480

قرآن سے رابط بحال کیجیے

تحریر شئیر کریں

قرآن سے رابط بحال کیجیے۔۔کیوں اور کیسے جانیے قلم کتاب پر

قرآن اللہ رب العزت کا وہ کلام جس کے زریعے آخری بار اللہ انسانوں سے ہم کلام ہوا۔رمضان وہ مہینہ جس کو یہ شرف بخشا کہ قرآن اسی مہینے میں نازل کیا گیا۔رمضا ریواول آف قرآن ہے۔نبی کریم ﷺ جب تک حیات رہے قرآن کا دورہ کیا کرتے تھے۔جبرائیل ؑ کو قرآن سنایا کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آج یہ بھولی بھٹکی امت اسی روایت پہ عمل پیرا ہے۔الحمد للہ جو لوگ سال بھر قرآن نہیں کھولتے رمضان میں دورہ قرآن کرتے نظر آتے ہیں۔

دورہ قرآن کی روایت ڈالنے کا شرف پاکستان میں ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کو جاتا ہے۔انھوں نے تروایح کے بعد جو قرآن تراویح میں پڑھا ہوتا اس کا ترجمہ تفسیر کروانا شروع کیا۔یوں قرآن غلافوں سے نکل کو لوگوں کے دل کے قفل کھولنے لگا۔ورنہ تو قرآن ہماری پہنچ سے بھی دور رکھا جاتا۔مقصد مبادا کہیں بے ادبی نا ہو جاۓ۔کمر نا ہو جاۓ۔حالانکہ اصل کمر اللہ کی اس پرحکمت کے احکامات سے روگردانی کر نا ہے۔اس کے حکم پہ کسی اور کے حکم کو مقدم سمجھنا ہے۔ہم نےاس حکم کو صرف معنوں کی حد تک سمجھا اور اس کی گہرائی پہ اترے بغیر صدیوں اس روش پہ قائم رہے۔وقت گزرا تو سمجھ آئی قرآن تو بیڈ کراون پہ رکھی جانے والی کتاب ہے۔جسے جب ضرورت پڑی مسائل حیات کے قفل پہ لگایا تو سارے فلسفے سارے راز کھلتے چلے گۓ۔سید مودودی ؒ فرماتے ہیں کہ قرآن شاہ کلید یعنی ماسٹر کی ہے۔اسے مسائل حیات کے جس تالے پہ لگاؤ گے وہ کھلتا چلا جاۓ گا۔علامہ اقبال ؒ اپنے آخری وقت پہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جو بھی مسئلہ درپیش ہوتا ،قرآن کھولتے اور حل بتا دیتے۔

ہم قرآن کو اپنا اوڑھنا بچھونا کیوں نہیں بنا پاتے؟کیونکہ ہم قرآن پہ نا تو غوروفکر کرتے اور ناہی اس کو سمجھ کر پڑھتے ہیں۔ہم روایتی طریقے سے قرآن پڑھنے کے عادی ہیں۔سید مودودی ؒ اس ضمن میں کہتے ہیں کہ میں نے مولوی کا امتحان بھی پاس کر لیا۔اور کتب کے تراجم بھی کرنے لگا ایک دن میں نے محسوس کیا کہ قرآن کو سمجھ کر پہلی فرصت میں نہیں پڑھ پاتا۔غور کیا تو پتہ چلا کہ اس کی بنیادی وجہ وہ روایتی طریقہ ہے جس کے مطابق اول اول ناظرہ قرآن پڑھایا جاتا بعد ازاں ترجمہ سکھایا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ ترجمہ بعد میں سمجھ ،اگر قرآن کو ٹرانسلیشن کے بغیر سمجھ کر پڑھنا ہے تو پھر اس طریقہ تدریس میں تبدیلی لانی ہوگی۔

کیوں نا اس ماہ رمضان 2021 میں ایک انقلابی کام کیجیے۔قرآن ناظرہ پڑھنے کی روایت توڑ ڈالیے اور اتنی عربی سیکھ لیجیے کہ قرآن کی عبارت ڈائریکٹ آپ کی سمجھ میں آ سکے۔جب یہ استعداد پیدا ہوجاۓ گی تب اگلا مرحلہ ہے تدبر قرآن کا،وہ تدبر قرآن جس کا ذکر قرآن بارہا کرتا
افلا تدبرون القرآن ام قلوب اقفالھا
“کیا تم قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے یا تمہارے دلوں پہ تالے پڑے ہوۓ ہیں۔”

جو لوگ سمجھ کر پڑھنے کے عادی ہیں وہ قرآن کھول کر بیٹھ جائیں اور ایک ایک آیت پہ تدبر کریں کہ اس آیت میں میرا اللہ مجھ سے کیا مانگ رہا؟جہاں یایھالذین آمنوا آے وہاں پہ لبیک ضرور کہیں کہ کیا پتہ اگلا لمحہ کن کا ہو۔

جہاں دوزخ کا ذکر ہو وہاں اللہ کی پناہ مانگیں۔جہاں جنت کا ذکر ہو وہاں جنت الفردوس مانگیں۔جہاں اہل ایمان سے خطاب ہو وہاں عہد کرے کہ اس حکم پہ عمل کریں گے اور اللہ سے توفیق بھی۔۔۔۔صحابہ اکرام کا طریقہ تھا کہ ایک پڑھتے سمجھتے پھر اس پہ عمل کرتے پھر آگے بڑھتے تھے۔حضرت عمر ؓ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے دس سال میں سورہ بقرہ پڑھی۔

یہ بھی پڑھیے

جدید ریسرچ نے قرآن کی حقانیت کو کیسے ثابت کیا؟


ایک اہم بات قرآن بک آف وزڈم Book of wisdom آپ کو وزڈم تب دے گی جب آپ کو ہدایت کی نیت سے پڑھیں گے۔قرآن کو جس نیت سے پڑھیں گے وہی ملے گا۔ہدایت نہیں۔ہدایت صرف ہدایت کی نیت سے ملے گی۔قرآن سے رابط بحال کیجیے۔وہ رابط جو وقت کی دبیز تہہ کے نیچے چھپ گیا ہے۔اسے پھر سے زندہ کیجے اور دعا بھی کہ اب یہ رابط کبھی منقطع نا ہوں۔تادم حیات رہے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں