فجر سے پہلے آسمان کی روشنی 25

فجر کی روشنی کا راز

تحریر شئیر کریں

فجر سے پہلے آسمان کی روشنی

کبھی فجر سے کچھ دیر پہلے آسمان کو غور سے دیکھیے۔ رات کی تاریکی ابھی باقی ہوتی ہے، گلیوں میں خاموشی چھائی ہوتی ہے، اور مشرق کی سمت آسمان کا رنگ دھیرے دھیرے بدلنے لگتا ہے۔ نیلاہٹ میں ہلکی سی سفیدی گھلتی ہے، پھر افق کے قریب ایک مدھم روشنی پھیلنے لگتی ہے۔

سورج ابھی نکلا نہیں ہوتا، پھر یہ روشنی کہاں سے آتی ہے؟

یہ بظاہر ایک عام سا سوال ہے، لیکن اسی سوال نے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ایک مسلمان سائنس دان کو آسمان کی بلندی کا اندازہ لگانے کی طرف متوجہ کیا تھا۔

ان کا نام **ابو عبداللہ محمد ابن معاذ الجیانی** تھا۔ وہ گیارہویں صدی میں اندلس، یعنی موجودہ اسپین کے علاقے میں رہتے تھے۔ ریاضی اور فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے اس عالم نے فجر اور شفق کی روشنی کو محض روزمرہ کا منظر نہیں سمجھا، بلکہ اس کے پیچھے چھپے قدرتی اصول کو سمجھنے کی کوشش کی۔

ان کی تحقیق کا موضوع ایک مختصر رسالہ تھا، جسے عموماً فجر اور شفق سے متعلق تحریر کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے روشنی کے اس مظہر کو سمجھنے کی کوشش کی جو سورج کے افق سے نیچے ہونے کے باوجود آسمان پر دکھائی دیتا ہے۔

 سورج کے بغیر روشنی؟

ذرا شام کا منظر یاد کیجیے۔

سورج غروب ہو چکا ہے۔ زمین پر اندھیرا اترنے لگا ہے، لیکن آسمان ابھی پوری طرح تاریک نہیں ہوا۔ کچھ دیر تک روشنی باقی رہتی ہے۔ اسی طرح صبح سورج نکلنے سے پہلے بھی آسمان میں اجالا پھیلنے لگتا ہے۔

اس کی وجہ ہماری زمین کے گرد موجود فضا ہے۔

سورج کی روشنی جب زمین کے ماحول میں داخل ہوتی ہے تو ہوا کے سالمات اور فضا میں موجود نہایت باریک ذرات اس روشنی کو مختلف سمتوں میں منتشر کرتے ہیں۔ اسی عمل کی وجہ سے سورج براہِ راست نظر نہ آنے کے باوجود آسمان کے بعض حصے روشن دکھائی دیتے ہیں۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے: سورج کی روشنی صرف زمین کی سطح تک محدود نہیں رہتی۔ زمین کے اوپر موجود فضا کے وہ حصے بھی اس روشنی سے متاثر ہوتے ہیں جو اس وقت ہماری جگہ کے مقابلے میں سورج کی طرف زیادہ کھلے ہوتے ہیں۔

چنانچہ ہمارے مقام پر رات باقی ہوتی ہے، لیکن فضا کے بلند حصوں میں سورج کی روشنی پہنچ چکی ہوتی ہے۔ وہاں سے منتشر ہونے والی روشنی ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے اور ہمیں طلوعِ آفتاب سے پہلے آسمان روشن ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

اس درمیانی کیفیت کو **شفق یا Twilight** کہا جاتا ہے۔ صبح کے وقت اسے صبح کی شفق اور شام کے وقت شام کی شفق کہا جاتا ہے۔

فضا کتنی بلند ہے؟

اب ذرا ابن معاذ کے سوال کی طرف واپس آتے ہیں۔

اگر سورج افق سے نیچے ہو اور اس کے باوجود فضا میں روشنی پھیل رہی ہو، تو کیا اس روشنی کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زمین کے اوپر فضا کتنی بلندی تک پھیلی ہوئی ہے؟

ابن معاذ نے اسی خیال پر غور کیا۔

اس مسئلے میں بنیادی کردار زاویے کا تھا۔ جب سورج افق سے نیچے ہوتا ہے تو اس کی روشنی زمین کے گرد موجود فضا کے ان حصوں تک پہنچ سکتی ہے جو ابھی دھوپ میں ہوتے ہیں۔ سورج کی پوزیشن، زمین کے رداس اور ایک فرض کردہ بالائی حد کو سامنے رکھ کر جیومیٹری کی مدد سے بلندی کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔

ابن معاذ سے منسوب تاریخی حساب میں تقریباً باون میل کی بلندی کا اندازہ ملتا ہے۔ یہ اس دور کے علم اور دستیاب پیمائشوں کی بنیاد پر کیا گیا ایک حساب تھا۔

لیکن یہاں سائنسی احتیاط ضروری ہے۔ فضا کی کوئی ایک ایسی واضح چھت نہیں جس کے بعد اچانک ہوا ختم ہو جاتی ہو۔ بلندی کے ساتھ ہوا کی کثافت کم ہوتی جاتی ہے، اور مختلف فضائی تہوں کی خصوصیات بھی بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے شفق کی روشنی سے حاصل ہونے والا تخمینہ فضا کی کسی مقررہ اور قطعی آخری حد کی براہِ راست پیمائش نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس تحقیق کی اہمیت اس بات میں ہے کہ ایک قدرتی مظہر کو مشاہدے، زاویوں اور ریاضی کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی گئی۔

اٹھارہ درجے کی اہمیت

جدید فلکیات میں صبح اور شام کی شفق کو سمجھنے کے لیے سورج کے افق سے نیچے ہونے کا زاویہ استعمال کیا جاتا ہے۔

فلکیاتی شفق کی ایک معروف حد اس وقت بیان کی جاتی ہے جب سورج کا مرکز افق سے تقریباً اٹھارہ درجے نیچے ہو۔ یہ زاویہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ سورج کی براہِ راست روشنی افق کے نیچے ہونے کے باوجود فضا میں پھیلنے والی روشنی کس طرح آسمان کو متاثر کرتی ہے۔

تاہم اٹھارہ درجے کو ہر جگہ فجر کے شرعی وقت کا واحد متفقہ معیار سمجھنا درست نہیں۔ مختلف اسلامی ادارے اور نماز کے اوقات مرتب کرنے والے کیلنڈر مختلف زاویے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے فلکیاتی شفق کے سائنسی مطالعے اور فجر کے شرعی وقت کے تعین میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔

ابن معاذ کے تاریخی حساب میں بھی اٹھارہ اور انیس درجے کے حوالے ملتے ہیں، مگر ان کے رسالے کے اصل عربی متن کی عدم دستیابی کے باعث اس کے تمام مراحل اور اصطلاحات کو براہِ راست اصل عبارت سے جانچنا ممکن نہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخِ سائنس ہمیں ایک سبق دیتی ہے: کسی قدیم تحقیق کی قدر کرتے ہوئے اس کے نتائج، اس کے دور کے علمی وسائل اور آج کے علم کے درمیان فرق واضح رکھنا چاہیے۔

 ایک رسالے کی دلچسپ تاریخ

ابن معاذ کی اس تحقیق کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے۔

ان کے رسالے کا اصل عربی متن آج دستیاب نہیں، جبکہ اس کے پرانے تراجم محفوظ رہے ہیں۔ اس تحریر کو ایک عرصے تک ابن الہیثم سے منسوب کیا جاتا رہا۔ بعد میں تاریخِ سائنس کے محقق عبدالحمید صبرہ نے 1967ء میں اس کی نسبت پر تحقیق کی اور اسے ابن معاذ الجیانی کا کام قرار دیا۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم کی تاریخ صرف دریافتوں کی تاریخ نہیں ہوتی۔ یہ ان لوگوں کی محنت کی تاریخ بھی ہے جو قدیم کتابوں، تراجم اور مخطوطات کا مطالعہ کرکے یہ معلوم کرتے ہیں کہ کوئی خیال کس نے پیش کیا تھا اور وہ ایک زمانے سے دوسرے زمانے تک کیسے پہنچا۔

آسمان ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

فجر سے پہلے آسمان کا روشن ہونا ایک ایسا منظر ہے جسے ہم زندگی میں بے شمار مرتبہ دیکھتے ہیں۔ کبھی نماز کے لیے اٹھتے ہوئے، کبھی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے، اور کبھی کسی سفر کے دوران۔

لیکن اس منظر کے پیچھے روشنی کے پھیلاؤ، زمین کی کرویت، سورج کے زاویے اور فضا کی ساخت جیسے کئی سائنسی اصول کام کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک معمولی سا سوال ہمیں ان اصولوں تک لے جا سکتا ہے۔

ابن معاذ الجیانی کی مثال یہ بتاتی ہے کہ قدرتی مظاہر کو غور سے دیکھنا اور ان کے بارے میں درست سوال اٹھانا علم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک شخص آسمان کی مدھم روشنی دیکھ کر یہ پوچھ سکتا ہے کہ سورج کے بغیر اجالا کیسے ہے، اور پھر یہی سوال اسے ریاضی اور فلکیات کی طرف لے جا سکتا ہے۔

قرآنِ مجید بھی انسان کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ سورۂ آل عمران میں ارشاد ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (آل عمران 3:190)

یہ غور و فکر ہمیں قدرت کے نظام کو سمجھنے اور علم میں اضافہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اگلی بار فجر سے پہلے مشرق کی طرف دیکھیں تو صرف روشنی کو نہ دیکھیے، اس کے پیچھے کام کرنے والے نظام پر بھی غور کیجیے۔ شاید آپ کے ذہن میں بھی کوئی ایسا سوال پیدا ہو جس کا جواب آپ کو علم کے کسی نئے دروازے تک لے جائے۔

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ روزمرہ زندگی میں دکھائی دینے والے کتنے عام مناظر کے پیچھے ایسے سائنسی راز چھپے ہیں جن پر ہم نے ابھی غور کرنا شروع ہی نہیں کیا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں