رکشہ ڈرائیور اور اس کا فہم
* کچھ سال ہوئے، غالباً جون کا مہینہ تھا. سخت گرمی اور عین دوپہر کا وقت . کسی کام سے بازار جانا تھا. مگر جی ٹی روڈ بوجہ مرمت بہت شکست وریخت کا شکار تھی. گاڑی پر سفر تقریباً نا اممکن تھا سو ایک رکشہ میں بیٹھنا پڑا.
رکشے والے سے گپ شپ۔ہونے لگہ۔باتوں باتوں میں اس سے پوچھ لیا….. بھائی نماز پڑھتے ہو؟ کہنے لگا صاحب کل سے شروع کی ہے۔اس کی بات سے مجھے تجسس ہوا۔پوچھ بیٹھا کہ کل ایسا کیا ہوا؟اس نے جو واقعہ سنایا وہ سن کر دنگ رہ گیا کہ اللہ ہدایت دینے پہ آۓ تو ایک نظر میں کایا پلٹ دیتا ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ رکشے والے کے مطابق۔۔رکشہ چلاتے ہوۓ ٹریفک بلاک ہوگئ۔گرمی سے برا حال تھا میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائیکل سوار نے اپنی سائیکل اٹھائی اور چل دیا۔۔تھوڑا غور کیا تو جتنے پیدل۔سوار تھے سب اپنے اپنے راستے پہ رواں دواں تھے مسئلہ صرف گاڑیوں اور رکشوں والو کو تھا۔اچانک میرء دماغ میں جھماکا ہوا
کہ روز حساب بھی یہی منظر ہوگا. جسے دنیا میں کم نوازا گیا ہوگا یا جس کے گناہوں کا بوجھ کم ہوگا وہ تو ایسے ہی سائیکل والے کی طرح نکل جائیں گے، اور جن کو بہت نوازا گیا ہوگا یا جنہوں نے لوگوں کے بہت حق کھائے ہوں گے،یا بہت گناہوں والے، ان گاڑی والوں طرح پھنسے ہوں گے. بس میں نے سوچ لیا ہے کہ ہلکا پھلکا پیش ہونا ہے رب کے سامنے، گناہوں کا گٹھڑ لیکر نہیں جانا… اور میں آج تک اس رکشہ والی کی فہم پر پیہم متحیر ومبہوت ہوں کہ ہم پڑھے لکھوں، سائنسدانوں، انجینروں، ڈاکٹروں، وکیلوں سیاستدانوں اور اعلیٰ افسران کی سمجھ جو بات آج تک نہ آسکی وہ ایک رکشہ والے نے کتنی آسانی سے سیکھ لی*.
(تحریر ابن فاضل)