203

کوئٹہ کی بتول

تحریر شئیر کریں

ایک سچی داستان

سردیوں کی دھوپ دفتر کی کھڑکی سے چھن کر اندر آ رہی تھی۔ میں حسبِ معمول فائلوں میں الجھا ہوا تھا جب اچانک گارڈ کا فون آیا:

“سر! ایک لڑکی آئی ہے، کہتی ہے کسی سے بھی ملا دو، کوئی کام ہے۔”

میں نے لاپروائی سے کہا، “مصروف ہیں سب، واپس بھیج دو۔”

کچھ دیر بعد، سی سی ٹی وی اسکرین پر نظر پڑی تو دیکھا کہ وہی لڑکی گارڈ روم کے ساتھ زمین پر بیٹھی تھی۔ اس کے جوتے گرد سے اٹے ہوئے تھے، یونیفارم پیلاہٹ مائل تھا، چہرے پر گرمی اور دھول کا اثر نمایاں تھا۔ میں نے گارڈ کو فون کر کے بلوا لیا۔

وہ اندر آئی تو احتراماً اجازت طلب کی۔ میں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا، لیکن وہ کھڑی رہی۔ میں نے گلاس میں پانی بھرا اور اس کی طرف بڑھایا۔ وہ جلدی سے پی گئی، جیسے پیاس سے بے حال ہو۔

“جی بیٹا! کیوں فساد کر رہی ہیں؟” میں نے ہلکی مسکراہٹ سے پوچھا۔

“سر! میں پڑھنا چاہتی ہوں، لیکن بابا کے پاس پیسے نہیں۔ کوئی این جی او ہوگی جو میری فیس دے سکے؟”

میں نے حیرانی سے اس کے عزم کو دیکھا۔ ایسے تو بہت سے طلبہ مدد کے لیے آتے تھے، مگر اس لڑکی کی آنکھوں میں ایک الگ روشنی تھی۔

“بیٹا، ہر این جی او ایسا نہیں کرتی، لیکن کیوں؟ کیا مسئلہ ہے؟”

“مجھے اپنا BBA مکمل کرنا ہے اور پھر MBA بھی! میں نے یونیورسٹی کی اسکالرشپ کے لیے کوشش کی، لیکن ٹیوشن پڑھانے کا وقت نہیں تھا، کتابیں نہیں خرید سکتی، تو اچھے نمبر کہاں سے آئیں گے؟”

یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی تھی جو ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔ میں نے اسے چائے کی پیشکش کی۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگی، اور جب چائے آئی تو جیسے کسی نے اسے کئی دن بعد کھانے کو کچھ دیا ہو۔

“کل اپنے والد کو لے کر آنا، ہم تمہاری مدد کریں گے۔”

اس کی آنکھوں میں امید کے چراغ جل اٹھے۔

—

اگلے دن وہ اپنے والد کے ساتھ آئی۔ ایک سلجھا ہوا شخص، لیکن تھکن اور وقت کی مار اس کے چہرے پر واضح تھی۔

“میں AG آفس میں تھا، لیکن جلد ریٹائرمنٹ لے لی۔ بیٹوں کو جیسے تیسے پڑھا دیا، مگر اب بیٹی کے لیے کچھ نہیں بچا۔”

اس شخص کے لہجے میں بے بسی تھی، لیکن بیٹی کے عزم میں کوئی کمی نہیں تھی۔ میں نے تسلی دی، “آپ اس کی تعلیم کی فکر نہ کریں۔”

جب وہ چلے گئے، تو میں نے اپنی سیکرٹری کو فیس ادا کرنے کی ہدایت کی۔

—

وقت گزرتا گیا، بتول کی فیس جاتی رہی۔ ایک دن وہ پریشان حال میرے دفتر آئی۔

“سر، بابا لاہور جا رہے ہیں، میں یہاں رہنا چاہتی ہوں، لیکن ہاسٹل کے پیسے نہیں ہیں۔ کیا آپ دے سکیں گے؟”

میں مسکرایا، “ایک شرط پر، جب نوکری لگے تو میری ساری رقم کسی اور کو دے دینا۔”

اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں، “وعدہ!”

—

کچھ سال بعد، ایک دن اس کی کال آئی،

“سر! میرا انٹرویو ٹی وی پر آ رہا ہے، میں نے گولڈ میڈل لے لیا!”

میں خوش ہو گیا، اسے مبارکباد دی۔

پھر ایک دن خبر آئی، اس کی شادی ہو گئی۔ لیکن قسمت کے کھیل عجیب ہوتے ہیں۔ چند ماہ بعد کراچی میں ڈاکوؤں نے اس کے شوہر کو قتل کر دیا۔ وہ 25 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی۔

—

پندرہ سال گزر گئے۔ ایک دن برطانیہ سے واٹس ایپ کال آئی۔

“سر! پہچانا؟ میں بتول!”

میں حیران رہ گیا۔

“سر! میں انگلینڈ میں دنیا کی پانچویں بڑی IT کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر ہوں، میری ایک بیٹی بھی ہے۔ آپ کو یاد ہے، آپ نے کہا تھا جب پیسے آئیں تو کسی اور کی مدد کرنا؟”

میں خاموش رہا۔

“سر! میں نے ایک نہیں، پانچ طلبہ کی تعلیم مکمل کروائی!”

میری آنکھوں میں عجیب سی خوشی اور آنسوؤں کی نمی تھی۔

“لیکن سر! اب مجھے برین ہیمرج ہو گیا ہے، دعا کریں کہ میں صحت مند ہو جاؤں۔”

میں نے دل سے دعا دی،

“بیٹا، تم روشنی کا استعارہ ہو، اللہ تمہیں سلامت رکھے!”

—

یہ کہانی کسی ایک بتول کی نہیں، بلکہ ہر اس بچی کی ہے جو ہار ماننے سے انکار کرتی ہے۔ اگر ہم کسی ایک شمع کو روشن کریں، تو وہ آگے چل کر کئی چراغ جلا سکتی ہے۔

یا اللہ! ہمیں بھی کسی بتول کے لیے روشنی کا ذریعہ بنا دے۔

کوئٹہ کی بتول

(ختم شد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں