400

فحاشی

تحریر شئیر کریں

فحاشی

تحریر : سید عکاشہ

فحاشی دنیا کی ایک ایسی چیز ہے جس سے دور رہنا ضروری ہے۔ قریب بھی آپ نہیں جاسکتے۔ آپ چاہے فحاشی کی مذمت کی خاطر بھی کسی فحش آدمی کی صفات جاننے کے لیے یا کسی بھی غرض سے فحاشی یا فحش شخص کے قریب گئے، آپ خود اس میں پڑجائیں گے۔ یہ نشہ ہے، یہ شہوت نشہ ہے تب ہی اللہ نے قومِ لوط کے بارے میں کہا:
لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ
ترجمہ: (اے رسول ﷺ!) آپ کی عمر کی قسم! بیشک وہ اپنے نشہ میں اندھے ہوچکے تھے۔
[سورۃ الحجر، آیت نمبر ۱۳]
اسی لیے اللہ نے یہ بھی فرمایا:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلً
ترجمہ: اور زنا کے قریب بھی مت جانا، بیشک وہ بہت ہی فحش اور نہایت ہی بُرا راستہ ہے۔
[سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر ۳۲]
اور دین نے نہایت زیادہ سختی اس معاملے میں فرمائی ہے۔ ہمارے دین سے زیادہ حیا کسی دین میں نہیں۔ اتنی حیا ہے کہ دوسری قوموں کا حال پڑھ کر لگتا ہے کہ ان کو حیا چھو کر بھی نہیں گذری ہے۔ یہ دین کی خلق ہے، شعار ہے اور بنیاد ہے۔ اس کو پانے کے لیے دور بھاگنا ضروری ہے۔ کم سے کم اس طرح کی چیزوں کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیئے۔ جتنا زیادہ سوچا، اسی وقت انسان اس میں پڑجائے گا۔ قرآن میں ہے:
إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ
ترجمہ: بیشک میرے ربّ نے فحاشی کی ظاہری اور خفیہ باتوں (سب کو) حرام کردیا ہے۔
[سورۃ الاعراف، آیت نمبر ۳۳ یہ اتنی پاکدامن ہوتی ہیں کہ ان کو بُرائی کا پتا ہی نہیں ہوتا۔ ان کے ذہن میں بُرائی کا وجود بطورِ امکان بھی نہیں ہوتا، ان کا ذہن اتنا پاکیزہ ہوتا ہے۔ہمیں تو اکثر گناہوں کا پہلے خیال آتا ہے، ہم کبھی چھوڑ دیتے ہیں اور گناہ نہیں کرتے ۔ اللہ مسلمان مردوں کو حیا کی مکمل توفیق دے اور مسلمان عورتوں کو “محصنات بننے کی توفیق دے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں