681

استخارہ کب اور کیسے کریں؟

تحریر شئیر کریں

استخارہ کب اور کیسے کریں؟ایک اہم معلوماتی تحریر

استخارہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔آپ ﷺ کو جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ ﷺ خوب سوچا بیچار کرتے اور اس کے بعد معاملہ اللہ کے سپرد کر کے مطمئن ہو جاتے۔
استخارے کا لفظی مطلب ہے”اللہ سے خیر طلب کرنا”
آپ ﷺ کی سنت مطہرہ تھی کہ جب بچے کو نماز سکھائی جاتی تو اس کے ساتھ ہی دعاۓ استخارہ بھی سکھائی جاتی تھی۔گویا نماز کی طرح دعاۓ استخارہ بھی ایک ضروری اور اہم معاملہ ہے جس سے روگردانی نہیں کرنی چاہیے۔کیونکہ بندہ مومن کا کوئی بھی کام اللہ کی خیر کے بغیر نہیں ہوتا۔دعا استخارہ سراپاۓ خیر ہے۔جب بندہ کسی معاملے میں استخارہ کرتا ہے تو اللہ کے نزدیک جس کام میں بہتری ہوتی وہ بخیروعافیت ہو جاتا

استخارہ کرنا غیب جاننا نہیں
بلکہ
خیر مانگنا ہے ۔

۔

استخارہ کیسے کیا جاۓ؟

مسنون دعا ہے جو دعاۓ استخارہ کے نام سے مشہور ہے۔اس دعا کو پڑھنے کا کوئی خاص وقت نہیں کسی بھی وقت د ورکعت نماز ادا کرے اور دعاۓ استخارہ پڑھیں۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ استخارہ کرنا خوش بختی کی علامت ہے اور اس سے محرومی بدبختی اور بدنصیبی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ معاملہ جو بھی ہو اس کو دل سے قبول کرنا بھی استخارے کا جزو ہے ۔اگرچہ وہ ہماری خواہش اور منشاء کے الٹ ہی کیوں نا ہو۔کیونکہ مومن ہمیشہ اللہ کے فیصلوں پہ راضی رہتا ہے۔دعاۓ استخارہ یاد کر کے اسے سمجھ کے ضرور پڑھیں۔


استخارے کے لیے کچھ چیزیں بہت اہم ہیں۔وہ یہ کہ استخارہ کرنے والے کا اللہ کی ذات پہ یقین کامل ہونا چاہیے کہ وہ جو بھی کرے گا اسی میں بہتری ہے۔بارہا ایسا ہوتا ہے وقتی طور پہ ہونے والا کام بظاہر نقصان لگ رہا ہوتا ہے مگر کچھ عرصہ بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ کام یہی ہونا چاہیے تھا۔اسی میں خیر تھی۔یقین وہ ہتھیار ہے جو اللہ کا بندے سے مطلوب ہے۔اللہ چاہتا ہے کہ میرا بندہ میرے سے اچھا گمان رکھے اور کبھی بدگمان نا ہو۔اور اس چیز کی سپر لیٹو ڈگری ام الیقین ہے۔جو یقین کی جڑ ہے۔


یقین کے بعد توکل ہے۔توکل یہ ہے کہ انسان جب معاملہ اللہ کے سپرد کر دے تو خود بیچ میں سے نکل جاۓ۔میری سوچ میری راۓ میری خواہش یہ سب ثانوی باتیں ہیں۔جب ایک بار توکل کر لیا تو پھر بیچ میں سے نکل جاؤ۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ ہم بیچ میں سے نہیں نکلتے۔یہی ہماری پریشانی اور ڈپریشن کا سبب ہے۔جو لوگ اللہ پہ پختہ یقین رکھتے ہیں۔اور اسی پہ توکل کرتے ہیں۔اللہ ا نھیں وہاں سے نوازتا ہے جہاں سے وہ یقین بھی نہیں رکھتے۔یقین اور توکل وہ ہتھیار ہے جو مومن کو کبھی ناکام نہیں ہونے دیتے۔است خارہ کر کے بندہ مومن اللہ سے مشورہ طلب ضرور کرتا ہے مگر اصل میں وہ معاملہ اللہ کے سپرد کر کے بے نیاز ہو جاتا ہے کہ اب تو جانے اور تیرا کام۔

استخارہ کب کیا جاۓ؟

جدید سائکالوجی کسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے سے پہلے کچھ معاملات پہ زور دیتی ہے اور اس کا بہت اچھا نتیجہ بھی نکلتا ہے۔وہ یہ کہ جب کوئی معاملہ در پیش ہو تو کاپی پینسل لے کر جتنی آپشن درکار ہوں وہ لکھتے جائیں۔پھر ہر آپشن کے فائدے اور نقصان لکھیں۔اگر فائدے زیادہ ہوں تو وہ کام کر لیا جاۓ اور اگر نقصان زیادہ تو نا کیا جاۓ۔اسلامک سائیکالوجی کے ماننے والوں کا کہنا ہے اس پیپر ورک کے بعد استخارہ کیا جاۓ اور معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جاۓ۔بڑی ہی خوبصورت بات جو اشفاق احمد کہا کرتے تھے وہ یہ کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ ہم پریشان کیوں ہیں؟کہنے لگے اپنے مسائل کو ایک تصوراتی پوٹلی میں باندھیں اور رات سونے سے پہلے اس پوٹلی کو اللہ کے حوالے کر دیں کہ تو اسے حل کر دیں۔معاملہ تب خراب ہوتا ہے جب ہم مسائل خود اہنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔

استخارہ کب اور کیسے کریں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں