روحانی علاج نظر بد میں کتنا اہم کردار ادا کرتا ہے؟جانیے قلم کتاب پر
عفیفہ شمسی
کل ہی کسی سکالر کو سن رہی تھی جو بیان کر رہے تھے کہ اس وقت نظر بد بہت بڑا فتنہ بنی ہوئی ہے۔ جو لوگ زندگی میں کبھی اس کا حقیقتاً شکار ہو چکے ہیں وہ اس کی خطرناکی سے بخوبی واقف ہوں گے۔ ناصرف اس کی بلکہ جادو کی بھی۔ حل کے طور شرعی دم، اذکار اور اپنی ہر اچھی بات، صلاحیت لوگوں سے چھپانے کا کہا جاتا ہے۔ شرعی دم اور اذکار تو نسبتاً آسان ہیں لیکن تیسرا علاج قدرے مشکل ثابت ہوتا ہے۔ ایک انسان کے چہرے پہ چھایا اطمینان ہی دوسرے کو اس کی خبر دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ عام سی باتوں میں بھی کسی کی نگاہ کی گرفت میں آنا ممکن ہے۔ میل جول تو روز مرہ کا کام ہے۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ آپ بس خاموش ہو کے بیٹھے رہیں یا پھر آپ فقط دکھ بھری باتیں بیان کرتے رہیں۔ لازمی طور پہ سکھ چین کا بھی ذکر ہوگا۔
سوشل میڈیا نے اس فتنے میں جلتی پہ تیل کا کام کیا ہے۔ یہاں آپ کچھ نہ بھی کہہ رہے ہوں تب بھی بیٹھے بٹھائے لوگ آپ سے حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ ان کے اپنے دلوں کا بھی فتنہ ہے اور دوسروں کو بھی مبتلا کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں میڈیکل اور نفسیاتی علاج کا جتنا شور ہے اتنا ہی روحانی علاج نظر انداز کیا جاتا ہے۔ صبح و شام کے اذکار بھی رہ جاتے ہیں اور بیماری ہے کہ جان نہیں چھوڑتی۔ سب کر لیں گے لیکن دم اور اذکار کی جانب نہیں آئیں گے۔ شیطان لازمی طور پہ اس سے دور بھگانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ مریض کا مرض بڑھتا جائے. حتی کہ ہم دیکھتے ہیں اس مرض میں مبتلا لوگوں سے نمازیں اور قرآن چھوٹنے لگتا ہے۔ اس فتنے کا مکمل ادراک ہونے تک میں بھی نظر بد وغیرہ کو زیادہ توجہ نہیں دیتی تھی۔ ایسا قصداً نہیں تھا بلکہ جو چیز عام زندگی میں اتنی قابل توجہ سمجھی ہی نہ جائے یا پھر لوگ غیر شرعی انداز میں اس کا تعلق ثابت کرتے ہوں تو انسان غافل رہتا ہے۔
صحیح توجہ تب دی جب خود اس کا شکار ہو گئی۔ آج ماضی کو سوچتی ہوں تو بہت کچھ یاد آتا ہے جو تب سمجھ نہیں آتا تھا۔ یہ تذکرہ بھی فقط اس لیے کر رہی ہوں کہ براہ مہربانی دلوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ان چیزوں سے غفلت نہ برتا کیجیے۔
بلا مبالغہ ہر رپورٹ کلئیر آنے کے باوجود چار سال میرا بخار نہیں اترتا تھا۔ لوگوں میں آنے جانے سے دل گھبرانے لگا، بازار یا کسی کے گھر قدم رکھتے ہی بخار والی کیفیات کا شکار ہو جاتی تھی۔ نتیجتاً مکمل خاموشی اختیار کرتی اور صرف سننے پہ اکتفا کر کے واپس آ جاتی۔ سرگرمیوں میں دل لگنا چھوٹ گیا، کام تکمیل تک نہ پہنچ پاتے تھے۔ حافظے پہ اثر ہونے لگا. اس کی شدت یہاں تک ہوئی کہ بات کرتے ہوئے اگلا لفظ بھول جاتا، حتیٰ کہ لوگوں کے نام بھولنے لگے۔ یہ کیفیت وقتی ہوتی تھی۔ بیٹھے بٹھائے سر ایسا جکڑا ہوا محسوس ہوتا کہ اس وقت کسی کی بات سننا بھی مشکل لگنے لگ جاتا تھا۔
بہت سے تعلقات میں بے وجہ کی دوری پیدا ہونے لگی۔
پڑھائی میں اللہ کے فضل سے اچھی تھی لیکن یہ ہونے لگا کہ پرچہ کرتے ہوئے پرچہ لکھ نہیں پاتی تھی، ہاتھ چلنے سے انکار کر دیتے۔ ماضی بعید میں ایک دفعہ اس مسئلے میں شدت آئی تو وزن چالیس پہ چلا گیا۔
سب سے عجیب چیز جسم پہ سرخ نشانات پڑ جاتے تھے۔ خاص طور پہ نہاتے وقت جیسے ہی پانی جسم پہ گرتا جاتا، جگہ سرخ ہوتی جاتی اور خارش شروع ہو جاتی۔ یا خارش نہیں بھی ہوتی تھی تو اس جگہ کا حال کچھ ایسا ہوتا تھا کہ جیسے آبلے پڑ گئے ہیں۔ میں کئی بار پریشان ہو کے ماما کو تصویر بھیج دیتی کہ نہانے کے بعد پاؤں کا یا فلاں جگہ کا ایسا حال ہے۔ کوئی درد نہیں ہے بس ایسے ہو گیا ہے۔
سورہ فاتحہ جسانی،روحانی اور نفسیاتی بیماریوں کا علاج
میڈیکل علاج میں کوئی کمی نہیں چھوڑی یہاں تک کہ ڈاکٹرز نے خود کہنا شروع کر دیا کہ بچی کو بس خوش رکھیں اسے کوئی مسئلہ نہیں۔ کئی نے کہا کہ نفسیاتی طور پہ آپ کو لگتا ہے آپ بیمار ہیں جبکہ آپ ٹھیک ہیں۔ ادھر میں خود حیران پریشان ۔۔۔ کہ بھئی مجھے ایسا کیا شوق چڑھا ہے کہ میں نفسیاتی طور پہ خود کو بیمار سمجھتی رہوں۔ الحمدللہ، اللہ کے کرم کی بدولت نماز اذکار میں پابندی تھی تو میں سمجھتی ہوں اس چیز نے بچائے رکھا۔ اور بہت سی جگہوں پہ تمام تر حالت کے باوجود سب کام انجام پاتے رہے۔
یہ وقت ایسا تھا گویا خود سے جنگ کر رہی ہوں۔ ایک ہائپر ایکٹو گرل، ملٹی ٹاسکنگ کے ساتھ یہ بھی میرے لیے ایک ٹاسک ہی تھا۔ پھر خوابوں کی کثرت سے نیند غائب ہونے لگی۔ نظر بد، جادو وغیرہ میں خواب بہت اہمیت رکھتے ہیں. مخصوص خواب ہوتے ہیں۔ جس رات دم رہ جاتا اس رات نیند سے ڈر کے اٹھ جاتی۔ لکھنے کی صلاحیت بالکل ماند ہوتی گئی۔ خیر ہم وہاں چلتے ہیں جہاں سے مجھے ایک دم احساس ہوا کہ میں کس پہلو سے غافل رہی ہوں. میں نے کثرت سے خواب میں خود کو سورۃ البقرہ کی تلاوت کرتے دیکھنا شروع کر دیا۔ یہ میرے لیے گویا اللہ کی جانب سے ایک اشارہ ثابت ہوا۔ وہاں سے باقاعدہ مزید توجہ سے اذکار اور دم شروع کیا تو افاقہ ہونے لگا۔
نظر بد ایسی چیز ہے جس کا شکار ہونا مشکل نہیں۔۔۔ الا یہ کہ انسان اللہ کی حفاظت میں خود کو دیے رکھے۔ بہنوں کے مسائل اور کمنٹس کبھی کبھار نظروں سے گزرتے رہتے ہیں تو بہت کم لوگوں کو اذکار، نماز اور قرآن کی طرف توجہ دینے کا کہتے دیکھتی ہوں۔ حالانکہ اس وقت کی پرفتن فضا اور بے ایمانی سے بھری ہوا میں تو خود کو جتنا مزید محفوظ کیا جائے، کرنا چاہیے۔ اس سے نفسانی خواہشات سے بھی چھٹکارا ملتا ہے اگر انسان نیت کرے۔
چار اوقات کے اذکار کو تھام لیجیے:
صبح فجر کے بعد،
شام بعد از عصر،
نمازوں کے بعد کے اذکار،
رات کے مکمل اذکار،
ان سب کو مفہوم کے ساتھ سمجھیے، دل میں اتاریے، توکل کے ساتھ پڑھیے.
کسی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے ماشاءاللہ اور الحمدللہ کہیے۔
کوشش کیجیے کسی کی خوبی یا اس کے پاس جو نعمت ہے، خاص طور پہ سوشل میڈیا پہ کسی کو ملنے والی محبتیں، حتی کہ جو لائکس کمنٹس کی شکل میں بھی چبھ جاتی ہیں، اس پہ فوراً دل کی اصلاح کیجیے، استغفار پڑھیے اور ماشاءاللہ کہہ کے دعا دیجیے. اس نفسیاتی کیفیت کا زیادہ شکار ہو رہے ہوں تو کچھ عرصے کے لیے محدود ہو جائیں اور نفسیاتی علاج بھی کیجیے۔
روز مرہ کی تلاوت کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تلاوت کو معمول بنا لیجیے، چاہے دو صفحات کی روزانہ تلاوت کریں۔
سلامتی والے دین میں مکمل داخل ہونے کی کوشش کیجیے.
ان شاءاللہ، اللہ تعالی زندگی کے بہت سے مسائل میں آسانی اور خیر کا معاملہ کریں گے۔
روحانی علاج آپ نے پڑھی کیا سمجھ آیا؟