انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں جب بھی زوال پذیر ہوئیں، ان کا پہلا نشانہ ‘حیا’ بنی۔ یونان کی دیومالائی داستانیں ہوں یا روم کی عیاشیاں، جب ضمیر مصلحتوں کی چادر اوڑھ لے تو معاشرہ مٹی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ‘ڈیجیٹل سکرین’ بن چکی ہے، جہاں ایک کلک پر کسی کی عزت پامال کرنا کھیل بن گیا ہے۔
موجودہ دنوں میں سوشل میڈیا پر Alina Amir viral video اور اس سے وابستہ تنازع نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ محض ایک ویڈیو کا معاملہ نہیں، بلکہ اس بات کی عکاسی ہے کہ ہم اخلاقی طور پر کس کھائی میں گر چکے ہیں۔ Alina Amir جیسے نام جب سرچ انجنوں کی زینت بنتے ہیں، تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں۔ اسلام نے جس ‘ستر’ اور ‘حجاب’ کا حکم دیا، وہ محض لباس تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ نگاہوں اور نیتوں کی پاکیزگی کا پہرا تھا۔ آج مصنوعی ذہانت (AI) اور Deepfake technology نے اس فتنے کو مزید ہوا دی ہے، جہاں کسی کی بھی شکل کو غلط مقصد کے لیے استعمال کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ایمانی دلیل تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو اس ڈیجیٹل آگ سے بچائیں جو خاموشی سے ہمارے گھروں کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے۔
جدیدیت کا لبادہ اوڑھنے والا لبرل طبقہ، جو ‘میرا جسم میری مرضی’ کے نعرے بلند کرتا ہے، آج اس وقت خاموش نظر آتا ہے جب ٹیکنالوجی کے نام پر عورت کی تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ مغربی منافقت کا عروج ہے کہ ایک طرف تو آزادیِ اظہار کا ڈھونڈورا پیٹا جاتا ہے اور دوسری طرف اسی آزادی کو دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ Alina Amir leaks جیسے کی ورڈز کی بڑھتی ہوئی سرچز اس دوغلے پن کا ثبوت ہیں کہ ہم تفریح کے نام پر کسی کی زندگی برباد کرنے کو اپنا حق سمجھ بیٹھے ہیں۔ کیا یہی وہ ترقی ہے جس کا خواب ہمیں دکھایا گیا تھا؟
حرف آخر
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ضمیر کے بند کواڑوں پر دستک دیں۔ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کی ہر جنبشِ قلم اور ہر کلک کا حساب روزِ قیامت دینا ہوگا۔ کامیابی مادی شہرت یا وائرل ہونے میں نہیں، بلکہ اللہ کے حضور سرخرو ہونے میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم Privacy اور Modesty کی قدر کریں اور اپنی انٹرنیٹ کی دنیا کو بھی ‘خوفِ خدا’ کے تابع کریں۔ یاد رکھیں، جس نے کسی کی پردہ پوشی کی، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
اس کالم میں Alina Amir کے حالیہ تنازع کی روشنی میں ڈیجیٹل اخلاقیات اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے نقصانات کا جائزہ لیا گیا ہے