ تھوڑی دیر کے لیے رکی، اور پھر ایک حدیث ذہن میں آئی: “مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں، اگر ایک حصہ تکلیف میں ہو، تو پورا جسم تکلیف میں ہوتا ہے۔” نداء کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ کرے گی، کچھ ایسا جو غزہ کے لیے فائدہ مند ہو۔ اس کے دل میں ایک شدید ارادہ بیدار ہوا، اور اس نے ایک مہم شروع کرنے کا ارادہ کیا تاکہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا سکے اور غزہ کے لوگوں کے لیے فنڈ ریزنگ کی جائے۔
نداء امت کی بے کسی اور حکمرانوں کی بے حسی پہ سوچ سوچ کے ہلکان ہو رہی تھی

تاریخ لکھی جائے گی
مصر کے پاس دریائے نیل تھا اور غزہ پیاس سے مر گیا💔
تاریخ لکھی جائے گی کہ
سعودی عرب اور عرب امارات کے پاس تیل کے سمندر تھا اور غزہ کی اسپتالوں اور ایمبولنس کے لیے ایندھن نہیں تھا۔
تاریخ لکھی جائے گی کہ
ترکی اور بحرین اسرائیل کے ساتھ تیل سپلائی کی تجارت کرتے تھے
تاریخ لکھیے گی کہ
مسلمانوں کے پاس 50 لاکھ سے زیادہ فوجی تھے بھاری اسلحہ میزائل جنگی جہاز ایٹم بم تک موجود تھا لیکن غزہ کیلۓ کوئی امداد کو نہ
جا سکا
۔۔۔۔۔۔۔
ندا نے رات بھر نہ صرف رونا بلکہ سوچنا بھی جاری رکھا۔ اُس کا دل غزہ کے بچوں کی چیخوں، عورتوں کے آنسوؤں، اور شہید ہونے والے جوانوں کی تصاویر سے زخمی تھا۔ اُس نے دعا مانگی تھی کہ اللہ اُس سے کچھ ایسا کام لے جس سے وہ ظالم کے خلاف آواز بن سکے۔

صبح اُٹھ کر اُس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے قرآن جرنل میں کل رات کی سوچیں قلم بند کیں۔
“اے میرے رب! مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر جو تیرے دین کی خاطر اٹھتے ہیں، جو بے آوازوں کی آواز بنتے ہیں، جو مظلوموں کا سہارا بنتے ہیں، اور جو ظالم کی معیشت پر ضرب لگاتے ہیں۔”

ندا نے اپنے لیپ ٹاپ پر وہ تصویریں کھولیں جو اس نے رات کو محفوظ کی تھیں:
ایک ماں، جو اپنے بچوں کے لاشے گود میں لیے بیٹھی تھی۔
ایک بچہ، جس کے ہاتھ میں خالی پانی کی بوتل تھی۔
ایک مسجد، جو راکھ کا ڈھیر بن چکی تھی۔

ندا نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا:
اب صرف رونا نہیں، اب بولنا ہے… لوگوں کو جگانا ہے۔

سوشل میڈیا پر پہلا قدم

ندا نے انسٹاگرام اور فیس بک پر ایک سلسلہ شروع کیا:
“غزہ بول رہا ہے – کیا ہم سن رہے ہیں؟”
پہلے دن کی پوسٹ میں اس نے ایک فلسطینی بچے کی تصویر کے ساتھ لکھا:

“میری ماں کہتی تھی: روٹی سے زیادہ غیرت ضروری ہے، کیونکہ بھوکا جسم جی سکتا ہے، لیکن بے ضمیر روح نہیں۔”

اس پوسٹ کے آخر میں اس نے تین کاموں کی اپیل کی:

1. روزانہ صرف 100 روپے غزہ کے متاثرین کے لیے صدقہ کریں۔
2. اسرائیلی مصنوعات کی فہرست پڑھیے، اور بائیکاٹ کا آغاز کیجیے۔
3. کم از کم ایک شخص کو روزانہ فلسطین کی حقیقت سے آگاہ کیجیے۔

عوامی آگاہی مہم

ندا نے گھر میں ایک بلیک بورڈ رکھا، جس پر اس نے لکھا:

“یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم جس معیشت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اُس کے ذریعے ظالم کو فائدہ نہ دیں!”

اس نے کلاس روم، مسجد، محلے کی خواتین کی محفلوں اور اپنی یونیورسٹی کے آن لائن گروپس میں ایک پاورپوائنٹ پریزنٹیشن بنائی:
“بائیکاٹ کیوں؟ اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟”

اس میں اس نے تفصیل سے بتایا:

– کیسے صیہونی مصنوعات کی خریداری اُن کے ہتھیاروں میں پیٹرول ڈالتی ہے؟
– کیسے چند کمپنیز کی کمائی براہِ راست اسرائیلی فوج تک پہنچتی ہے؟
– اور کیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے درخت کاٹ کر اُن کی معاشی طاقت توڑی تھی تاکہ مدینہ میں امن قائم ہو سکے۔

والدین کا ردعمل

ندا کے والد نے پہلی بار غور سے اس کی بات سنی۔
“بیٹا، ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ ایک چاکلیٹ بار یا کوئی مشروب بھی کسی کی لاش کا سبب بن سکتا ہے…”

ندا کی ماں نے دھیرے سے کہا، “بیٹی، تم نے آج ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ آج سے ہمارے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں آئے گی جو ظلم کی کمائی سے بنی ہو۔”

ندا نے کہا،
“امی، اب ہمیں دوسروں کو بھی یہ سمجھانا ہے۔ ایک ایک فرد کا شعور، ایک ایک قطرہ، ایک دن طوفان بن جاتا ہے۔”

اسکولز اور اساتذہ سے رابطہ

ندا نے قریبی اسکولز کے اساتذہ سے رابطہ کیا۔ اس نے ایک presentation دی:

“بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ ہم صرف کتابوں سے نہیں، عمل سے سیکھتے ہیں۔”

اس نے بچوں کے لیے “پینسل فار غزہ” مہم شروع کی:
ہر بچہ اپنی ایک چیز، مثلاً ایک نئی پینسل، نوٹ بک یا اسکول بیگ کا حصہ، فلسطینی بچوں کے لیے صدقہ کرے گا۔

اس کا یہ قدم پورے محلے میں مثال بن گیا۔

دعاؤں اور جذبات کا طوفان

جمعہ کی رات ندا نے اپنی ماں کے ساتھ سورۃ الحشر کی آیات تلاوت کیں، اور پھر دعا کی:

“یا اللہ! ہم کمزور سہی، پر تیرے لیے اٹھے ہیں۔ ہمیں حوصلہ دے، ہمیں شعور دے، اور ہمیں ثابت قدم رکھ۔ یا اللہ، فلسطین کے بچوں کو ماں کی آغوش لوٹا دے، اور ہمیں ان کے آنسو پونچھنے کی توفیق دے۔”

ندا کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، لیکن یہ آنسو کمزوری کے نہیں، ایک نئے عزم کے تھے۔
اس نے قرآن جرنل میں لکھا:

“میں ایک آواز ہوں۔ میں ایک دیا ہوں۔ میں وہ حرف ہوں جو اندھیرے میں روشنی لکھے گا۔”

نتیجہ خیز قدم

ندا نے “قلم کتاب” پر ایک پورا سیکشن بنایا:
“فلسطین: شعور سے عمل تک”

یہاں اُس نے:

– اسرائیلی مصنوعات کی فہرست
– متبادل پاکستانی/مسلم مصنوعات
– قرآن و حدیث سے رہنمائی
– بچوں اور بڑوں کے لیے ویڈیوز
– اور donation کے verified لنکس شائع کیے۔

ندا کی تحریریں، اُس کے ویڈیوز، اور اُس کی سادہ لیکن پُر اثر گفتگو نے بہت سے دلوں کو جھنجھوڑا۔
اب اُسے روزانہ میسجز آنے لگے:

“ندا بہن، آج سے ہم نے بائیکاٹ شروع کر دیا ہے۔”
“ندا آپی، ہم نے 500 روپے فلسطین کے بچوں کے لیے جمع کروائے ہیں۔”
“ندا باجی، ہمیں بھی قرآن جرنلنگ سکھائیں!”

آخری منظر

ندا نے رات کو تکیے کے نیچے قرآن رکھا، اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:

“یا رب، جب غزہ کی سرزمین آزاد ہو، تو میرا نام اُن دعاؤں میں ہو جو وہاں کے بچے پڑھیں۔”

اور پھر اُس نے آنکھیں بند کیں، دل میں ایک سکون کے ساتھ، اور عزم کے ساتھ سو گئی۔

جاری ہے…

پہلی اُڑان  قسط 40

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں