سوتیلا باپ

میری بیٹی کا سوتیلا باپ ابتدا میں بہت مہربان لگتا تھا۔ وہ خود روز اسکول چھوڑنے اور لینے جاتا، راستے میں کبھی آئس کریم دلاتا، کبھی چھوٹے چھوٹے تحائف لے آتا، اور ہمیشہ یہی جملہ دہراتا: “بیٹا ہے، میری ذمہ داری ہے۔” لوگ بھی کہتے، “اللہ نے نعمت دی ہے، ہر کسی کو ایسا شوہر نہیں ملتا۔” مگر ماں کے دل کو یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں لگتا تھا۔ مجھے ہمیشہ اُس کی شفقت پر شک رہتا، ایک غیر مرئی خوف تھا جو ہر لمحہ میرے دل میں چھپا رہتا۔
شروع میں بیٹی خوش اور فعال لگتی تھی، مگر چند دن کے بعد چھوٹے اشارے نظر آنے لگے۔ وہ پہلے کی طرح ہنستی نہ تھی، رات کو اچانک جاگ کر روتی تھی، اور صبح دیر سے اسکول جاتی۔ میں نے پوچھا تو بس یہی جواب ملتا: “امی، نیند پوری نہیں ہوتی۔” مگر ماں کا دل جانتا تھا کہ کچھ تو غلط ہے۔ پھر ایک دن اسکول سے فون آیا، اور ٹیچر کی سنجیدہ آواز نے میرے دل میں دہشت بھر دی: “آپ کی بیٹی کچھ دنوں سے روزانہ دیر سے آ رہی ہے، کلاس میں بے ہوشی کی حالت میں رہتی ہے، کل آپ ضرور اسکول آئیں، مجھے آپ کو کچھ دکھانا ہے۔”
اگلے دن، میں پریشانی میں اسکول پہنچی۔ ٹیچر نے مجھے الماری کی طرف لے جایا، اور ایک چھوٹا سا لفافہ نکال کر دکھایا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور آنکھوں کے سامنے سب کچھ دھندلا سا تھا۔ لفافہ کھولا تو وہ خطرناک نیند آور دوائیں تھیں، جو میری بیٹی کے بیگ میں چھپائی گئی تھیں۔ پتہ چلا کہ وہ شخص جو گھر میں مہربان نظر آتا تھا، دراصل میری بیٹی کو نقصان پہنچا رہا تھا۔ میرے خون کے رگوں میں ایک دم آگ لگ گئی، مگر میں نے جذبات پر قابو پایا، اور فیصلہ کیا کہ قانون کے ہاتھ میں جائیں گی۔
میں نے اسکول کی رپورٹ، ٹیچر کے بیان اور میڈیکل رپورٹ لے کر عدالت پہنچی۔ بیٹی کو بھی ساتھ لے گئی، تاکہ وہ اپنی کہانی بیان کرے۔ عدالت میں وہ شخص خاموش تھا، جو گھر میں بہت بولتا اور مہربان بنتا تھا، اب صرف نظریں جھکا کر بیٹھا تھا۔ جج نے سوال کیا، “کیا آپ کے پاس بیٹی کو یہ دوا دینے کا کوئی جواز ہے؟” اُس کی کوئی معقول وضاحت نہ تھی۔ گواہیاں مکمل ہوئیں، اور آخرکار عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔ جرم ثابت ہوا، اور وہ شخص سزا کے لیے مجاز ٹھہرا۔
اس کے بعد میں نے اپنی بیٹی کو محفوظ ماحول فراہم کیا۔ نئے اسکول، نیا ماحول، اور سب سے بڑھ کر، اب وہ بغیر خوف کے زندگی گزار رہی ہے۔ وہ اب کم بولتی ہے، مگر ڈرتی نہیں۔ یہ واقعہ مجھے اور ہر والدین کو سبق دیتا ہے کہ بچوں کے رویے، چھوٹے اشارے اور خاموش شک کو کبھی نظرانداز نہ کریں۔ قرآن اور حدیث میں واضح ہے کہ بچے اللہ کی امانت ہیں، امانت میں خیانت کرنے والے کو سخت سزا ملتی ہے، مظلوم کی دعا اللہ کے نزدیک کبھی ضائع نہیں ہوتی، اور والدین کو ہمیشہ ہوشیار، محتاط اور بچوں کی حفاظت کے لیے فعال رہنا چاہیے۔ کیونکہ خاموشی کبھی حفاظت نہیں بنتی، اور سچ آخرکار اللہ کے اذن سے سامنے آ ہی جاتا ہے۔
—