انوکھی بیماری ایک کہانی ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا وہ ناسور ہے جو نوجوان۔نسل کو دن۔دبدن کھاے جا رہا ہے۔
✒️ام محمد سلمان
” اماں! یہ دیکھیں ذرا ! شرمین کا تازہ تازہ اسٹیٹس!! یہ لوگ آج پھر کہیں گھومنے پھرنے گئے ہوئے ہیں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی تو واٹر پارک گئے تھے، وہاں کی تصویریں لگا رکھی تھیں اسٹیٹس پہ۔ دو دن پہلے کسی بڑے ہوٹل میں ڈنر کرنے گئے تھے تو وہاں کی تصویریں اور ویڈیو لگا رکھی تھیں اور اب یہ دیکھیں کیسی خوب صورت ہری بھری جگہ ہے، کتنا حسین آبشار ہے پس منظر میں۔ ندا نے موبائل اسکرین اپنی اماں کے سامنے کی۔ آئے دن کہیں نہ کہیں جاتے رہتے ہیں یہ لوگ! اور اسٹیٹس لگا لگا کے ہمارا جی جلاتے رہتے ہیں۔ دنیا میں سب لوگ گھومتے پھرتے رہتے ہیں اماں! ایک بس ہمارے ابا جان ہیں جنھیں ہر چیز پر اعتراض ہوتا ہے۔ کہیں بھی نہیں جانے دیتے نہ خود کہیں لے کر جاتے ہیں۔“
”لوگوں کی طرف نظر نہ کیا کرو بیٹی! اللہ تعالیٰ نے انھیں دولت اور خوشحالی دی ہے تو عیش کرتے پھرتے ہیں۔ امیروں کا زیادہ تر یہی چلن ہوتا ہے۔ ان کی طرف دیکھو گی تو اپنی زندگی جہنم بنا لو گی۔ اپنے حال میں خوش رہنا سیکھو ندا بیٹی! یہ تو اللہ کی تقسیم ہے کسی کو زیادہ دے، کسی کو کم۔“
”اماں! یہ بات نہیں ہے۔ ہم اپنے حال احوال میں الحمد للہ بہت خوش رہتے ہیں۔ لیکن پھر اس طرح کی چیزوں پر نظر پڑتی ہے تو دل میں عجیب محرومیاں سر اٹھانے لگتی ہیں۔ دل بہت اداس اور دکھی سا ہو جاتا ہے اماں!!” وہ نہایت افسردہ ہوئی۔
”بس بیٹی زیادہ نہ سوچا کرو.“
”کیوں نہ سوچوں اماں! اور میری بات غلط کب ہے بھلا… اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو زیادہ دیا ہے تو یہ کب کہا کہ اس طرح سے دنیا کو دکھاؤ اور ان کے سوئے ارمان جگاؤ۔ اللہ نے دولت اور خوشحالی دی ہے تو اس کا شکر ادا کریں، کھائیں پیئیں عیش کریں اور اپنے کام سے کام رکھیں… اس طرح سے ہمارا دل کیوں جلاتے پھرتے ہیں!!“ ندا کو سخت اعتراض تھا ۔
”اوہو!! تم کیوں لوگوں کے اسٹیٹس دیکھتی پھرتی ہو ندا؟ تمہیں اور کوئی کام نہیں! ہم نے تمہیں موبائل اس لیے تو لے کر نہیں دیا تھا۔“
اماں نے ناگواری سے کہا۔
”اماں بات صرف اسٹیٹس دیکھنے کی نہیں ہے. فیس بک کھولو تو وہاں بھی یہی بازار گرم رہتا ہے۔ کس نے کیا کھایا، کیا پکایا، کیا شاپنگ کی، کیسے کپڑے خریدے، کیسا ہینڈ بیگ لیا، دوستوں نے کیا تحفے دیے، کس نے کس کے لیے کون سے ملک اور شہر سے کیا سوغات بھجوائی ہے، سب کچھ فیس بک پر لگا رکھا ہوتا ہے۔ اور لوگ ندیدوں کی طرح ایسے کمنٹ کررہے ہوتے ہیں گویا تعریفیں کر کر کے ہی یہ سب کچھ بٹور لیں گے۔
آخر اس سب کا کیا مقصد ہے اماں؟؟؟
اور اس دن کی بات بتاؤں جب آپ نے دوپہر کے کھانے میں بھنڈی بنائی تھیں اور میرا بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا کھانے کے لیے… ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ چلو تھوڑا بہت اچار ساتھ لے کر بیٹھ جاتی ہوں تو کھانا کھانے میں مزہ آ جائے گا کہ اتنے میں کلاس فیلو رملہ کا میسج آیا کہ ٹیچر نے امتحان کی ڈیٹ شیٹ اسٹیٹس پہ لگا رکھی ہے. دیکھو جلدی سے۔
میں دیکھنے لگی تھی کہ بڑے تایا کی فرزانہ کا اسٹیٹس سامنے آگیا… اماں! بس کیا بتاؤں کیا گرما گرم بھاپ اڑاتی بریانی کی تصویر تھی اور اس کا ہاتھ…
اور اس کے بعد ایک اور اسٹیٹس تھا جس پہ ایک خوش نما پیزے کی تصویر لگی تھی۔ دیکھتے ہی منہ میں پانی بھر آیا.. اب آپ خود ہی بتائیں ایسے میں بھنڈی کی سبزی کیسے اچھی لگ سکتی ہے بھلا! مت پوچھیں کیسے دل مار کے کھانا کھایا تھا میں نے اس دن۔
جانے لوگوں کو یہ انوکھی بیماری کیوں لگ گئی ہے دوسروں کو اپنی نعمتیں دکھانے اور داد وصول کرنے کی….
اماں! یہ ساری چیزیں صرف میرا ہی نہیں بہت سارے لوگوں کا دل جلاتی ہیں۔
احساس محرومی میں مبتلا کرتی ہیں۔ حرص و ہوس کو پروان چڑھاتی ہیں۔ عائشہ میری کلاس فیلو بتا رہی تھی کہ اس کا بھائی تو اسٹیٹس دیکھ دیکھ کے ہم سب کا جینا حرام کیے رکھتا ہے. اچھا بھلا گھر میں سکون سے بیٹھا ہوتا ہے کہ دوستوں کی نت نئی چیزیں کبھی کھلونے، کبھی جوتے، کبھی بالوں کا اسٹائل کبھی نئی سائیکل دیکھ دیکھ کر جنونی سا ہو جاتا ہے۔ اس دن تو حد ہی کر دی اور غصے میں آ کر چیزیں توڑ پھوڑ کرنا شروع کر دیں۔ پھر ان کے ابو نے خوب مرمت کی۔ لیکن عائشہ بہت پریشان تھی، بہت دکھی ہو رہی تھی بھائی کی اس حالت پہ! اور سچ بتاؤں اماں! وہ تو باقاعدہ بد دعائیں دینے لگی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان سب کا بھی ایسے ہی جینا حرام کرے جیسے ان لوگوں نے ہمارا کر رکھا ہے۔ اللہ کرے کوڑی کوڑی کو محتاج ہو جائیں، پائی پائی کو ترسیں۔ سارے عیش بھول جائیں۔“
”اللہ اکبر!! توبہ توبہ! کیوں کسی کو بد دعائیں دیتے ہو بیٹا۔ خدا سب کا بھلا کرے سب کی خیر ہو۔ توبہ استغفراللہ! تم نے تو میرا دل ہی دہلا دیا۔“ ندا کی سیدھی سادھی اماں ان کے متوقع انجام پر ہی دل تھام کر رہ گئیں۔
”کیا ان لوگوں کی بھی خیر ہو جنھوں نے معاشرے میں ایسی بد امنی پھیلا رکھی ہے؟(ندا نے”ایسی بد امنی“ پر خصوصی زور دیا۔)
”اماں آپ نہیں سمجھ رہیں ہمارے جذبات کو۔ آگ لگ رہی ہے تن بدن میں۔ اور کنزی بتا رہی تھی کہ پرسوں اس کے بھائی اور بھابھی میں خوب لڑائی ہوئی ہے۔ وجہ یہ بنی کہ کنزی کی بھابھی کی سہیلی کو اس کے میاں نے شادی کی سالگرہ پہ ایک خوب صورت سونے کی چین تحفے میں دی اور انھوں نے کیک سمیت چین کی تصویر بھی اسٹیٹس پہ لگا دی اور دو تین خوب خوشی اور اتراہٹ والے اسٹیکر بھی ساتھ لگا دیے۔ کنزی کی بھابھی نے دیکھا تو دوست کو تو بہت پیار سے مبارک باد دی اور شوہر کے سامنے خوب جلے دل کے پھپھولے پھوڑے… پہلے تو میاں کو ہی برا بھلا کہتی رہیں کہ وہ ان کے لیے کچھ نہیں کرتے، کبھی کوئی قیمتی تحفہ نہیں لا کر دیتے اور جب بھائی نے اس بد کلامی پر ڈانٹا تو بیٹھ کر رونے لگیں اور جب رونے سے بھی دل ٹھنڈا نہیں ہوا تو خوب کوسنے دیے اپنی سہیلی کو…“
ندا بہت غصے میں تھی شدت جذبات سے آواز رندھ گئی۔
”میری بچی صبر کرو…! یوں غصے میں تن فن کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ نہ ہی کسی کو بد دعا دینی اچھی بات ہے ۔
بس ایک بات یاد رکھو کہ پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ دنیا کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے نیچے والوں پر نظر رکھو۔ اس سے ان نعمتوں کی ناقدری سے بچو گے جو تمہارے اوپر ہیں رب کی، اور شکر گزاری کا احساس پیدا ہو گا۔
حدیث پاک میں ہے: ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس بندے پر رحم فرماتا ہے جس نے دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور اُس کا شکر بجا لایا اور اُس آدمی پر بھی رحم فرماتا ہے جس نے دِین کے معاملے میں اپنے سے بلند کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور عبادت میں بھرپور کوشش کی ۔“
یہ بھی پڑھیے
سکون کہاں کھو گیا؟
اور اس کے علاوہ ایک قیمتی نسخہ بتاتی ہوں جس سے حسد جیسی بیماری سے بھی نجات ملے گی۔ اور وہ یہ کہ جب بھی کسی پر کوئی نعمت دیکھو ناں! تو بجائے دل جلانے کے وہ نعمت اللہ سے اپنے لیے مانگ لیا کرو۔ اے اللہ! آپ نے فلاں کو یہ نعمت دی، مجھے بھی عطا فرما دیجیے۔
اس سے تمہارے دل کو سکون بھی ملے گا حسد اور جلن کی کیفیت ختم ہوگی اور دعا مانگنے کی وجہ سے ثواب الگ ملے گا اور کیا خبر کہ دعا اور صبر کی وجہ سے اللہ پاک اس سے بھی بہتر چیز تمہیں دے دے۔ اللہ کے خزانوں میں تو کوئی کمی نہیں۔“
اماں نے بڑے رسان سے سمجھایا.
”وہ تو آپ کی بات ٹھیک ہے اماں! آئندہ میں ایسے ہی کروں گی ان شاء اللہ! لیکن لوگوں کو بھی تو سوچنا چاہیے ناں کہ دوسروں کے ایمان کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ اماں ان لوگوں کو ڈر نہیں لگتا کسی دن کسی دکھی دل کی ہائے لگ گئی تو؟
آخر وہ کون سی ایسی خوشی ہے جو لوگوں کو بے سکون کر کے ہی ملتی ہے!
لوگ آخر سمجھتے کیوں نہیں کہ ایک چیز، ایک نعمت، ایک خوشی جو آپ کو ملی ہے اور دوسروں کو حاصل نہیں ہے تو جب آپ اس چیز کا اشتہار لگائیں گے تو کیا محسوس کریں گے دوسرے لوگ؟
کبھی سوچتے کیوں نہیں اماں!! لوگ آخر کیوں نہیں سوچتے کہ یہ دکھاوا اور نمائش انھیں جہنم کے کن دردناک گڑھوں میں گرا سکتی ہے!
لوگ آخر سوچتے کیوں نہیں؟
کسی کے دکھوں کی وجہ کیوں بنتے ہیں؟ کیوں کسی کے دل پر چھریاں چلاتے ہیں؟ کیوں کسی کے احساسِ محرومی کو جگا کے اس کی ہنستی بستی زندگی میں آگ لگاتے ہیں؟
کیوں؟؟
آخر کیوں؟؟؟”
انوکھی بیمادی آپ نے پڑھی۔اسے اپنے تک محدود نا۔رکھیں بلکہ آگے بھی پھیلائیں۔شکریہ