402

انتہاپسندی کے اسباب اور سدباب

تحریر شئیر کریں

انتہا پسندی کے اسباب اور سدباب

انتہا پسندی کیا ہے؟

انتہا پسندی کی آسان اور سادہ تعریف یہ ہے کہ اعتدال کا راستہ چھوڑ کر کسی بھی انتہا پہ پہنچ جانا۔چاہے اچھائی ہو یا برائی ۔

انتہا پسندی کی وجوہات

تعلیم کی کمی
ذہنی پسماندگی
سیاسی عدم استحکام
سفید اور سیاہ سوچ
صحیح اسلامی تعلیمات سے روگردانی

انتہاپسندی کے سدباب

تعلیم حاصل کرنا پیسہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ تعمیر شخصیت کے لیے۔تعمیر شخصیت ہدف ہوگا تو وہ سارے اسباب جو آپ کی شخصیت کے لیے زہر قاتل ہے۔ان پر قابو پانا سکھایا جاۓ گا۔ان میں سے ایک انتہا پسندی بھی ہے۔علم سے دماغ روشن ہوتے ہیں اور اندھیرے غائب ہوتے۔پاکستانی قوم علم کی طرف آ رہی مگر اس کی سمت ٹھیک نہیں ہے۔اسے اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔حدیث مبارکہ ہے “وہ علم جس کا مقصد زریعہ معاش ہو وہ وبال بن جاۓ گا۔ہمیں ایسے علم سے بچنا ہے۔

ذہنی پسماندگی


جن قوموں کی ترجیحات علم نہیں ہوتا۔جہاں روٹی کی اہمیت کتاب سے زیادہ ہوا کرتی ہے۔وہاں ذہنی پسماندگی پیدا ہوتی ہے ۔ذہنی پسماندگی بذات خود ایک رکاوٹ ہے ترقی کے راستے کی،اس کے لیے لوگوں کے اندر شعور پیدا کرنا ہوگا۔تاکہ وہ ذہنی پسماندگی ختم کر کے انتہا پسندی کا سدباب کر سکیں۔

سفید اور سیاہ سوچ


ذہنی پسماندگی کی بڑی وجہ سفید اور سیاہ سوچ ہے سفید سوچ یہ کہ جب کسی کو اچھا سمجھنے لگنا تو یہ خیال کرنا کہ اس جیسا تو کوئی ہے ہی نہیں۔اور جب برا سمجھنا شروع کرنا تو یہ سوچنا کہ اس جیسا برا بھی کوئی نہیں۔یہ دونوں انتہائیں ہیں۔اس سے بچنے کا واحد راستہ اعتدال اور میانہ روی ہے انسان کو سوچنا چاہیے کہ اگر کسی کے اندر اچھائی ہے تو برائی بھی ہو سکتی ہے۔یقینا ہوتی بھی ہے۔ہمیں بطور انسان انسانوں کو اچھائیوں اور برائیوں کے ساتھ قبول کرنا ہے ۔اس طریقے سے انتہا ہسندی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

یی بھی پڑھیے

دین پہ استقامت کیوں اور کیسے؟

سیاسی عدم استحکام

قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان میں سیاسی غیر استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔دشمن طاقتیں کبھی نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں سیاسی طور پر مستحکم ہو۔لہذا کرپٹ مافیا ہمیشہ سے ایوانوں پہ مسلط ہے۔جن سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔یہ کرپٹ مافیا دونوں ہاتھوں سے پاکستان کے وسائل لوٹ رہا۔جس کا نتیجہ غربت کی شرح دن بدن بڑھ رہی ہے۔نفرت لالچ حسد اور لوٹ مار کی اس فضا میں استحکام ممکن نہیں۔مصنوعی طور پر کبھی بجلی کا بحران تو کبھی گیس کا اور کبھی دیگر کھانے کے سامان کا۔تاکہ عوام انہی چیزوں میں الجھی رہے اور ان کے دماغوں کی رسائی لٹیروں تک نا ہو سکے۔ایسے میں عوامی سطح پر انتہا ہسندی کا پیدا ہونا فطری سی بات ہے۔جب حکمران قوم کے مفاد میں نہیں تو عوام۔کیوں۔لہذا دونوں طرف اپنی اپنی سطح پر انتہا پسند عناصر پیدا ہو رہے ہیں۔

صحیح اسلامی تعلیمات سے روگردانی

اسلام ایک بیلنس دین ہے۔جو امن و امان کی تعلیم دیتا ہے۔جب تک صحیح اسلامی تعلیمات نوجوان نسل تک نہیں پہنچتی تب تک انتہا ہسندی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔اس سلسلے میں علماء کا رول بہت سخت ہے جو کہ بالکل نا ہونے کے برابر ہے۔علماء دانشور طبقہ عوام کو اس سلسلے میں درست راہنمائی فراہم کر کے اس کا قبلہ درست کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ہم کیا کریں؟

اپنے بچوں کو اور خود کو بھی اسلامی تعلیمات سے آراستہ کریں۔حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے ہر کام میں میانہ روی اختیار کرو۔میانہ روی اختیار کرنے والا کبھی مفلس نہیں ہوتا۔ہر کام میں توازن رکھنا سیکھا جاۓ۔سب بچوں کے ساتھ ایک جیسا برتاو کریں تاکہ ان کے اندر انتہا پسندی جیسے جذبات جنم نا لے سکیں۔دین اور دنیا میں توازن قائم کرنا بھی انتہا پسندی کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اگر کسی بچے میں جذباتی اتار چڑھاو معمول سے زیادہ ہو تو اسے سائیکالوجسٹ کے پاس لے جائیں۔تاکہ بڑا مسئلہ پیدا ہونے سے پہلے ہی اس پہ قابو پایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں