جدید ریسرچ نے قرآن کی حقانیت کو کیسے ثابت کیا؟
ایک ایمان آفروز واقعہ جو قرآن کی حقانیت کا مبہ بولتا ثبوت
قرآن اللہ رب العزت کا وہ معجزہ ہے جس نے ہر دور کے انسانوں کی عقلوں کو عاجز کر کے رکھ دیا ہے۔اس کے کمالات ابھی ختم نہیں ہوۓ اور نا قیامت تک ہوں گے ،اس کاجدید معجزہ اس نے موجودہ دور کے علم سائنس کو بھی بچھاڑ کر رکھ دیا ہے۔اور سائنس دان اس کی آیتوں کی گہرائی میں اتر کر حیرت کے سمندر میں غرق ہو کر جب باہر نکلتے ہیں تو اسلام قبول کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔۔ا
یسا متعدد سائنس دانوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ یمن کے شیخ عبدالمجید زندانی کےساتھ رونما ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ قرآن کی تحقیقی اور ریسرچ کے دوران بہت سے انکشافات ہوۓ ہیں ان میں سے ایک یہ والا ہے جو ابھی سنانے جا رہا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ علم بیالوجی پہ جدہ میں ایک سیمینار تھا ۔اس سیمنار میں علم بیالوجی کے حوالے سے جو نئ تھیوریز تھیں وہ موضوع گفتگو تھیں۔
ایک جرمن پروفیسر نے اپنی تحقیق پیش کی کہ درد کا احساس صرف جلد میں ہوتا ہے۔جس کی دلیل میں انھوں نے مثال پیش کی کہ جیسا کہ ٹیکہ جو جلد میں لگتا ہے تو درد بھی جلد کو ہوتا ہے۔اس کے علاوہ کسی اور چیز کو اس درد کا احساس نہیں ہوتا۔جلد اور چمڑی وغیرہ اس احساس سے مبرا ہوتی ہے۔گوشت اور ہڈیوں کو بھی اس درد کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔
شیخ زندانی زیرلب مسکراۓ اور اپنی سیٹ سے کھڑے ہو کر
کہا کہ سر آپ جس ریسرچ کی بات کر رہے ہیں اس سے ہم چودہ سو سال پہلے ہی آگاہ تھے۔پروفیسر نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا یہ ریسرچ تو حال ہی میں سامنے آئی ہے۔
شیخ زندانی نے بطور ثبوت یہ آیت تلاوت کی اور اس کا ترجمہ سنایا”جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گےجب ان کی کھالیں پک جائیں گی تو ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رهیں اور بے شک اللہ زبردست ہے اور بڑی حکمت والا ہے”النساء56)
یعنی جب جہنم والوں کی ایک سکن جل جاۓ گی تو ان کو دوسری سکن پہنآئی جاۓ گہ تاکہ درد کا احساس ختم نا ہو۔
شیخ زندانی کہتے ہیں کہ میرا ترجمہ سن کر وہ سیمنارکے دیگر شرکاء سے تصدیق کرنے لگا۔سب نے اس ترجمے کو درست کہا۔جب میں باہر نکلا تو وہ ایک نرس سے پوچھ گچھ کر رہا تھا۔نرس نے بھی اس ترجمہ کی تصدیق کی تو پروفیسر آور بھی پریشان ہو گیا۔کہ آخر ماجرا کیا ہے۔یہ کھوج بالآخر قبول اسلام پہ ختم ہوئی۔ٹھیک ایک سال بعد اسی جگہ دوبارہ ملے تو پتہ چلا اس آیت نے اسے ایمان کی روشنی دی اور وہ مشرف بہ اسلام ہو گیا۔
جدید ریسرچ نے قرآن کی حقانیت کو کیسے ثابت کیا؟