قوم لوط پر پابندی لگائی جاۓ۔
عورت مارچ والوں کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ مرد مرد سے اور عورت عورت سے شادی کر سکتی ہے اور اس کی قانونا اجازت ہونی چاہیے۔ااگر یی بات یورپ میں کی جاۓ تب بھی ٹھیک نہیں کیونکہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔جب یہ باات پاکستان میں کہی جا رہی جو کہ اسلامہ جمہوریہ ہے۔اور علی علان کہی جا رہی ہے تو یہ جرم ہے شدید جرم۔مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
قوم لوط کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ان کا فعل کیا تھا۔وہاں کی اکثریت عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پیچھے لگ چکی تھی۔قوم لوط پر اللہ نے ان کے اس جرم کی پاداش میں پتھروں کی بارش کی۔جس سے یہ سارا گند ختم ہوگیا۔آج ایک بار پھر یہ غلاظت دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔الامان
جس جگہ یہ عذاب آیا وہاں سے آج بھی اگر کوئی پانی پی لے تو زندہ نہیں رہتا۔وہاں کی مٹی تک اتنی زہریلی ہے۔ایک سائنس دان نے یہ مٹی ریسرچ کی غرض سے لیباٹری میں رکھی تو اس جگہ کو کھانا شروع کر دیا۔یہ سب اس گناہ عظیم کی نجاست کا اثر ہے۔
اہل عقل و دانش غور فرمائیں سبت کا واقعہ۔۔۔اس واقعہ میں تین مائنڈ سیٹ سامنے آتے ہیں ایک وہ جو جنہوں نے کیا بھی نہیں مگر روکا بھی نہیں۔دوسرا جنہوں نے علی علان کیا۔تیسرا وہ جنہوں نے کیا بھی نہیں مگر روکا بھی دوسروں کو کہ یہ نا کرو غلط ہے۔آخرالذکر کے سواباقی سب مائنڈ سیٹ اللہ کی پکڑ کی زد میں آۓ۔اس لیے قارئین اکرام اپنے حصے کا کام کیجیے۔اپنے ہاتھوں کو روک لیجیے اور دوسرا لوگوں کو نصیحت کیجے۔اپنی آوازیں بلند کیجیے۔نئیں تو بے موت مارے جاؤ گے۔اس وقت قوم لوط کے خلاف بل پاس ہونا چاہیے۔اور انکے خلاف قانون بنوایا جاۓ ان کو سخت سزائیں دی جائیں۔المختصر قوم لوط پر پابندی لگائی جاۓ۔