حکمرانوں کے شوق ور مزاج ان کی سیرت کا پتہ دیتے ہیں۔انہی کے مزاجوں پہ لوگ کے ٹرینڈ اور مزاج سیٹ ہوتے ہیں۔اسی لیے عربیء کہاوت ہے اذا صلح الراعی صلحت رعیتہ
کہ جب حکمران اچھا ہوجاۓ تو عوام بھی درست ہوجاتی ہے۔”اسکی کچھ مثالیں ملاحظ فرمایں
کہا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسف کا عہد ظلم وجبر سے بھرپور تھا۔حجاج اتنا شقی القلب تھا کہ اسے اپنے عہد کا فرعون کہا جاتا ہے۔اس کے عہد کے لوگوں پہ اس کے بہت اثرات مرتب ہوۓ کہا جاتا ہے جب لوگ صبح اٹھتے تو ایک دوسرے سے پوچھا کرتے تھے کہ آج کس کے قتل کی باری ہے؟
اسی طرح ولید بن عبدالمالک جو اموی خلیفہ تھا اس کے عہد میں تعمیرات بہت ہوئیں ،یہ مغلوں کی طرح بلڈنگز بنانے کا شوقین تھا۔شان و شوقت اور ظاہری ترقی اس کے عہد کی پہچان تھی۔
لوگ جب سو کر اٹھتے تو پوچھتے کیسی عمارت تعمیر کی۔۔۔نیا مکان کو نسا خریدا؟
یہ بھی پڑھیے
اسی طرح اس کے بھائی سلیمان بن عبدالمالک کا عہد بھی عیش وعشرت سے بھرپور تھا۔ظاہری عیش و آرام اور دکھاوا بہت بڑھ گیا تھا۔کھانا پینا ،اوڑھنا پہننا اور زیادہ سے زیادہ شادیوں کا ٹرینڈ بڑھ گیا تھا۔کیونکہ انکا بادشاہ ان سب چیزوں کا رسیا تھا۔سو لوگ بھی انہی چیزوں پہ فوکس کرتے تھے۔
پھر جب خلیفہ عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنے تو عبادت پرہیزگاری اور خوف خدا لوگوں کے رویوں سے چھلکتا تھا۔کیونکہ ا نکا خلیفہ ایک مومن اور دینی مزاج کا حامل ا نسان تھا۔ اس لیے لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے تو پوچھتے” رات میں کتنا قرآن پڑھا؟کتنے نفلی روزرکھے؟
درج بالا مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ جب حکمران درست ہو جاۓ تو عوام بھی درست ہو جاتی ہے۔
اس لیے اچھے حکمران کی دعا ہماری دعاؤں کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔
نیک اور صالح حکمران اللہ کی خاص عطا ہوتے ہیں۔ان کی ا طاعت اور قدر کرنی چاہیے۔اس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔
ہم پاکستانیوں کو ایک نیک اور صالح حکمرآن کی اشد ضرورت ہے۔جو اس امت ک لیڈر بن کر ان کو لیڈ کر سکے۔
ایک حدیث کا ازالہ
ایک حدیث مشہور ہے کہ جیسے عوام ویسے حکمران۔۔۔حالانکہ یہ ترتیب ٹھیک نہیں ہے۔جیسے حکمران ویسی ہی عوام …یہ ضعیف روایت اور حکمرانوں کی طرف سے پھیلایا گیا پروپگینڈا ہے۔کہ لوگ اگر الزام بھی دیں تو خود کو۔۔۔حکمرانوں کے برے کرتوتوں پر کسی کی نظر نا پڑے۔یہ منفی پروپگینڈے ہیں ان پر عمل کرنے کی بجاۓ حقائق پر غور کریں کیا عمر بن عبدالعزیز کے آنے سے پہلے سب لوگ پرہیزگار اور عبادت گزار بن چکے تھے یا ان کے آنے کے بعد بنے ۔۔۔۔؟کیا حجاج بن یوسف کے آنے سے پہلے بھی لوگ اتنے شقی القلب بن چکے تھے۔کیا پرویز مشرف کے آنے سے پہلے میڈیا اتنا بے لگام تھا؟کیا ضیاء الحق کا دور سب کے سامنے نہیں؟
یہ سب وہ حقائق ہیں جن کو شریعت کی آڑ میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ ان خرافات سے باہر آئیں۔