377

دنیا کا واحد ملک جہاں طلاق ممنوع

تحریر شئیر کریں

طلاق دینا ابھی تک ممنوع کیوں؟دنیا کا واحد ملک فلپائن جہاں ابھی تک طلاق دینے کا قانون نہیں ہے۔

طلاق ایک ایساحق ہے جو تقریبا ہر مذہب میں جائز ہے۔اسلام نے بھی اسے پسند نہیں کیا مگر انتہائی حالات میں اس کی اجازت دی ہے۔اور ہونی بھی چاہیے۔موجودہ سوسائٹی میں بعض وجوہات ایسی ہوتیں ہیں جہاں طلاق ضروری وہ جاتی ہے۔ایسے میں طلاق نا لینا فساد فی الارض کا سبب بنتا ہے۔جیسے احمد آباد کی عائشہ کے ساتھ ہوا۔اس کے سسرال والوں نے اتنا تنگ کیا کہا ا س نے خودکشی کر لی بہت ساری عورتیں خودکشی کر لیتی مگر طلاق کا مطالبہ نہیں کر سکتی جو کہ غلط ہے۔

شریعت نے جو راستہ رکھا ہے تو اس کی بھی حکمتیں ہیں۔ورنہ یہ حرام ہوتی۔وہ حکمت یہی ہے کہ مرد کو پتہ ہونا چاہیے کہ اگر وہ عورت کے ساتھ زیادتی کرے گا تو وہ حق رکھتی ہے کہ وہ بھیا سے چھوڑ دے۔میرا جہاں تک خیال ہے تعلقات میں توازن قائم کرنے کے لیے کہ دونوں فریقین میں سے کوئی بھی کسی پہ زیادتی نا کرے۔اگر کوئی کرتا ہے تو جیسے مرد طلاق دے سکتا وہسے ہی عورت بھی یہ حق رکھتی ہے کہ وہ خلا لے لے۔

دنیا پھر میں یہ قانون موجود ہے سواۓ فلپائن کے۔عیسائی ممالک کے بیشتر ممالک میں یہ قانون موجود نہیں تھا۔مگر پھر اس قانون کے لیے راہ ہموار کی گی۔اور یہ قانون پاس کروا لیا گیا۔جیسا کہ اٹلی میں 1970 ء میں پہلی بار یہ قانون پاس ہوا ۔اس کے بعد 1977ء برازیل میں،1981ء میں سپین میں اوراجنٹیائن میں 1987 ءمیں، اس کے علاوہ آئرلینڈ میں 1997 میں اور 2004 ء میں چلی میں یہ قانون منظور ہوا۔

یہ بھی پڑھیں

خودکشی اور ہمارے رویے

جہاں تک فلپائن کی بات ہے جہاں ابھی تک طلاق نہیں دی جا سکتی وہاں یہ کوششیں جاری ہیں مگر یہ کوشش کامیاب ہونے میں نہیں آ رہی ۔یہ تو بات تھی قانون کی پاکستان اور انڈیا وہ دو ممالک ہیں جہاں طلاق کا قانون ہوتے ہوۓ بھی اسے عملا برا سمجھا جاتا۔حالانکہ یہ مکروہ ہے۔اس سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔مرنے سے کہیں بہتر ہے کہ بندہ الگ ہو جاۓ۔اس رویے می مذمت کی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں