ہفتۂ بھر ساگ کھانے کا انوکھا قصہ گ
کچھ سال پہلے کی بات ہے پاکستان گئی ہوئی تھی کہ امی کے گھر کہیں سے ساگ آگیا ، میری وجہ سے گھر میں کافی آنا جانا لگا ہوا تھا ۔ بھابھی نے جو ساگ دیکھا انکو تو رونا پڑ گیا کہ یہ کیا مصیبت آگئی ہے وہ ساگ اپنی امی کی طرف بھیجنے والی تھی کہ میں نے دیکھ لیا ساگ اتنا پیارا تھا موٹی موٹی گندلیں صاف ستھرا ، میں بھابھی کو کہا رکھ لیں میں خود ہی بنا لوں گی ۔
ساگ سنوارنا شروع کیا میں نے ایک ایک گندل چھیل کر صفائی کی اور پھر باریک باریک کاٹ کر خوب اچھی طرح سے دھوکر پریشر ککر میں کٹی ہوئی ہری مرچ اور نمک ڈال کر پکنا رکھ دیا جب گل گیا اور پھر اسکو الیکٹرک مدھانی کے ساتھ گھوٹا لگایا مکئی کا آٹا ہلکا سا بھون کر الن ڈالا اورہرے لہسن پیاز اور خوب ادراک کے ساتھ مزید مرچ مسالے کےساتھ تڑکا لگایا
کھانے کے وقت میری پھوپھی ، چچا اور بھابھی کی امی آگئی ساگ مزیدار تھا سبھی نے بڑی تعریف کی میں نے کہہ دیا کہ ساگ تو میں روزانہ کھا سکتی ہوں یہ واحد ڈش ہے جو کبھی مجھے بور نہیں کرتی پھوپھو ، چچا اور بھابھی کی امی جو کہ میری خالہ بھی تھی سبھی نے اپنے ہاتھ کا ساگ کھلانے کی آفر بھی کی ، ساگ پارٹی کافی مزے کی تھی
یہ بھی پڑھیے
ساگ صحت کے لیے کس قدر مفید؟
دوسری صبح بھابھی نے ناشتے میں ساگ پراٹھا دے دیا جو کہ بہت اچھا لگا
دوپہر کو بھابھی پوچھنے لگی کیا پکاؤں بھائی فوراً بولا رات والا ساگ جو ھے اسکے ساتھ کباب بنالو بس ، دوپہر کو ساگ اور کباب روٹی کےساتھ کھائے ، دوپہر کے بعد میں بازار چلی گئی واپس آئی تو بھابھی اپنی امی طرف گئی ہوئی تھی میں نے چپ کرکے ساگ گرم کیا اور ایک روٹی بنائی اور کھالی ، اگلے دن بھابھی کی امی نے کھانے پر بلایا ویسے انہوں نے کافی کچھ بنایا ہوا تھا لیکن میرے لیے اسپیشل ساگ بنا ہوا تھا سارے مزے لے کر سب کچھ کھائیں میری باری ، او روزینہ کو ساگ دو بڑا مزے کا بنا ہے میں بھی مروت میں جی بہت اچھا بنا ہوا تعریف کرے جاؤں ، وہاں سے سوائے ساگ روٹی کے اور کچھ نہ کھا سکی ، میری بھوک ہی ایک روٹی کی ہے انہوں نے زیادہ اصرار کیا تو کھانے بعد چائے پی اور گھر آگئے
اس سے اگلے دن چچا اور چچی ساگ لے کر آگئے چچا نے آنے سے پہلے فون کردیا کہ کھانا نہ کھائیں میں کچھ بنا کر لا رہا ہوں ، وہ ساگ مکئی کی روٹی ساتھ لائے
اور بڑے پیار سے مجھے ساتھ بٹھا کر کھلا کر گئے چچا کا ساگ بڑا مزیدار تھا لیکن میرا چوتھا دن ساگ کے ساتھ تھا
اس سے اگلے دن میں اپنی بہن کے گھر صبح صبح ہی چلی گئی ، وہاں انہوں نے صبح سویرے ہی ساگ پکنا رکھا ہوا تھا ، جیسے میں نے وہاں ساگ دیکھا میں وہاں دوگھنٹے بیٹھ کر واپس گھر آنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ، باجی بہت ناراض ہوئی کہ یہ کیا بات ہوئی ابھی آئی ابھی چلدی ساگ تو کھا کر جانا میں نے کہا باجی پھر آجاؤں گی مجھے کہیں اور بھی جانا وہاں سو بہانے بنا کر میں میری سب سے چھوٹی بہن دوڑے سارے رستے ساگ سے چھٹکارے پر ہنستی آئیں بازار سے کچھ شاپنگ کی گھر پہنچیں تو باجی ساگ لے کر ہمارے سے پہلے موجود تھی
اور بڑی ناراض بھی کہ ہم جلدی وہاں سے بھاگ آئیں اور بھابھی سے کہنے لگی جلدی روٹی لے آؤ گرم ساگ ہے اس کے ساتھ کھاتے ہیں بھابھی نے جو سالن بنایا تھا اسے پرے کیا اور کہا یہ پرے رکھو اسے کسی نے نہیں کھانا ہم سب تو ساگ کھائیں گے
اگلے دن فیصل آباد میں آخری دن تھا پھوپھو کو ملنے گئے تو انہوں بھی ساگ بنایا ہوا تھا وہاں سے دل پر پتھر رکھ ساگ کھایا اور اگلے چند گھنٹے میں ساگ اور فیصل آباد کو الوداع کہا
اگلا ہفتہ لاہور میں بہن کےساتھ گزارہ اور کہا خبر دار کسی نے پورا ہفتہ ساگ کا نام بھی لیا اور اس روز روز کے ساگ نے پیٹ کا حشر کردیا ، یو کے آکر کافی عرصہ ساگ کی طرف نہیں دیکھا
اس بعد پورا ہفتہ وہ ہنسے جب کوئی بات ہو ڈروا آجائے چپ کر جا نئیں تے ساگ پکا لواں گے
روزینہ افضل