393

سائباں

تحریر شئیر کریں

سائباں جو نام ہے عورت کے تحفظ کا۔عورت مارچ پہ لکھی گی خصوصی تحریر

چڑیا کا گھونسلہ اوندھا پڑا تھا۔رات اندھی چلی تھی بڑے زور کی۔لگتا تھا سب درخت اکھڑ جائیں گے۔مگر سب سلامت رہا تھا ۔صبح اٹھی تو چڑیا کا گھونسلا گرا پڑا تھا۔گھونسلا اٹھا کر دیکھا تو بنانے والے کی محنت اور کاریگری کی دادا دیے بغیر نا رہ سکی۔واہ مولا تو نے بے عقلوں کو بھی گھر بنانے کی صلاحیت دے رکھی ہے۔انسان تو ہر مخلوق سے دانا ہے۔صاحب بصیرت .جا نتا ہے گھر کیسے بنتے اور کیسے ٹوٹتے ہیں۔ایک ٹھنڈی آہ دل سے نکلی تھی۔۔۔کچھ لمحے کچھ پل یاد آۓ تھے جو اس کا سب کچھ اڑا کر لے گۓ تھے۔اسے یاد آیا وہ کتنی نڈر اور بہادر ہوا کرتی تھی ۔زندگی چل رہی تھی مگر وہ کبھی ان لمحوں کی خطا سے نا نکل سکی۔ایسی ہی آندھی چلی تھی اس رات بھی اور اس کا آشیانہ چھین کے لے گئ۔۔لمحوں نے خطا کی تھی اور صدیوں نے سزا پائی تھی والا معاملہ تھا اس کا۔کاش وہ اس رات غصےمیں پاگل ہوکر گھر سے نا نکلتی۔۔۔کا ش اے کاش اس کا شوہر جو اس کی چھت تھا سائباں تھا اسے روک لیتا اسے یوں گھر سے نکل جانے کو نا کہتا۔تو وہ کبھی نا جاتی۔کیسے تنکا تنکا کر کے بنایا تھا وہ گھر جو اب کسی اور کا تھا۔اور وہ خود ننگے پاؤں چل رہی تھی نا سر پہ چھت تھی نا پاؤں کے نیچے زمین۔۔۔جاۓ تو کدھر جاۓ

اسے کئ دنوں سے بخار تھا۔فیکڑی بھی نہیں جایا جا رہا تھا۔ہمت ہی نہیں کہ اٹھ کر روٹی بنا لیتی۔۔۔آج بڑی ہمت کر کے گھر سے نکلی تھی دوائی لینے ۔۔راستے میں ٹریفک جام تھی کئ گھنٹوں سے۔۔ چنگ چی والا کہہ رہا تھا کہ کوئی زنانیوں کا جلوس ہے۔اور ساتھ کانوں کو ہاتھ لگا رہا تھا۔وہ پوچھے بغیر نا رہ سکی۔۔ بھائی زنانیوں کا جلوس خیریت؟رکشے والے نے اس کی بات کا کوئی جواب نا دیا تھااتنے میں رکشہ تھوڑا آگے آ گیا تھا ٹریفک تھوڑا چلی تو تھی۔۔۔زنانیوں نے ہاتھوں میں بڑے بڑے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔اس نے غور کر کے پڑھنے کی کوشش کی دو چار پوسٹر ہی پڑھ پائی تھی۔کھانا گرم کیوں کروں۔پردہ خود کر لو۔۔اور باقی جو لکھا تھا اس کا دماغ ماننے کو تیار نا تھا۔۔۔کیا عورت ذات اتنا بھی گر سکتی تھی۔اس کے بعد نا وہ بولی نا رکشے والا۔۔۔

یہ بھی پڑھیے

استحکام خاندان صرف عورت کی ذمہ داری؟

عورت مارچ کے پس پردہ عزائم

دونوں راستہ کھلنے کے منتظر تھے۔اور وہ سوچ رہی تھی کہ کاش وہ ان عورتوں کو بتاۓ کہ سر کا سائیں کیا ہوتا ہے۔اس کے ہونے سے سب اپنے ہوتے اور وہ ایک نا رہے تو سب بیگانے۔کاش وہ بتاۓ شوہر کا گھر عورت کی کتنی بڑی طاقت ہوتی۔اس کا کھانا گرم کرنے میں کیسی قباحت ۔۔۔وہ دکھا سکتی کہ جب سے اس نے اپنا گھر چھوڑا کیسے کیسے لوگوں کے کھانے گرم کیے ہیں۔اس اس لمحے اسے شدت سے یاد آتا کاش وہ اپنے گھر والے کا گرم لہجہ سہہ لیتی تو آج یہاں نا ہوتی۔ٹریفک کھل چکی تھی۔۔۔زنانیاں پیچھے رہ گئ تھیں۔مگر وہ آج بھی اسی نکتے پہ کھڑی تھی۔کیا کبھی اسے راستہ مل پاۓ گا۔کیا وہ کبھی خود کو معاف کر پا ۓ گی۔

سائباں کہانی ہے۔اگر آپ اس سے متفق تو کمنٹ کر کے اپنی راۓ سے اگاہ کیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں