کائنات کے سب سے بڑے سچ سے پردہ ہٹاتی ایک اچھوتی تحریری
پانی میں تیرتے دو وجود باہر کی دنیا سے یکسر ناواقف اپنے گمان کی دنیا بساۓ شب وروز میں مصروف تھے۔یہ دو جڑواں بھائی تھے جنہوں نے ابھی دنیا میں آنا تھا۔
ایک دن موسم زرا خوشگوار تھا شاید انکی ماں کسی پارک میں واک فرما رہیں تھیں۔پرندوں کی چہچہاٹ جھرنوں کی آوازیں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا یہ سب کچھ اتنا پر کیف تھا کہ پیٹ میں پلتے دو وجود بھی اس خوشگوار تبدیلی سے بے خبر نا رہ سکے تھے۔ورنہ تو اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا اور بھانت بھانت کی آوازیں گویا مچھلی منڈی لگی ہو۔
دو ننھے وجود آپس میں گویا ہوۓ۔ایک نے دوسرے سے پوچھا کیا تم زچگی کے بعد کی زندگی پہ یقین رکھتے ہو?ٹھنڈی ہوا کا جھونکے نے اس ننھے وجود کو باہر کی دنیا کے بارے میں سوچنے پہ اکسایا تھا ۔دوسرے نے کہا میرا نہیں خیال ایسی کوئی بھی زندگی ممکن ہے۔جبکہ پہلے نے دلیل سے سمجھانا چاہا ہو سکتا ہم یہاں اس اگلی زندگی کے لیے وجود پا رہے۔
پہلا ہنوز اپنی بات پہ مصر تھا “میں نہیں مانتا ایسی خیالی دنیا کو بھلا اگر ایسی کوئی زندگی ہوگی بھی تو کیسی ہو گی تمہارے خیال میں؟
دوسرے نے پرسوچ انداز میں کہا میں ہقین سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا مگر میرا دل کہتا کہ وہاں کی زندگی یہاں سے زیادہ خوبصورت اور روشن ہوگی۔ننھے وجود کی آنکھوں میں عزم و یقین کی روشنی بہت واضح دکھائی دے رہی تھی۔یہ بھی ممکن ہے یہ جو ہمارے چھوٹے چھوٹے پاؤں ہیں ان کی مدد سے دوڑ اور بھاگ سکیں۔اور یہ جو داہنہ ہے ننھے وجود نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہو ۓ کہا ہو سکتا اس سے مزے مزے کی چیزیں کھا سکیں۔پہلے نے ازراہ تمسخر قہقہ لگایا اور کہا یہ کیسا مذاق ہےپیروں سے چلنا بھلا کیسے ممکن اور ہم اپنی خوراک کے لیے ناف سے جڑی نالی کے محتاج ہیں۔میں نہیں سمجھتا اس نالی کے علاوہ بھی کہیں سے ہمیں خوراک مل سکتی ہے۔تم جو بھی کہو مگر میرا خیال تم سے مختلف ہے وہاں کچھ نا کچھ ضرور ہے جو یہا سے مختلف ہے۔ہو سکتا وہاں ہم کھلی فضاؤں میں گھومیں پھریں اور سانس لے سکیں۔بالکل غلط ہم یہاں چاروں طرف سے پانی میں ڈوبے ہیں اور تمھیں کھلی فضاؤں کی سوجھ رہی۔۔۔۔اچھا چلو تھوڑی دیر کو میں تہماری بات مان لیتا ہوں کہ کوئی ایسی زندگی بھی ہے پھر وہاں سے کوئی کبھی پلٹ کے واپس کیوں نہیں آتا؟یہ سب جو تم کہہ رہے ہو خیالی باتوں کے علاوہ کچھ نہیں۔کوئی اور زندگی نہیں ہے۔بس یہی زندگی ہے۔
ننھے وجود نے بھی ٹھان رکھی تھی کہ آج مان کے نہیں دینا بلکہ منوا کے رینا ہے۔سو اس نے ایک اور دلیل دی ایک ایسی دلیل جو اس کائنات کا بہت بڑا سچ ہے وہ ہے ماں۔۔۔۔
اچھا ایک بات بتاؤ کبھی تم نے محسوس کیا جب ہم خاموش ہوتے ہیں تو کسی کی دھڑکنوں کا شور ہمیں سنائی دیتا ہے اور کبھی کبھی تو پیار بھرا لمس بھی محسوس کیا ہے میں نے اور بہت دور سے ہی سہی اس کی آواز بھی آتی ہے۔یہ ہماری ماں ہے۔جو ہمارے چاروں طرف موجود ہے مگر ہمیں دکھتی نہیں۔بات ساری محسوسات کی ہے زرا کان لگاؤ چیک کرو اس کی محبت کو اپنائیت کو وجود کو اسی کی وجہ سے تم ہو ۔۔۔۔اس ننھے وجود نے کان لگانے شروع کیے تو اس کی حیرتوں کا کوئی ٹھکانہ نا رہا۔۔۔اور بالآخر اس نے اپنے سے منسلک وجود کی بات کچھ کچھ ٹھیک لگ رہی تھی مگر مان کے نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔
کیا آپ نے آج کی اس کہانی سے سمجھا کہ ہماری موجودہ زندگی کی کہانی کی مثال بھی اس ننھے وجود کی جیسی ہے محسوس کرتے ہوۓ بھی ہمارا رویہ ستر ماؤں سے زیادہ شفیق ہستی خدا کے بارے میں وہی ہے ہٹ دھرمی والا کے مان کے نہیں دینا۔۔۔۔سوچیے زرا نہیں بلکہ پورا سوچیے۔