387

ربیع الاول اور اس کے تقاضے

تحریر شئیر کریں

ربیع الاول اور اس کے تقاضے

.

ہم سب مسلمان اپنے رب کے نام پراپنے رسول اللہ کی محبت میں اپنے کعبہ کے تقدس میں اور قرآن کے سائے میں ایک ہیں۔ ایک درخواست :

ہم سب کو ناز ہے امت محمد کا حصہ ہونے پر ، ہاں بہت بڑی ذمہ داری بھی کندھوں پر محسوس ہوتی ہے۔ آج بھی مسجد نبوی دیکھ کر ،اس کی جاۓ نمازوں پر نماز پڑھ کر روضہ رسول کا سوچ کر رسول اللہ کی passionate زندگی کو جان کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ یقین جانیں !مسجد نبوی میں بیٹھ کر فخر سے زیادہ شرم آتی ہے کہ کیا اس قابل ہوں کہ اس عظیم پیغمبر کی مسجد میں پہنچتی۔ وہ چلنے پھرنے کا موقع ملتا جہاں حبیب اللہ کسی وقت چلتے تھے۔ اعزاز ہے ہمارے لیۓ آپ کا امتی ہونا۔ہاں بغیر کسی confusion کے میں حق پر چلنا چاہتی ہوں ۔۔۔

ربیع الاول میں رسول اللہ کو باقی سال کے مقابلے میں زیادہ یاد کروں —- ٹھیک ربیع الاول میں آپ کی سیرت کو جانوں — ٹھیک مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ دین واضح ہے ۔آپ کی ولادت کے دن کے بارے میں آراء مختلف ہیں۔آپ کی وفات کا دن کیا ہے اس پر سب متفق ہیں۔ جو کہ ۱۲ ربیع الاول ہے۔ رسول کی محبت مں جھوٹ اور خواہش شامل نہیں ہو سکتی۔ میں اسے عید کیسے کہوں ؟

This is not an Eid ……

محبت اور برداشت کے ساتھ آئیں اپنی اپنی اصلاح کر جائیں اسی نبی کی سنت میں جس کی خوشی میں آج جھومنے کا دعوی کر رہے ہیں۔نعت پڑھیں مگر exaggeration غلو سے بچیں۔

نعت پڑھیں میوزک کے بغیر عورتوں کو نعت پڑھنی ہے تو عورتوں میں پڑھیں۔

نبی کی محبت کو نبی کی اطاعت سے ظاھر کریں۔

بجلی چوری کر کے روشنی نہ کریں۔

دوسروں کو تکلیف دیتے ہوۓ سڑک نہ بند کریں۔

ایک دوسرے کی ضد میں رسول کی شخصیت کے احترام اور محبت کو نہ بھول جائیں۔

دین balance اور امتحان کا نام ہے۔
محتاط رہنے والا مقام پا لیتا ہے۔

دعاگو
عائشہ عامرُ

ربیع الاول اور اس کے تقاضے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں