1,301

ہلاکو خان کی موت

تحریر شئیر کریں

دنیا کے متکبر ترین ہلاکو خان کی موت کیسے ہوئی؟جانیئے قلم کتاب پر
ظلم و بربریت کا استعارہ ہلاکو خاں ہر عہد میں اپنے سفاکی اور حیوانیت کی پہچان رہا ہے،ہلاکو خان کون تھا اور اس متکبر انسان کی موت کیسے ہوئی؟


ہلاکو کون تھاَ؟


منگول خاندان کا متکبر ترین لیڈر ہلاکو خاں جو چنگیز خان کا پوتا تھا۔تولی خان کے تین بٹے تھے ان میں سے ایک ہلاکو خان بھی تھا،بغداد اسلامی سلطنت کا مرکز تھا ہلاکو خان نے اسماعیلی فرقے کا قلمعہ الموت ختم کر کے بغداد جو کہ امت مسلمہ کا مرکز اور اس وقت کی اکسفورڈ تھا کو ختم کرنے کی غرض سے حملہ آور ہوا،بغداد میں جو کچھ ہوا تاریخ کے اوراق ہمیشہ اس ظلم کی سیاہی لکھتے رہے گے،1258 ء وہ سال ہے جب ہلاکو خان نے تہذیب وتمدن کا گہوارا عراق پر قبضہ کر لیا بصرہ اور کوفہ کے شہر تباہ وبرباد کر دیئے،علم وتحقیق کی تمام دستاویزات اور کتابیں دریا برد کر دی گئیں،کہا جاتا ہے کہ سیاہی اور انسانی خون سے دجہ کا پانی سرخ و سیاہ رہا۔۔۔


ہلاکو خان کیسے اپنے انجام کو پہنچا؟

ہلاکو کی موت کیسے ہوئی؟اس ہلاکو خان نے جس کا نام سن کر لوگ حرکت کرنا بھول جایا کرتے تھے،غروروتکبر کا خاتمہ کیسے ہوا؟یقینا وہ رب سب بادشاہوں سے بڑا بادشاہ ہے نمرود و فرعون کو ایک جھتکے میں گرا دینے پہ قادر ہے ،اس کے لئے ہلاکو خان کو گرانا کون سا مشکل ہے؟
ہلاکو خان کی ظالم فوج ایک بستی پہ حملہ آور ہوئی،یہ سن 1258 اور بارہ فروری کا دن تھا،

فوج نے لوگوں کی صف بندی کی اور قطار در قطار لوگوں کی گردنیں اڑانی شروع کر دیں،ہلاکو اپنے گھوڑے پہ ایستادہ یہ منظر بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔اچانک اس کی نظر بوڑھے پہ پڑی جو موت کے خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا ،جب اس بوڑھے نے دیکھا کہ اس کی باری قریب ہے تو اس نے بھاگ کر صف تبدیل کر لی ،ہلاکو خان کو یہ منظر بڑا دلچسپ لگا وہ بغور دیکھنے لگا بوڑھا موت کے خوف سے مسلسل صفیں بدلتا رہا،ہلاکو خان نے فوج کو حکم دیا کہ اس بوڑھے کو فوری قتل نا کیا جائے،


وہ دیکھنا چاہتا تھا بوڑھا کب تک اس کی حیوانیت سے بچتا ہے۔بوڑھا مسلسل کوشش میں رہا،یہاں تک تمام صفوں کے لوگ موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے،ہلاکو بوڑھے کے سر پہ اپنا گرز لہراتا ہوا پہنچا اور پوچھا کہ تم بچنے کی کوشش کیوں کر رہے تھے جب کہ آج تمھیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا،بوڑھے نے مکمل یقین سے زمین و آسمان کے مالک خدائے بزرگ وبرتر کی طرف انگلی سے اشارہ کیا اور کہا وہ چاہے تو بچا سکتا

قرآن کے چھبیسویں پارے کے اہم نکات

،ہلاکو نے قہقہ لگایا اور اپنا گرز اٹھایا تاکہ بوڑھے کو بتا سکے کہ اسے آج کوئی بچا نہیں پائے گا،ادھر مالک الملک بھی پہنچ چکا تھا،گرز ہلاکو کے ہاتھ سے گرا وہ اپنا گرز اٹھانے کے لئے جھکا مگر اسی دوران گھوڑے پر توازن برقرار نا رکھتے ہوئے گر پڑا،گرا ایسے کے ایک پاوں گھوڑے میں اٹک گیا اور گھوڑے نے دوڑ لگا دی،اب ہلاکو کا سر زمین سے رگڑ کھا رہا تھا اور اور پتھروں سے رگڑ کھاتا ہوا اپنے انجام کی طرف رواں دواں۔۔۔۔

فوج نے بہت کوشش کی گھوڑے کو روکنے کی مگر ناکام ٹھہری،جب گھوڑا رکا تو اس کے ساتھ ہی ظلم وبربریت کے اس عہد کا خاتمہ بھی ہوگیا،ہلاکو خان کا سر مسلسل رگڑ کھانے سے ختم ہوچکا تھا،فوج نے اس بوڑھے کو ڈر کے مارے کچھ نا کہا اور جانے دیا،بوڑھا نم آنکھوں اور تشکر سے لبریز دل لئے پیدل ہی اپنے گھر کو چل دیا۔ہلاکو کی موت کیسے ہوئی؟کہانی نہیں عبرت کی جا ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمارا رب کتنا بڑا ہے اور جو اس پہ مکمل یقین رکھتے وہ ان کا یقین کبھی نہیں توڑتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں