جو مومن ہوتے ہیں وہ واقعات سے عبرت لیتے ہیں استازہ کو سن رہی تھی تو انہوں نے ایک واقعہ بتایا کراچی میں ایک لڑکی کی ماں کی ڈیتھ ہوگئی تو استازہ ان کے گھر افسوس کرنے گئی تھی اس لڑکی نے ان سے پوچھا کہ میں اپنی ماں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہو تو استازہ نے کہا آپ کریں گی؟ اس نے کہا ہاں۔۔ استازہ نے کہا کہ رب کی کتاب سیکھ لیں
۔ استاذہ نے کہا اپنی زندگی کا ایک سال قرآن کے لیے لگا دو وہ کہنے لگی مجھے ماسٹرز کا بہت شوق ہے دو سال کا ہے میں وہ مکمل کر لوں اس کے بعد ضرور قرآن مجید سیکھوں گی۔۔۔۔ دو سال بعد وہ لڑکی ایم ایس سی کا آخری پیپر دے کر آرہی تھی کہ روڈ کراس کرتے ہوئے اس کے اوپر سے ٹرک گزر گیا اور اس کا دماغ ساری سڑک پر پھیلا ہوا تھا
اس کے پاس دو سال کی زندگی تھی اور وہ بھی اس نے دنیاوی تعلیم کے لیے لگا دی وہ نہ اپنے لئے کچھ کر سکیں اور نہ اپنی ماں کے لئے اللہ اس کی مغفرت فرمائے آمین۔۔۔ ہم سولہ سترہ سال دنیاوی تعلیم کے لیے لگا دیتے ہیں تب ہمارے پاس مال بھی ہوتا ہے اور وقت بھی ہوتا ہےاور جب قرآن سیکھنے کی بات آجائے تو ہمارا مال بھی ختم اور وقت بھی وہیں پر ختم ہو جاتا ہے ہمیں نہیں پتا کہ ہمیں اگلی سانس آئے گی یا نہیں۔۔۔
جائے عبرت آپ۔نے پڑھا کب شروع کر رہے ہیں اللہ۔کی کتاب