سیرت کے نام پر
اس میں کوئی شک نہیں کہ سب حکومتوں نے عوام کو عشق رسول کے نام پر لولی پاپ دیا، لیکن اس قدر جرات اور ڈھٹائی کسی نے نہیں دکھائی کہ
1۔ قومی سیرت کانفرنس میں اپنے گھر کی سب سے خوب صورت سجاوٹ کرنے والے کو سرٹیفیکیٹ اور قوم کے اجتماعی پیسوں (ٹیکس) میں سے انعام دیا ہو۔
2۔ محافل سماع کے باقاعدہ آرڈرز نکالے گئے ہوں۔ اور لاکھوں روپیہ اس کی تشہیر پر بھی لگا دیا یو۔
3۔ تصوف کو تمام کلاسز کے لئے لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کے لئے بھی ھدایات آچکی ہیں۔
4۔ شازلی سنٹر کا قیام اور اس میں باقاعدہ ایک مکتب فکر کے مدرسہ کو حصہ بنانا۔
5۔ عبدالقادر یونیورسٹی کا قیام اور تصوف پر 1000 پی ایچ ڈی سکالر کو سو فی صد سکالر شپ کا اجراء۔۔۔
(اس کا اندازہ زرا کیجئے کہ پانچ سال بعد جب وہ 1000 پی ایچ ڈی سکالرز یونیورسٹیوں میں کھپائے جائیں گے، اور قوم کو “اعلی تعلیم یافتہ” سکالرز دستیاب ہوں گے، تو حالات کیا ہوں گے؟؟؟ اور کیا ہم نے اس آنے والے فتنہ کے تدارک کی کوئی تیاری شروع کر رکھی ہے ؟؟؟؟