تہہ خانے کی پُراسراریت اپنی جگہ، لیکن وہاں جانے سے پہلے احمد اور ایلا کے درمیان ایک دلچسپ تکرار ہوئی۔ ایلا نے لکڑی کی میز پر پڑے رسی کے ایک گچھے کو اپنی انگلیوں میں مہارت سے لپیٹا اور دیکھتے ہی دیکھتے رسی سے ایک قطبی ریچھ کی شکل بنا دی۔
“اسے اجرارورت (ajurraarurit) کہتے ہیں،” ایلا نے شرارت سے کہا۔ “ہمارے ہاں جب قطبی رات لمبی ہو جائے تو ہم ستاروں کو زمین پر اتارنے کے بجائے رسیوں میں قید کر لیتے ہیں۔ ریسرچر صاحب، کیا آپ کی مشینوں کے پاس ایسی کوئی جادوئی مہارت ہے؟”
احمد نے ہنستے ہوئے رسی تھامنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس کے ہاتھوں میں الجھ کر رہ گئی۔ “ایلا، تمہاری یہ رسیاں میرے میگنیٹومیٹر سے زیادہ پیچیدہ ہیں۔
……
تہہ خانے کی دیوار میں موجود وہ دراڑ اب کسی سائنسی معمہ سے زیادہ ایک قدیم دروازہ معلوم ہو رہی تھی۔ احمد کے ہاتھ میں موجود میگنیٹومیٹر کی اسکرین پر ہندوسے تیزی سے بدل رہے تھے، جو کہ ایک غیر معمولی مقناطیسی انوملی (Magnetic Anomaly) کی نشاندہی کر رہے تھے۔ زمین کی تھرتھراہٹ جسے مقامی لوگ ‘برف کی سسکیاں’ (Shudder of the ice) کہتے ہیں، اب ایک واضح ارتعاش میں بدل چکی تھی۔
احمد نے فون کان سے لگایا، جہاں پروفیسر کی آواز طوفان کی گھن گرج میں ڈوبتی ابھرتی سنائی دے رہی تھی۔ “احمد! میری بات سنو، وہاں زمین کے نیچے مقناطیسی لہروں کا بہاؤ (Geomagnetically induced currents) اس وقت اپنی انتہا پر ہے۔ یہ صرف زلزلہ نہیں ہے، بلکہ آرکٹک کی بڑھتی ہوئی حرارت کی وجہ سے پرمافروسٹ (Permafrost) کی تہیں ٹوٹ رہی ہیں۔ وہ جگہ کسی بھی وقت منہدم ہو سکتی ہے!”
احمد نے ایک گہری سانس لی۔ سامنے دیوار کی دراڑ سے ایک مدھم سی نیلی روشنی جھانک رہی تھی۔ اسے ایلا کے دادا کی وہ ڈائری یاد آئی جس میں اس نے ایک ‘خفیہ شے’ یا Iriqtaq کا ذکر کیا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر یہ مقناطیسی انوملی اتنی طاقتور ہے، تو شاید زمین کے نیچے کوئی ایسی معدنیات یا قدیم ڈھانچہ موجود ہے جو صدیوں سے برف میں دبا ہوا تھا۔
اس نے پیچھے مڑ کر مایا کی طرف دیکھا جو سیڑھیوں پر کھڑی خوف اور حیرت کے ملے جلے جذبات سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“مایا! تمہارے دادا نے جس ‘تہہ خانے’ کا ذکر کیا تھا، وہ دراصل ایک قدیم نیم زیرِ زمین گھر (Semi-subterranean sod house) ہے جو اس جدید مکان کے نیچے دبا ہوا تھا۔ یہ دیوار نہیں، بلکہ ایک قدیم رکاوٹ ہے جسے ہٹانا ضروری ہے۔”
احمد نے اپنا آلہ ایک طرف رکھا اور دیوار کی دراڑ میں ہاتھ ڈال کر ایک وزنی پتھر کو کھینچا۔ جیسے ہی پتھر ہٹا، اسے ایک عجیب سی آواز سنائی دی—ایسا محسوس ہوا جیسے زمین سانس لے رہی ہو (Sound of breathing)۔ یہ وہ آواز تھی جسے انؤپیئک لوگ ‘کائنات کی زندہ توانائی’ قرار دیتے ہیں۔
اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں وہیل مچھلی کی ہڈیوں سے بنے ستون (Whalebone frames) چھت کو سہارا دیے ہوئے تھے۔ کمرے کے بیچوں بیچ ایک قدیم مٹی کا چراغ (Seal-oil lamp) رکھا تھا، جس کے گرد کچھ عجیب و غریب دھاتی ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ احمد نے جب میگنیٹومیٹر ان ٹکڑوں کے قریب کیا تو اس کی ریڈنگ \mathbf{B} \approx 1000 nT سے بھی اوپر چلی گئی۔
”یہ تو ناقابلِ یقین ہے،” احمد بڑبڑایا۔ “یہ ٹکڑے زمین کی مقناطیسی لہروں کو جذب کر رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں برقی آلات کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں (Electromagnetic interference)۔”
اچانک، زمین ایک زوردار جھٹکے سے لرز اٹھائی۔ اوپر سے مٹی اور برف گرنے لگی۔ پروفیسر کی کال کٹ چکی تھی۔
“احمد، باہر نکلو! چھت گرنے والی ہے!” مایا نے چیخ کر کہا۔
احمد نے جلدی سے وہ دھاتی ٹکڑا اور ایلا کے دادا کی ڈائری اٹھائی۔ اس کے ذہن میں ایک طرف سائنسی ڈیٹا تھا جو اسے بھاگنے پر مجبور کر رہا تھا، اور دوسری طرف وہ ایمان کی وہ حرارت تھی جو اسے بتا رہی تھی کہ یہ ‘خوف’ محض ایک امتحان ہے۔ اس نے سوچا کہ اگر یہ مقناطیسی لہریں اسی طرح بڑھتی رہیں تو یہ پوری بستی کے برقی نظام کو تباہ کر دیں گی (Solar storm effects)۔
وہ جیسے ہی سیڑھیوں کی طرف بھاگا، اسے تہہ خانے کے تاریک کونے میں ایک سایہ لہراتا ہوا محسوس ہوا۔ کیا وہ قطبی ریچھ تھا جو دوبارہ واپس آ گیا تھا، یا کوئی ایسی حقیقت جسے سائنس اب تک ‘ٹیبو’ (Taboo یا Agliġnaq) سمجھ کر مسترد کرتی آئی تھی؟۔
Ye be parhey
اسے احساس ہوا کہ Utqiagvik کی اس طویل رات (Polar Night) میں، روشنی صرف آسمان سے نہیں آتی، بلکہ کبھی کبھی وہ زمین کی گہرائیوں سے بھی پھوٹ سکتی ہے۔
اگلی قسط میں:
کیا احمد اس قدیم چیمبر سے زندہ بچ نکلے گا؟ وہ دھاتی ٹکڑا کیا ہے جس نے احمد کے حواس معطل کر دیے ہیں؟ اور کیا ایلا کی محبت احمد کو اس سائنسی جنون سے بچا پائے گی یا اسے مزید اندھیروں میں دھکیل دے گی؟
قسط 7: “اندھیرے کے مکین