برج الٹنے کو ہیں۔ایک نایاب کالم جو آپ کو جھنجھوڑ کے رکھ دے گا۔
رات ایک واقعہ پڑھا جس سے اپنی کم مائیگی اور سنگین غلطی کا احساس ہوا۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ جنید جمشید کسی مدرسے میں مدعو تھے۔اور تقریب کے آخر میں اظہار خیال کے لیے بلایا گیا۔تو جس بات نے پورے مدرسے میں تھرتھلی مچادی اور تقریب کے شرکاء سمیت سبھی زاروقطار بہہ نکلے وہ جنید جمشید مرحوم کے الفاظ تھے جو دین کے تعلیم یافتگان کے لیے لمحہ فکریہ ہی نہیں تازیانہ بھی ہیں۔مجھے تو کوڑے کی طرح اپنے اوپر برستے دکھائی دے رہے ہیں۔الفاظ ہیں کہ اگر تم لوگ اپنے حصے کاکا م نہیں کروگے تو اللہ کسی گانے والے سے یہ کام لے لے گا۔”کیا الفاظ ہیں۔اور کتنی تلخ حقیقت کہ اللہ کو ہماری ضرورت نہیں یے۔ہمیں ضرورت ہے اگر ہم اپنا کام نہیں کریں گے تو وہ اور لوگ پیدا کر دے گا۔جو اس عظیم مشن کو اپنے احتتام تک پہنچا دیں گے۔
میں رات سے بہت شرمندہ ہوں کیونکہ دین کے علم سے سرفراز ہوں۔الحمدللہ۔لیکن دعوہ الی اللہ اس حد تک نہیں کر پا رہی جس حد تک کرنا چاہیے یا جس حد تک معاشرے کو ضرورت ہے۔اس حد تک نہیں ہو پا رہا۔
ایک طرف مسلم امہ کے گھروں پہ نقب لگائی جا چکی ہے۔راہزن مختلف بھیس میں گھر کے سب سے مضبوط ستون ماں کو گھر سے نکال کر اس امت کا شیرازہ بکھیر دینا چاہتے ہیں۔ایک بیٹی جو کل کی ماں ہے۔اس کی عزت و ناموس کے در پہ ہیں۔وہ جانتے ہیں ماؤں کو بے حجابانہ گھر سے نکال کر وہ ٹک ٹاکر اور ریمپ پہ چلتی ہوئیں ماڈلز بنا کر اس کی عزت و آبرو کو بے مول کر دینا چاہتے ہیں۔تاکہ ان کی فیملی کا مضبوط سسٹم ٹوٹے جب تک یہ نہیں ٹوٹتا وہ مکمل کامیاب نہیں ہو سکتے۔الحاد اور بے دینی کی اس لہر میں بڑے بڑے برج الٹنے کو ہیں۔مجھے اس وقت کراچی کی مسکان یاد آرہی ہے وہ بھی ایک ماں تھی پر شکاریوں نے اسے اپنے دام میں پھنسا کر موت کے منہ میں دھکیل دیا۔عزت بھی گی جان بھی اور ایک ماں کا فخر غرور بھی۔۔۔اور اس ایک مسکان کے ساتھ کتنے لوگوں کا خون ہوا۔۔۔ایک ماں جس نے اسے جنا باپ جس کے مضبوط بازوں میں وہ جھولا کرتی تھی۔ایک شوہر جس کا غرور تھی۔ایک بھائی جس کا وہ مان تھی۔۔۔ایک بیٹا جس کی وہ جنت تھی۔۔۔جو ابھی خود پاؤں پاؤں چلنا سیکھ رہا۔۔ناجانے اسے بھی کسی نے قبول کیا ہے یا نہیں ۔یا پھر اپنی ماں کی بے گوروکفن لاش کی طرح وہ بھی کسی یتیم خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ایک مسکان کتنے گھر اجاڑ گئ۔اگر اس مسکان کو کوئی دعوہ الی اللہ والا ملا ہوتا مخلص مہربان وجود جو اسے اپنے لفظوں کی نرم چھاؤں سے قرآن جیسے آب حیات کو پلاتا تو کیا اس کا انجام یہ ہوتا۔۔۔۔میرا نہیں خیال ایسا ہوتا۔۔۔۔
میرا جسم میری مرضی کے نعروں کی گونج سے زیادہ یہ گونج اس معاشرے میں سنائی اور دکھائی دینی چاہیے۔اے امت کی بیٹیو اپنے گھروں میں قرار پکڑو”جب تک داعی پوری طرح جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر میدان جنگ میں نہیں اتریں گے۔مسکانیں اور قندیلیں پیدا ہوتیں رہیں گیں۔گھروں کے گھر اجاڑتیں رہیں گیں۔
یہ بھی پڑھیے
زندگی مقصد سے عبارت ہے۔اور جب مقصد کی بات آۓ تو دعوہ الی اللہ سے بڑھ کر کوئی اور مقصد نہیں ہے۔یہی وہ مقصد ہے جو امت مسلمہ سے مقصود ہے۔وہ اسی مقصد کی خاطر پیدا کی گئ۔چونکہ قیامت تک کوئی نبی نہیں آنا تو یہ مشن امت محمدیہ کو سونپ دیا گیا۔برج الٹنے کو ہیں ۔رات ڈھلنے کو ہے۔صفیں بچھائی جا رہی ہیں کون جانے آنے والے کل میں ہم کس صف میں کھڑے ہوں۔صفیں باندھ لیجیے۔وقت اپنے آخری راونڈ میں داخل ہوچکا ہے۔
دعوہ الی اللہ کی طرف بلانا بلاشبہ سب سے عمدہ دعوت ہے۔جو جو لوگ یہ تحریر پڑھ رہے ان سے ہاتھ باندھ کر التجا ہے اپنی بیٹیو ں کو دین کی تعلیم ضرور دلوائیے۔