605

سکون کہاں کھو گیا؟

تحریر شئیر کریں

جدید دور کے انسان کی حقیقت آشکار کرتی ایک انمول تحریر

بے چینی اضطراب اس دور کے وہ الفاظ ہیں جو ہر خاص و عام کی زبان پر عام ہیں۔زندگی کے حقائق سے فرار اور بڑھتی ہو ئی مادیت پرستی اور میڈیا کی یلغار نے لوگوں سے ان کا سکھ چین چرا لیا ہے۔زندگی آسان تو کبھی بھی نہیں تھی۔مگر مشکوں کے ساتھ آسانیوں کا وعدہ اس پروردگار نے کیا ہے۔مگر ان وعدوں کو پڑھنے اور ان پر غور کرنے کا وقت کہاں ؟

مشکلیں اضطراب کا باعث نہیں ہوتیں جتنی آسانیاں بن رہیں ہیں۔یقین نا آۓ تو تحقیقی کر کے دیکھ لیں۔جت ی سہولتیں اور آسانیاں آج کے انسان کو میسر ییں آج سے بیس سال پہلے معاملات یکسر مختلف تھے۔تو پھر بگاڑ کہاں سے آیا؟

چیلنجنگ زون سے نکل کر کمفرٹ زون میں آنا یہی سے مسائل شروع ہوۓ ہیں۔اللہ رب العزت نے کہہ دیا کہ مومن کبھی تن آسان نہیں ہوتا تو سوال یہ ہے کہ مومن کون ہوتا ہے؟کیا ہم مومن ہیں؟یا نام نہاد مسلمان جنہوں نے رسما کلمہ طیبہ پڑھ کر اقرار کیا ہوا ہے۔جبکہ ایمان ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا۔

مومن وہ ہوتا ہے جو اللہ کی مانتا ہے اس کے احکامات کو پڑھتا اور اسے اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے۔جبکہ آج کے مسلمان کے پاس کتاب اللہ پڑھنے کی بھی فرصت نہیں۔پچھلے دنوں میں بہت مضطرب رہی سوچا ایسا کیوں ہے کہ ہمارے گھر ہمارے لیے سکون کا باعث نہیں رہے۔دل چاہتا گھر سے دور چلیں جائیں۔تو ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کا فرمان یاد آیا۔
“جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا وہ قبرستان کی طرح ہے۔”مطلب اجاڑ اور بیبان جہاں زندوں کا گزارا نہیں ہوتا۔ہمارے گھروں سے قرآن کی آوازیں آنا بند یو گئیں ہیں جبکہ میوزک کی آوزیں بلند ہورہیں ہیں میوزک جو شیطان کی آزان ہے اور جس کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا “میں آلات موسیقی توڑنے کے لیے بھیجا گیا ہوں”

بہت سوچنے کے بعد اللہ نے بتا دیا کہ گھروں کا سکھ چین کہاں کھو گیا ہے۔مگر بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی۔بگاڑ کا پتہ چل جانا اہم ہے مگر اہم تر اس بگاڑ کو دور کرنا ہے جو ہماری زندگیوں میں پیدا ہو چکا ہے۔اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے گھروں میں پھر سے قرآن کی آوازوں سے مزین کر کے اس آباد کر سکیں اپنے لیے نا سہی اپنی نسلوں کے لیے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں