اب نہیں تو کب پلٹیں گے؟پڑھیے قلم کتاب پر دلوں کو نرم کرنے والے سچے واقعات
آج ایک عام ساواقعہ ہوا تھا پر بہت کچھ سمجھا گیا،ہوا کچھ یوں میں عصر کی نمازپڑھ رہی تھی جب بریرہ اٹھی،اٹھتے ہی وہ میری طرف لپکی اور میری گود میں آ کر لیٹ گئی ،میں تب تک سلام پھیر چکی تھی۔میری سوچ کے دھارے بہنے لگے اور میں بچے اور ممتا کی بے قراری کا سوچنے لگ گئی کہ کیسا انمول رشتہ ہے بچے کو ہمیشہ ماں کی گود میں آ کر ہی سکون ملتا ہے۔لکھتے ہوئے اپنا لڑکپن یا د آرہا جب امی کہیں چلی جاتی تو تب تک سکون نہیں آتا تھا جب تک وہ واپس نا پلٹ آتیں،آج بھی جہاں وہ بیٹھی ہوں سب اسی جگہ بیٹھیں گے،بلاشبہ یہ بے قراری یاللہ کی طرف سے ہمارے اندر رکھ دی گئی ہے۔جدید سائنس بھی اس کو تسلیم کر چکی ہے کہ پریشانی اور اضطراب میں ماں کی آواز ہی ریلیکس کرنے کو کافی ہے۔
ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا
سوچ کے دھارے بہتے بہتے جھرنوں میں تبدیل ہونے لگے تھے،میں ابھی تک جائے نماز پہ تھی اور بریرہ میری گود میں،بے ساختہ ستر ماؤں سے زیادہ شفیق ہستی کا خیال آیا جب ایک ماں سے دوری برداشت نہیں ہوتی سو کر اٹھنے کے بعد بچہ ماں ہی کو ڈھونڈتا ،تو کیا اس ہم اس رب کی طرف بھی ایسے ہی دوڑتے ہیں؟جیسا کہ بچہ ماں کی طرف جبکہ اس کی محبت تو ستر گنا زیادہ ہے۔۔۔۔جواب یقینا نفی میں تھا۔
نماز سے سکون حاصل کریں؟
الحمدللہ بچپن سے نماز میری واحد ریلیکسیشن ہے جب تک نا پڑھوں چین نہیں آتا،ایک آدھ نماز رہ بھی جائے تو اتنی بے چینی محسوس ہوتی ہے کہ ہر چیز بری لگتی،اور ایسے میں نماز پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسےسخت حبس زیادہ موسم میں ٹھندی ہو اچلنے لگے اور بہتےپانی میں جلترنگ بج اٹھے ہوں،بہت بار سوچتی کہ جو لوگ بے نمازی ہیں سالوں سجدے کی توفیق نہیں ملتی وہ کیسے خوش رہ لیتے ہیں؟اللہ ہمیں ایسی بے قراری سے نوازے کے ہم اس کے در پہ ویسے جائیں جیسے بے قرار بچہ ماں کی آغوش میں سکون پاتا ہے،وہ رب دو جہاں تو ہ روقت اپنے رحمت کی آغوش اپنے بندوں کے لئے کھولے رکھتا ہے کہ کب کوئی بے قرار پلٹ کے آتا ہے۔
نماز میں سستی نا کریں
بھٹکے ہوئے سے صرف اتنا کہنا ہے کہ نماز میں سستی نا کریں،تھوڑا نہیں بہت زیادہ سوچیں،اسکی محبت کے جھرنے پھوٹ رہے ہیں حج کے ایام آنے والے ہیں،پلٹ آئیے وہ آپکی سوچ سے بھی زیادہ رحیم ہے نجانے کب سے آپکا منتظر ہے،پلٹ آئیے،اب نہیں تو کب پلٹیں گے؟ساری دنیا دھتکار دے مگر وہ کبھی نہیں دھتکارے گا۔آزما کر دیکھ لیں۔پھر کہہ رہی ہوں اب نہیں تو کب پلٹیں گے؟