411

ہم اور ہمارے موسیٰ علیه السلام

تحریر شئیر کریں

قسط ١ ہم اور ہمارے موسیٰ علیه السلام

یونہی ان سے کسی نے اک دن پوچھا تھا، موسیٰ! بھلا آپ سے بڑھ کر علم والا بھی کوئی ہو گا؟ موسیٰ علیه السلام نے کہہ دیا، نہیں۔
ہاں تو اور کیا!
بھلا اور بھی کوئی تھا کہ جس نے پہاڑوں پہ کھڑے ہو کر رب سے گفتگو کی ہو؟ کیا کوئی اور بھی تھا کہ جسے راستے میں چلتے چلتے حقیقت میں “رب مل گیا ہو؟” اور الله نے خود اس کو اپنے پاس بلا کر کتنی ہی چاہت سے کہا ہو، میں نے تم پہ اپنی محبت انڈیل دی ہے! ہائے! دل پھٹ سا جاتا ہے یہ سن کر بھی۔
ہاں تو کیا۔ موسیٰ علیه السلام کیوں نہ کہتے کہ وہی ہیں سب سے بڑھ کے علم والے؟ جو موسیٰ بھی نہ کہتے تو اور کون کہتا!
مگر الله کو تو یہ بات پسند ہی نہ آئی۔ علم دیا تو الله نے تھا، پھر موسیٰ علیه السلام نے یہ کیوں نہ کہا کہ الله کی رحمت ہے، اسی کی عطا ہے کہ میں علم والا ہوں۔

ایک منٹ۔ کیا موسیٰ علیه السلام کا مطلب واقعی یہ تھا کہ ان کا علم محض ان کے اپنے کمال اور صلاحیت کی وجہ سے ہے؟ حاشا و کلا! ہرگز نہیں! موسیٰ علیه السلام حقیقت میں ایمان رکھتے تھے کہ یہ پروردگارِ باری کا کرم ہے سراسر کہ ان کا دامن گوہرِ علم سے منور ہے۔ بس وہ کہنا بھول گئے۔ اور الله نے بھی یہ بات جانے نہیں دی۔ فوراً انہیں کہہ دیا کہ موسیٰ! یہ کام غلط کر دیا ہے۔ یہ بھول گوارا نہیں۔

صحت پہ نو کمپرومائز


آپ نے بڑے بڑے پروفیسر دیکھے ہوں گے۔ عظیم عظیم سائنسدان۔ کافی بڑے ڈاکٹر۔ اپنے سے بڑا کوئی بھی۔ بلکہ ہم خود بھی ذرا پڑھ لکھ جائیں تو یوں مزاج بدل جاتے ہیں کہ بھئ بس! ہمارے آگے نہ بولے کوئی۔ ہم تو ہم ہی ہیں۔ آپ کو مجھ سے زیادہ نہیں پتہ۔ آپ جتنے ہیں اتنے ہی رہیں۔


آپ نے رعونت بھرے استادوں کا لہجہ دیکھا ہو گا دیہاتی والدین کے سامنے۔ آپ نے سرکاری ہسپتال کی او پی ڈی میں ڈاکٹر کا طرزِ تخاطب ملاحظہ کیا ہو گا۔ کبھی وزیراعلیٰ عام آدمی کو کیسے مخاطب کرتا ہے؟ عہدیداروں کے غرور کا عالم کیا ہوا کرتا ہے؟
ہم لوگ چلتے زمین پہ ہیں اور بولتے یوں ہیں کہ آواز گویا آسمان کو لپیٹ ڈالے گی۔ ہمیں اپنے نیچے زمین گویا تخت معلوم ہوتی ہے۔ ہم شاہانہ لوگ ہیں۔ ہم علم والے ہیں۔ مگر ہم میں سے کسی سے رب نے کلام نہیں فرمایا۔ کسی کو طُور پہ اپنے پاس نہیں بلایا۔ کسی کو اپنی محبت کا یقین نہیں دلایا۔
“ڈاکٹر صاحبہ! آپ تو بہت لائق ہیں۔”


“جی بس۔” ایک تفاخرانہ مسکراہٹ۔
“ڈاکٹر صاحبہ! آپ تو بہت قابل ہیں۔”
“جی الحمدللہ۔” ایک شکر میں ڈوبی دھیمی مسکان۔
آسمان پہ یہ دونوں رویے کتنے مختلف ہوتے ہیں۔ شکر ہے ہم لوگوں پہ وحی نہیں آتی۔ ورنہ ہر روز عرش نے نجانے غضب کے کتنے پیام اترا کرتے۔


ہم کیوں نہیں جان لیتے کہ ہم لوگ کتنے ہی اونچے، بڑے اور خوبصورت کیوں نہ ہو جائیں، ہم موسیٰ نہیں ہو سکتے۔ اور یہ طرزِ گفتگو تو الله کو موسیٰ علیه السلام کا بھی نہ گوارا تھا!

بحوالہ: صحیح بخاری
ڈاکٹر مریم خالد

طائرِحرم

ہم اور ہمارے موسیٰ علیه السلام قسط وار سیریز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں