416

کابل بے یقینی سے یقین تک

تحریر شئیر کریں

کابل بے یقینی سے یقین تک

الحمد للہ ان آنکھوں نے یہ دیکھ لیا_

الحمدلله کابل فتح ہونے جارہا ہے ۔
بے یقینی سے یقین تک کا سفر
نا امیدی سے امید تک کا سفر
ماؤں کے دلوں پر مرہم رکھنے تک کا سفر
باپ کی آنکھوں کو بینائی دینے تک کا سفر
یہ سفر خوشی اور غم دونوں سے بھرا ہوا ہے
لیکن اس کا اختتام ایسے ہو گا کبھی ایسے سوچا نہ تھا کہ اپنی زندگی میں اس سفر کا اختتام دیکھوں گی ۔۔

ایک ایسا سفر ۔۔۔
جس پر کتابوں کی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ۔۔۔
دور صحابہؓ دور تابعینؒ دور زنگیؒ دور ایوبیؒ کے واقعات پڑھتی تهى تو ایسا لگتا تھا*
کہ اسلام کا ایسا غلبہ شاید ہی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے پھر سوچتی تهى*
وہ لوگ بڑے خوش قسمت اور عظیم لوگ تھے*
جنہوں نے اس قیمتی دور کو دیکھا تھا*
کہاں ہم کہاں اسلام کا غلبہ ۔۔۔
اپنی آنکھوں سے دیکھنا ،*
لیکن ہاں وہ تڑپ
وہ حزن
وہ مسلمانوں کے لئے سسکتا ہوا ضمیر دل کے نہاں خانوں میں سسکتا رہا ۔۔۔ پلتا رہا
جس کو روز مسلمہ امہ کا خون پروان چڑھاتا جاتا تها

کبھی شام میں میرے شامی بچے سسکتے بلکتے رہ*
کبھی فلسطین میں میری مائیں بہنیں شہداء سے لپٹ کر روتی رہیں ۔۔۔*

کہیں برما میں میرے جسم کےحصوں کو جلایا جاتا رہا

تو کہیں کشمیر میں میرے ہی جسم کے ٹکڑوں کو گھسیٹا جاتا رہا*

کبھی عراق اور مصر میں میرے ہی کلمہ گو بھائیوں کو زندانوں کے پیچھے پابند سلاسل کر دیا جاتا رہا اور کبھی افغان مدارس میں میرے ہم پیشہ طلباء کو قرآن پڑھتے ہوئے شہید کر دیا جاتا رہا*

اور یوں دل کے نہاں خانوں میں روز وہ دکھ پروان چڑھتا جاتا رہا روز کہیں نہ کہیں سے مسلم امہ کے خون سے اس کی آبیاری ہوتی رہتی*

لیکن یہ فتوحات*
یہ اسلام کا غلبہ
اللہ اللہ ۔۔۔
کبھی سوچا بھی نہیں تھا
کہ آج اپنی آنکھوں سے اس فتح مبین کو دیکھوں گی

ملک افغان پر چہار جانب اسلام کے بیٹوں کو غالب آتے ہوئے دیکھوں گی
یہ اپنوں کی خوشیاں بھی عجیب خوشیاں ہوتی ہيں
دنیا کے سارے غم بھلا دیتی ہيں*

یہ افغان طالبان کا غلبہ نہیں هے
یہ درحقیقت اسلام کا غلبہ ہے
یہ افغان کا عَلم بلند نہیں ہو رہا
بلکہ ہر جگہ کلمہ لا الہ الا الله سر بلند ہو رہا یے
ہمیں اس سے عقیدت اسلام کی وجہ سے ہے*
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق

(الحب للہ والبغض للہ)*

محبت اور نفرت اللہ ہی کے لئے ہونی چاہیے

lآج برسوں بعد مجھے زمین اور آسمان جیسے مطمئن دکھائی دے رہے ہیں
روز طلوع ہوتا سورج
مسلمانوں کی آہی*
اور ڈھلتا سورج
مسلمانوں کو خون سے سرخ ہوتے ہوئے دیکھتا*
اور افق کے اس پار غمزدہ ڈوب جاتا
لیکن اب سورج بھی ان غمزدہ ماؤں بہنوں بیٹیوں کو خوش دیکھ رہا ہے*
جنہوں نے اسلام کے لیے قربانیاں دے کر خولہ رضی اللہ عنھا کی یادیں تازہ کردیں*
جنہوں نے اپنے دلوں پر تو زخم کھائے لیکن آنے والی امت کی ماؤں بیٹیوں کے دلوں پر مرہم رکھ دیا اب آنے والا دور ان کے لئے خوشیوں کی نوید لائے گا*
اور میری افغان مائیں بہنیں بیٹیاں*
اور میری وہ مائیں جنہوں نے دنیا بھر کے چپہ چپہ سے اپنی اولادوں کو افغان جہاد میں بھیجا
اور پاکستان میں رہنے والی وہ مائیں بہنیں بیٹیاں جنہوں نے بیک وقت اپنے تین تین جوان بیٹوں کو قربان کر ڈالا*
اور اپنے پورے خاندان کو تختہ مشق بنا لیا

۔*

اور دو چار الفاظ لکھ سکتے ہیں

lآج کابل کی یہ فت
افغانستان کی یہ فتح*
درحقیقت ان ماؤں کے نام ہے
جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو قربان کر ڈالا*
ان بہنوں کے نام ہے*
جنہوں نے اپنے بھائیوں کو اپنے ہاتھوں سے محاذ پر بھیجا*
ان بیٹیوں کے نام ہے جب جب خوشی کا تہوار آتا ہے تو ان کے پاس اپنے شہید والد کی یادیں یا فقط کچھ باتیں ہوتی ہیں جن سے وہ اپنے زخموں پر مرہم رکھ کر وہ تہوار مناتی ہیں
میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں

جن سے میں آپ کو مبارکباد دے سکوں*
لیکن ہاں میرے اَللّٰهُﷻ‌‎ کا یہ فرمان ضرور ہے میرے پاس ۔۔۔*

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَــنَّةَ ۗ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَ يُقْتَلُوْنَۗ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِى التَّوْرٰٮةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ ۗ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَـبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِىْ بَايَعْتُمْ بِهٖ ۗ وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ*

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟
پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے ، (یہی سب سے بڑی کامیابی ہے)*

میری عظیم ماؤں ، بہنو ، بیٹیو!!! تم لوگوں نے اپنے اولادوں کہ بدلے میں جنت خرید لی*
دنیا بھی آپ کی اور آخرت بھی آپ کی کامیاب آپ لوگ ہی ٹھہرے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں