239

نیلسن مینڈیلا اور کانپتے ہاتھوں والا شخص

تحریر شئیر کریں

نیلسن مینڈیلا اور کانپتے ہاتھوں والا شخص: ایک بے آواز پیغام

نیلسن مینڈیلا کی زندگی محض ایک سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ انسانیت، معافی اور عظمتِ کردار کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ 20 سال سے زائد وقت جیل میں گزارنے کے بعد، جب وہ جنوبی افریقہ کے صدر بنے، تو ان کے مزاج میں غرور یا بدلے کا شائبہ تک نہ تھا۔ ان کی قیادت میں انسانیت کا ایک نیا باب رقم ہوا۔

ایک دن نیلسن مینڈیلا اپنی سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ شہر کے ایک ہوٹل میں کھانے کے لیے رکے۔ ہوٹل میں ان کی نظر ایک شخص پر پڑی جو خاموشی سے اپنا کھانا آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ مینڈیلا نے فوراً اپنے سیکیورٹی افسر سے کہا کہ اس شخص کو ہماری میز پر بلا لائیں۔ جب وہ شخص آ کر مینڈیلا کے ساتھ بیٹھا تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، جیسے وہ خوفزدہ ہو۔ وہ خاموشی سے کھانا کھاتا رہا اور پھر اجازت لے کر چلا گیا۔

اس کے جانے کے بعد مینڈیلا کے سیکیورٹی افسر نے پوچھا: “سر، وہ شخص آخر تھا کون؟ اور اس کے ہاتھ کیوں کانپ رہے تھے؟”

مینڈیلا نے دھیمے لہجے میں جواب دیا: “یہ وہی جیل کا افسر ہے جو مجھے روز مارا کرتا تھا، جب میں قیدی تھا۔ آج وہ میرے ساتھ بیٹھا، لیکن میں نے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے کرنا چاہیے۔”

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ طاقت کا اصل مطلب معافی، صبر اور اخلاقی برتری ہے۔ نیلسن مینڈیلا نے سچ میں یہ ثابت کیا کہ عظمت انتقام میں نہیں، معافی میں ہے۔

—نیلسن مینڈیلا اور کانپتے ہاتھوں والا شخص

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں