477

صحت پہ نو کمپرومائز

تحریر شئیر کریں

صحت پہ نو کمپرومائز ایک ایسی ماں کی کہانی جسے صحت مند بچے چاہیے تھے چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔

عجیب سا موسم تھا۔اجنبی اور بیگانہ سا۔۔ جیسے کسی انسان نے ایسا موسم پہلے کبھی نا دیکھا ہو۔نگہت نے پر سوچ انداز میں چہرے کو ہتھیلی پہ ٹکا دیا اور موسم کا جائزہ لینے لگی۔۔۔۔
آج اس کے چھوٹے بیٹے علی کی طبیعت ناساز تھی۔جب بھی ہوا چلتی تو اس کی طبیعت ایسیے ہی ناساز ہو جایا کرتی تھی۔میڈیکل والے کہہ رہے تھے فضا میں نمی نا ہونے سے یہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔جبھی علی کو سلا کر وہ ٹیرس پی آ بیٹھی اب موسم کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھی۔

موسم ہمیشہ سے تھے اور ہیں۔بدلتے موسم سبھی انسانوں کے لیے سازگار نہیں ہوتے۔۔۔مگر اللہ نے انسانی جسم کے اندر یہ صلاحیت رکھ چھوڑی ہے کہ وہ ان موسموں اور بدلتے حالات سے لڑ سکیں۔مگر ہمارے عہد کے بچے اتنے کمزور کیوں ہیں؟سوال در سوال تھے جو نگہت کے دماغ میں اٹھ رہے تھے۔کس چیز نے انھیں اتنا کمزور بنا دیا ہے کہ زرا سی ہوا چلی نہیں اور طبیعت ناساز ہو نا شروع ہو جاتی۔۔۔۔


نگہت کا دماغ کمزور قوت مدافعت پہ اٹک
چکا تھا۔۔۔اور اس کی بڑی وجہ ناقص غذا تھی۔علی نے ایک تومدد فیڈ نہیں لیا تھا۔جس کی وجہ سے یہ کمزوری اس کی شخصیت میں رہ گئ کہ۔ماں کے دودھ کی طاقت نا مل سکی۔۔۔ڈبوں کے دودھ سے رہی سہی کسر پوری ہوگی۔۔دو سال تک تو اس کا پیٹ ہی ٹھیک نہیں ہوا۔۔۔تیسرے سال پیٹ ٹھیک ہوا۔۔تو وہ کھانے میں بہت چوزی تھا۔گوشت میں صرف چکن کھاتا تھا۔وہ بھی برگر وغیرہ کی صورت میں۔۔۔ایسے میں کمزوری مستقل طور پر اس کی طبیعت کا حصہ بنتی چلی گئ۔۔۔

ماں تھی۔۔پریشان نا ہوتی تو کیا کرتی۔۔آج کل۔وہ فیصلہ کن موڑ پہ تھی۔۔۔اس حوالے سے ریسرچ کر رہی تھی خالص غذا اور اس کے فوائد پہ۔۔۔تبدیلی کا مطلب تھا گھر بھر کے کھانے کی روٹین ڈسٹرب کرنا۔مگر مضبوط قوت مدافعت کے لیے یہ کڑوا گھونٹ پینا ہوگا اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
فوری طور پر اس نے ڈبوں کے دودھ بند کر کے بڑی تگ ودو سے بھینس کا دودھ ڈھونڈا۔۔۔۔جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ دودھ ہی ہے۔اس کے بعد چکن بند کر دیا۔۔۔فش اور چھوٹا گوشت چاہے مہینے میں ایک دن پکے وہی پکانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

باجی نازو سیپارے والی

بچوں کو ذہنی طور پر اس کام کے لیے تیار کرنا شروع کردیا۔گھر کے لان میں موسمی سبزیوں کے بیج ڈالے۔۔۔جو سبزیاں اگانے لگے یوں گھر کی صاف پانی میں پکی سبزیاں کھانے کو ملنے لگی۔۔۔سب سہی تھا بس بچے تھے کہ چکن مانگتے۔۔مگر وہ ڈٹی رہی۔۔۔کھانا پکانے کے لیے مٹی کے برتن لاۓ گۓ۔ایک سال ہونے کو آیا تھا زیادہ نا سہی بچوں نے کچھ ناکچھ تبدیلیاں قبول کرنا شروع کر دیں تھیں۔نگہت لگن اور مستقل مزاجی سے ڈٹی ہوئی تھی ۔علی کی طبیعت ابھی مکمل تو ٹھیک نہیں ہوئی تھی مگر وہ روٹی کھانا شروع ہو گیا تھا۔گھر کی آرگینگ مرغی کا انڈا بھی شوق سے کھاتا تھا۔دودھ بھی جامع شیریں ڈال کر پی لیتا تھا۔نگہت کے لیے یہی کافی تھی۔بڑے دونوں بچے بھی اب جنک فوڈ کی بجاۓ دیسی کھانے کھانےشروع ہوگۓ تھے۔۔۔

نگہت سوچ رہی تھی۔۔کوئی چیز ناممکن نہیں۔ہاں مشکل ضرور ہے۔بس عزم ہونا چاہیے کہ صحت پہ نو کمپرومائز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں