571

حمام دم توڑتی خوبصورت روایت

تحریر شئیر کریں

حمام دم توڑتی خوبصورت روایت جو جدیدیت کی نظر ہوگی۔ترکوں نے اس کو باقاعدہ روایت کی شکل دی اور عروج تک پہنچایا۔

نہانا اور جسم کو راحت پہنچانا وہ عمل ہے جو انسانوں میں ہزاروں سال سے چلتا آ رہا۔انسانی تہذیب جوں جوں باشعور ہوتی گئ توں توں جسمانی صفائی ستھرائی میں جدت آتی گی۔خوشآئند بات یہ کہ مسلمانوں کی تہذیب میں غسل ایک اہم فریضے کے طور میں صدیوں سے رائج چلا آرہا ہے۔سپین کی گلیوں میں سیوریج اور نہانے کے لیے حمام اس وقت بھی موجود تھے جب یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ہی نہیں بلکہ غلاظت میں بھی ڈوبا ہوا تھا۔نہاۓ بغیر سالوں گزار دینا راہبوں کے نزدیک پسندیدہ عمل تھا۔پانی کا استعمال گناہ سمجھا جاتا تھا۔ایسے میں مسلم ممالک میں حمام موجود تھے جہاں لوگ نہانے اور جسم کی مالش وغیرہ کے لیے آیا کرتے تھے۔

حمام دم توڑتی خوبصورت روایت جس کی تاریخ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کی ہے۔دنیا کا قدیم ترین حمام پاکستان میں واقع ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نہا کر صفائی حاصل کرنا ہماری روایات میں شامل رہا ہے۔

ترکوں کے نزدیک پانی ایک متبرک چیز تھی۔جیسا کہ قرآن کی بعض آیات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز پانی سے پیدا کی۔پانی پہ ہی انسانی زندگی کا دارومدا ر ہے۔پانی سے ہی طہارت حاصل کرکے عبادت الہی کی جاتی ہے۔
ترکی کا مشہور شہر اناطولیہ جو اناروں کی پیداوار کی وجہ سے مشہور ہے۔دنیا کے بہترین انار اناطولیہ میں پیدا ہوتے ہیں۔اناطولیہ میں صفائی کے لیے نہانے کا ذکر اگرچہ پرانا ہے مگر اسے باقاعدہ ثقافت کا درجہ ترکوں نے دیا۔عثمانی دور میں حمام تعمیر کیے گۓ۔اور اتنے دیدہ زیب حمام کہ یورپین دیکھتے تو دنگ رہ جاتے۔ان حماموں کی پرائیویسی یقینی ہوتی تھی۔کوئی کھڑکی وغیرہ نہیں رکھی جاتی تھی۔زیر زمین معدنیات کی مدد سے پانی کو گرم کیا جاتا۔پھر حماموں میں مہیا کیا جاتا۔نہانے سے قبل مساج کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔استنبول اور برصا میں آج بھی ان حماموں کی باقیات موجود ہیں۔برصا شہر کی اہمیت اس حولے سے بھی بہت اہم ہے کیونکہ استنبول سے قبل یہی شہر مرکز نگاہ تھا۔یہاں کے حمام اپنی مثال آپ تھے۔یہ شہر اپنے بہترین پانی جسے شفا کے لیے اکسیر مانا جاتا تھا اپنےبشفا بخش پانی کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔حماموں کی مقبولیت کی بڑی وجہ رومی حکیموں کی نصیحت تھی کہ صاف رہنے کے لیے غسل ضرور کیا جاۓ۔اسلام نے بھی اسی کی تلقین کی اور ہفتے میں ایک دن غسل لازمی قرار دیا۔کیونکہ بیماریوں سے بچاو اور روح کی پاکی کے لیے غسل ضروری ہے۔اس کے علاوہ پٹھے نرم اور مضبوط ہوتے ہیں۔دوران خون تیز ہوتا اور درد سے سکون ملتا ہے۔اس کے علاوہ زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں۔
دور عثمانی میں یہ حمام مرد تو کجا عورتیں بھی استعمال۔کیا کرتیں تھیں۔شادی سے پہلے دلہن کو حمام لایا جاتا تھا جیسے آج کل بیوٹی پارلر لایا جاتا ہے۔اس دور کے حماموں میں آج کل کے بیوٹی پارلر سے بھی زیادہ صفائی ستھرائی کا اہتمام تھا۔بیوٹی پارلر تو چہرے ہاتھوں اور پاوں پہ میک اپ کر کے اسے جاذب نظر بناتے ہیں۔جبکہ حماموں میں اندرونی صفائی اور مساج سے ریلیکس کیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کچن گارڈن ایک منافع بخش روایت

سلطان محمود اول کے دور میں جب حماموں کا رجحان بہت بڑھ گیا۔تو پانی کی ترسیل بھی بڑھ گئ۔جس کے پیش نظر بڑے بڑے حمام بنانے بند کر دیے گے۔اس سے پہلے سب سے بڑے حمام کا اعزاز تین سو سال پرانے حمام چاعل اولو کے نام آیا۔اس حمام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ نیویارک ٹائمز نے مرنے سے پہلے دنیا میں سیر کے قابل ہزار مقامات کی فہرست مرتب کی۔جس میں چاعل اولو کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یورپ میں حماموں کا کلچر ترکوں سے آیا اسی لیے یہاں جو حمام تعمیر کیے گۓ ان کو “ترکش حمام “کا نام دیا گیا۔یی حمام ایک نہانے والا ہوتا اس سے بھی پہلے مساج کیا جاتا۔مساج کے بعد غسل پھر ایک گرم کمرے میں بھیجا جاتا جہاں گرم بھاپ دی جاتی۔۔۔بھاپ کے بعد دوبارہ سے جسم کو خشک کرکے پانی بہایا جاتا تھا۔
ترک حمام کی روایت مغلوں نے بھی مستعار لی اور اس کو پروان چڑھایا۔شاہی قلعے میں ابھی بھی حماموں کی باقیات باقی ہیں۔سب سےعجیب حمام اٹک میں ملتا ہے جہاں دریا کے پانی کا گزر ہوتا تھا۔اور تازہ پانی سے غسل کیا جاتا تھا۔
حماموں کی یہ روایت پاکستانی کلچر میں بھی عام ملتی تھی۔۔مگر جب سے گھروں میں جدید طرز کے واش روم بناۓ جانے لگے۔ حمام دم توڑتی خوبصورت روایت ہے جو۔گذشتہ دو دہائیوں سے تقریبا ختم ہو کر رہ گئ ہے۔وگرنہ گھر کے مرد نہانے کے لیے انہی حماموں کا رخ کرتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں