632

دین پہ استقامت کیوں اور کیسے؟

تحریر شئیر کریں

دین پہ استقامت کیوں اور کیسے؟قلم کتاب پر ملاحظ کیجیے

استقامت کسی کام کو مسلسل کرتے چلے جانے کا نام ہے۔دین پہ استقامت ایک کھٹن کام ہے۔جتنا کٹھن ہے اتنا ہی اہم اور ضروری بھی۔موجودہ دور میں استقامت اختیار کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی منہ زور گھوڑے کو لگام دینا۔وہ بھی اس ماحول میں جہاں ہر کوئی اپنی منشاء کی زندگی گزارنا چاہتا۔
من چاہی زندگی ایک سراب ہے۔ایک ایسا سفر جس میں منزل سے بے خبر ہو کر چلتے چلے جاو۔مگر یہ زندگی آخرت کی فکر رکھنے والوں کے لیے سراسر خسارہ ہے۔اگر آپ اس خسارے سے واقف ہیں تو پھر دین پہ استقامت اختیار کرنا ہوگی۔اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔تو آج استقامت پہ بات کی جاۓ گی کہ اسے اپنی زندگی میں کیسے لے کر آنا ہے۔

خود کو مینج کریں۔

زندگی میں ترتیب حسن اور توازن لانے کے لیے خود کو مینج کریں۔صبح کے کاموں کے لیے رات کو ٹو ڈو لسٹ بنائیں۔اور یہ کام شروع کرنے سے پہلے جانیے کہ آپ کا سارا وقت کہاں ضائع ہو رہا۔اس کے لیے ایک ٹاسک یہ ہے کہ آپ کو ہر دو گھنٹے بعد ان دو گھنٹوں میں کیے جانے والے کاموں کی تفصیل لکھنی ہے۔کچھ دن کی اس محنت کے بعد آپ کو اپنے ٹائم ویسٹر سمجھ آ جائیں گے
۔یہ کام کیے بغیر آپ وقت کو اور خود کو مینج نہیں کر پائیں گے ۔

ٹو ڈو لسٹ کے بہت فوائد ہیں۔شروع میں یہ کام۔مشکل ہے۔ممکن ہے بنائی گئ لسٹ میں ایک کام مکمل ہو ۔۔ااگلے دن دو اور پھر تین۔۔آہستہ آہستہ۔پوری لسٹ جو آپ نے بنائی مکمل ہو جاۓ گی۔
بےبی سٹیپ سے کام کا آغاز کریں۔آسان سے مشکل کی طرف جائیں۔یہ عادات بنانے کا موثر فارمولا ہے۔ہم جوش میں آکر کام شروع تو کرتے ہیں مگر کچ دن بعد اکتا جاتے۔جب عادت بنا کر کام کریں گےتو یہ مسئلہ نہیں ہوگا۔نمرہ احمد اپنی کتاب “میں انمول ہوں”میں لکھتی ہیں کہ ہم مستقل۔مزاج اس لیے نہیں بنتے کہ کیونکہ ہم عادت نہیں بنا پاتے۔

مثلا نماز کی عادت نہیں۔شروع میں ایک نماز کی مستقل عادت ڈالیں۔پھر دو ہھر تین اور پھر پانچ ۔۔۔تین ماہ لگاتار پڑھیں گےتو وہ کام آپ کی عادت بن جاۓ گا۔

شادی کے بعد لڑکیاں اکثر یہ کہتی دکھائی دیتی ہیں کہ دین کے کاموں میں پہلے جیسی استقامت نہیں رہی۔اس کے لیے بھی ٹائم ویسٹر دیکھنا ہوں گے پھر خود کو لکھ کر مینج کرنا ہوگا۔شادی ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔جس سے آپ کی ہر چیز بدل جاتی ہے۔گھر ماحول کمرہ غرض کہ آپ خود بھی اپنے پاس کم اور دوسروں کے پاس زیادہ ہوتے۔صبح و شام کے اذکار اور نمازوں کی پابندی کی دعا اور خود کو یقین دہانی شادی سے پہلے ہی کرواتے رہیں کہ یہ دو کام ہر صورت کرنا ہے۔اگر کہیں جانا پڑ جاۓ جیسا کہ شادی کی دعوتوں وغیرہ میں تو نمازوں کو جمع کر لیں مگر قضا مت کریں۔ظہر عصر کے ساتھ اور عصر ظہر کے ساتھ ملائی جا سکتی ہے۔اسی طرح مغرب عشاء کے ساتھ اور عشاء مغرب کے ساتھ ملائی جا سکتی ہے۔جہاں تک وضو کی بات ہے تو ہر بار میک اپ کرنے سے پہلے وضو کر لیں۔اس۔سے بھی نماز پڑھنے میں آسانی ہوگی۔نماز چھوٹ بھی جاۓ تو جیسے ہی فرصت ملے نماز پڑھیں جو چھوٹی ہے۔

اسی طرح اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے فرض قضا نا ہوں تو اس کے گرد سنتوں کی باڑ لگائیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ سنتیں ضائع نا ہوں تو نوافل کی باڑ لگائیں۔یہ بہت کارآمد کلیہ اور سمجھنے والی بات ہے۔جب آپ کے دماغ نے سمجھ لیا کہ سنت نہیں چھوڑنی تو وہ فرض چھوڑنے کی جسارت کبھی نہیں کرے گا۔اگر نوافل ادا کرنے کی پختہ عادت پڑ چکی تو سنت اور فرائض چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جہاں تک قرآن پڑھنے کی عادت ہے تو اس پہ استقامت کیسے اختیار کرنی اس حوالے سے عادت بنا لیں کہ چاہے دو آیات ہی پڑھنی مگر پڑھنی ضرور ہے۔ اس حوالے سے مایہ ناز سکالر فرحت ہاشمی کہتی ہیں جس دن نہیں بھی پڑھ پاتے اس دن یہ کام۔ضرور کریں کہ قرآن ہاتھ میں پکڑیں کھولیں اور رکھ دیں۔شیطان کو جب کوئی اللہ کا بندہ قرآن کو پکڑتا ہے تو اس کی ہوا نکل جاتی ہے اور وہ دور بھاگ جاتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت پاکستان کے مشہور سائیکاٹرسٹ ہیں کاموں کو مینج کرنے کے حوالے سے کہتے ہیں “کوئی بھی کام فورا سے کرنا شروع نا کر دیں۔اس کو سوچیں مینج کریں۔دماغ کو میسج دیں کہ دس منٹ بعد میں کھانا کھاوں گا۔اس سے دماغ مینج ہو گا۔اور ہڑبونگ نہیں مچے گی۔دماغ کو آپ کی بات ماننے کی زیادہ اور اپنی منوانے کی عادت کم سے کم ہوگی۔جو جی میں آۓ کرنا اینیمل برین تو ہو سکتا ہیومن برین ہر گز نہیں۔

دعا وہ ہتھیار ہے جو ہر مشکل کو ممکن اور آسان بنا دیتا ہے۔اللہ سے استقامت اور مستقل۔مزاجی کی دعا کرتے رہیں۔کوشش دعا اور اچھے ساتھی ہر کامیابی کا یقینی راز ہیں۔

انسان غوروفکر کرنے والی مخلوق ہے۔اگر غور کریں مٹی پر تو اندازہ ہوگا کہ کہ مٹی سے زیادہ مستقل مزاجی اور استقامت کسی اور چیز میں نہیں۔لہذا مٹی کے برتن استعمال کرنا شروع کر دیں۔یہ آپ کے اندر دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ مستقل مزاج بھی بناۓ گی۔مستقل مزاجی آپ کو دین میں استقامت دے گی اور دین پہ استقامت آپ کی دنیا ہی نہیں آخرت بھی سنوارنے کا سبب بنے گی۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں