پیرو کے خشک اور بنجر صحراؤں میں نازکا تہذیب کی جانب سے تعمیر کردہ کانتالوک کی آبی گزرگاہیں تقریباً پندرہ سو سال کا تاریخی ورثہ ہیں، جو آج بھی اپنی اصلی حالت میں کارآمد ہیں۔ ان گزرگاہوں کو ایسے علاقوں میں آبپاشی کے مسائل حل کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا جہاں پانی کی قلت شدید ہوتی تھی۔ نازکا کے ماہرین نے حیرت انگیز طور پر سانپ کی شکل کی بل کھاتی نہریں بنائیں، جنہیں “اوکس بو” کہا جاتا ہے۔ یہ منفرد ساخت کے سوراخ ہوا کو زیرِ زمین نہروں تک پہنچاتے ہیں، اور وہاں سے قدرتی آبی ذخائر کا پانی زمین کے اندر دباؤ کے تحت کھینچ کر ان مقامات تک پہنچایا جاتا ہے جہاں پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
کانتالوک آبی گزرگاہیں نازکا تہذیب کی انجینئرنگ کے میدان میں ایک عظیم شاہکار ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ نظام بغیر کسی جدید ٹیکنالوجی یا آلات کے، مکمل طور پر قدرتی وسائل اور فطری عوامل کی بنیاد پر بنایا گیا، جو آج تک ایک معمہ ہے کہ قدیم لوگوں نے کس طرح یہ پیچیدہ نظام تیار کیا۔
یہ بھی پڑھیے
یہ گزرگاہیں نہ صرف نازکا تہذیب کی عقل و دانش کا منہ بولتا ثبوت ہیں بلکہ آج کے دور میں بھی پانی کے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ایک قابل تقلید مثال ہیں۔ ان گزرگاہوں کی مرمت کے بغیر اتنی طویل مدت تک کارآمد رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قدیم لوگ کس قدر فنی مہارت رکھتے تھے اور کس حد تک فطرت سے ہم آہنگ تھے۔
کانتالوک آبی گزرگاہوں کی تعمیر اور ان کے طویل عرصے تک فعال رہنے کا راز آج کی جدید انجینئرنگ کے لیے بھی ایک چیلنج ہے، اور یہ ورثہ ہمیں پانی کی بچت اور بہتر استعمال کے لیے بہترین تدابیر سکھا سکتا ہے۔