478

جسمانی صحت اور نیند

تحریر شئیر کریں

جسمانی صحت اور نیند

مفہوم فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم: جو رات میں اپنے بستر پر آئے اور ارادہ کرے اٹھ کر رات کی نماز پڑھوں گا,پهر اس پر نیند کا غلبہ ہوگیا کہ سوتے سوتے صبح ہو جائے تو اس نے جس عمل کی نیت کی ہو گی اسکا بھی ثواب ملے گا. اور وہ نیند اس کے رب کی جانب سے اس پر صدقہ ہو گی.

قیلولہ

قیلولہ چند منٹ تقریبا 15 سے 30 منٹ تک سو جانے یا جسم و دماغ کو آرام دہ حالت میں پر سکون کر لینے کا نام ہے.

مفہوم فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم : قیلولہ کرو کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتے.

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے قیلولہ ثابت ہے.

صحابہ کرام رضی اللہ عنهم سورج ڈھل جانے کے بعد قیلولہ فرماتے اور جو قیلولہ نہ کرے وہ شیطان کا حصہ سمجھا جاتا.

عربی کا مشہور قول: دوپہر کا کھانا کھاؤ تو چند منٹ لیٹ جاؤ اگرچہ دو لقمہ ہی کیوں نہ ہوں. رات کا کھانا کھاؤ تو چہل قدمی کرو اگرچہ دو لقمے ہی کیوں نہ کھاؤ.

قیلولہ کا طریقہ:

صبح بیدار ہونے کے 8 گھنٹہ کے بعد قیلولہ کیا جائے.

قیلولہ کا دورانیہ 15 سے 30 منٹ کے درمیان ہونا چاہیئے. 30 منٹ سے ذیادہ سونے پر دماغ گہری نیند میں چلا جاتا ہے جس سے جاگنا مشکل اور جاگ جانے پر طبعیت بوجھل ہوجاتی ہے.

قیلولہ کے فوائد:

رات کی نیند بھی پوری ہوجاتی ہے اور صبح انسان تروتازہ اٹھتا ہے.

قیلولہ نیند کے نہ آنے کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا علاج ہے.

روز 30 منٹ کے قیلولہ سے دل کی بیماری کے خطرات کم ہوجاتے ہیں.

قیلولہ کرنے سے یکسوئی ، توجہ اور فیصلے کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے.

اوقات نیند و بیداری—

اللہ نے رات کو آرام اور سونے کے لیئے اور دن کو کام اور روزی کمانے کے لیئے بنایا ہے.

القران (مفہوم): ” اور ہم نے تمہاری نیند کو باعث آرام، رات کو لباس اور دن کو روزی کمانے کا ذریعہ بنایا”

نیند کی اہمیت و افادیت:

نیند انسان کی بنیادی ضرورت ہے.

صحتمند اور یکسو زندگی گزارنے کے لیئے مناسب نیند نہایت ضروری ہے.

نیند انسان کو سکون اور راحت بخشتی ہے.

اچھی نیند انسان کو اللہ کا شکرگزار بناتی ہے.

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سونے جاگنے کے معمول—

اچھی عادات بنائیں

حضرت عائشہ رضی اللہ عنها سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم رات کے شروع حصے میں سو جاتے اور آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد پڑھا کرتے تھے، سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم سو جاتے پھر فجر کے لیئے اٹھ جاتے.

آپ صلی اللہ علیہ و سلم رات جلدی سوتے اور صبح جلدی جاگتے.

دن کے اول حصے میں سونا جہالت، وسط میں سونا اچھی عادت اور آخر میں سونا حماقت ہے.

پ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیٹنے کا انداز—

آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے دائیں پہلو کروٹ لے کر سوتے تھے جبکہ دائیاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے ہوتا اور باقی جسم خم کھائے ہوئے ہوتا.

دائیں جانب لیٹنے کے فوائد:

کھانا جلد ہضم ہوجاتا ہے.

بائیں پھیپھڑے کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے چنانچہ زکام، نزلہ، بلغم کی پریشانی میں دائیان جانب کروٹ لےکر سویا جائے.

بستر کا انتخاب

روئی کے گدے کا استعمال فطرت کے مطابق ہے جبکہ فوم کے گدے سے ہڈیوں کی ساخت میں فرق اور ان میں درد ہوجاتا ہے.

نرم گدے کے استعمال سے کمر کے اعصاب ڈھیلے ہوجاتے ہیں

جسمانی صحت اور نیند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں