امن و ایمان کی ابتر حالت میں امن کی جتنی زیادہ ضرورت آج ہے شاید کبھی نا تھی۔سید مودودی اپنی شہرہ آفاق کتاب الجہاد فی الاسلام میں لکھتے ہیں کہ انسانی حقوق میں پہلا حق زندہ رہنے دینے کا حق ہے۔ مگر افسوس در افسوس اسی پہلے حق کو سب سے زیادہ روندا جا رہا ہے۔بد قسمتی سے مسلمان قوم کا خون سب سے زیادہ بہایا جا رہا ہے۔کشمیر فسطین ہو یا عراق ہر جگہ ۔مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔امن کے دعویداروں کو یہ خون پانی دکھتا ہے۔جبھی وہ اس کے حق میں بولتے تک نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
امن ایمان سے ہے۔امن کا مادہ ء م ن ہے۔دنیا جب تک اس حقیقت کو جس کا نام ایمان ہے نہیں سمجھے گی۔امن نہیں پا سکتی۔مختصر بات یہ کہ جس رب کی زمین ہے اگر اس پہ اسی کا قانون لاگو نہیں ہوگا تو امن کہاں سے آۓ گا۔سلامتی کون پاۓ گا۔قرآن کہتا ہے۔ظہر الفساد فی البر والبحر بایدی الناس
خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا تمہارے ہاتھوں کی کمائی سے”کتنی واشگاف حقیقت ہے جو قرآن جیسی الہامی کتاب نے کھول کر رکھ دی ہے۔ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ،نت نئ ایجادات جس میں بلڈنگیں تو سلامت رہیں گیں مگر انسان نہیں۔خشکی تو ایک طرف پانی پہ بھی دجالی قوتوں نے فساد برپا کرنا شروع کر دیا ہے۔ؓبڑے بڑے ڈیموں میں پانی سٹور کر کے ضرورت پڑنے پہ دشمن قوموں کو ڈبونا،بارشوں کے سرکل میں تبدیلیاں،جہاں دل چاہے مصنوعی بارشوں سے تباہی مچانا یہ سب پانیوں پہ فساد کی عجیب داستانیں ہیں جو آج کل کانوں کو سنائی دے رہیں ہیں۔کیلی فورنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں اور لگنے والی آگ اور کراچی کی حالیہ بارشیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔کہا جا رہا طاغوتی طاقتیں یہ چاہتیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی طرح ان کے پاس بھی انکی طرح موسموں پہ حکومت کا خواب پورا ہو جاۓ۔
۔۔۔۔
انسان کچھ بھی کر لے مگر سچ یہ ہے کہ وہ خدائی معاملات میں دخل اندازی کر کے زمین کو اپنی نسلوں کے لیے غیر محفوظ بنا کر فاساد فی الارض مچانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔سلیمان ؑ کی بادشاہی کے خواب دیکھنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں۔کہ انکی دعا میں یہ بھی شامل تھا کہ اے اللہ مجھے ایسی بادشاہی عطا کر کہ جو کسی اور کو عطا نہ کرنا۔۔۔تو پھر یہ ہواوں پہ دسترس اور بارشوں تک رسائی کا ان کا خواب کیسے پورا ہو سکتا ہے۔اہل یہود یا د رکھیں سلیمان ؑ کو یہ اختیارات انعام میں ملے تھے۔اور مغضوب قوموں کو انعام نہیں سزائیں ملا کرتیں ہیں۔
دجالی طاقتوں کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔نیو ورلڈ ارڈر کے زریعے پوری دنیا پہ حکمرانی اور آبادی کو کم کرنے کے لیے وائرس پھیلا کر بے گناہ لوگوں کو مارنا اور ابادی کم کرنا فساد فی الارض کی سب سے بڑی مثال ہے۔کرونا وائرس کی اڑ میں جو کھیل رچایا جا رہا اس کا مقصد یہی ہے۔