420

رمضان کو رمضان کیوں کہا جاتا ہے

تحریر شئیر کریں

رمضان کو رمضان کیوں کہا جاتا ہے؟جانیے قلم کتاب پر

کا مطلب ہے “جل جانا”
رمضان کو رمضان اس لیے
کہتے ہیں روزہ داروں نے جو گناہ کیے ہوتےہیں۔اللہ ہر روزے کے بدلے میں ان کو جلاتا جاتا ہے۔جلاتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخری دن آن پہنچتا ہے۔اللہ تعالی روزہ دار کو ایسے گناہوں سے پاک کر دیتا ہے جیسے اس نے ابھی ابھی جنم لیا ہو۔یہ ہے وجہ تسمیہ اس مہینے کے نام رمضان رکھنے کی۔جس کا مطلب جل جانا ہے ۔

اس مہینے میں کیا کیا جلتا ہے؟

جب روزہ دار بھوکا پیاسا ہوتا ہے تو سب سے زیادہ جس شے کو تکلیف پہنچتی ہے وہ نفس ہے۔تو سب سے زیادہ نفس جلتا ہے جب اس کی خواہش لذت طعام پوری نہیں ہوتی،اسے بار بار زک پہنچتی ہے۔جس سے یہ کمزور پڑتا ہے۔اتنا کمزور کے تمام آلائشیں جل کر راکھ یوجاتی ہیں۔اور نفس نیا نکور بن جاتا ہے۔جدید سائنس نے بھی انکشاف کیا ہے کہ روزے کی حالت میں انسان کا جسم تمام مہلک بیکٹریاز اور وائرس جلانا شروع کردیتا ہے۔چربی جلتی ہے جس سے موٹاہا کم ہوتا ہے۔یوں بہت سے جراثیم اور کثافتیں روزے کی حالت میں جل کر جسم کو فاسد مادوں سے پاک کر رہی ہوتی ہیں۔

یہ اللہ رب العزت کا نظام ہے اس نے اس نظام کی صفائی کھ لیے ماہ رمضان ہمیں بطود تحفتا عنایت کیا یے۔

یہ بھی پڑھیے

رمضان کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کی روایات

نفس کو زیر کیجیے۔نفس انسان کا شیطان کے بعد دوسرا بڑا دشمن ہے۔جب ہم اسکی باتیں مانتے چلے جاتے ہیں تو یی مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔مگر سال کے بارہ مہینوں میں رمضان واحد مہینہ ہے جب ہم اس کی ناجائز تو دور کی بات جائز بھی نہیں مان رہے ہوتے۔سوچیں اسے اس عمل سے کتنی زک ہہنچتی۔۔ یوں وی کمزور پڑتا چلا جاتا اور تیسویں روزے تک بالکل نڈھال ہوکر بندے کا پتر بن جاتا یے ۔یہی رمضان کا مقصود ہے کہ نفس کی بات مت مانو۔۔ اس سے الٹ چلو۔۔اگر مانتے چلت جاو گے تو یہ اتنی من مانی کرے گا کہ آپ کا اپنا کنٹرول ختم کر کے رکھ دے گا۔پہلے جائز باتوں کی ترغیب دے گا پھر ناجائز بھی منوانا شروع کردے گا۔پھر گناہ پہ گناہ صادر ہوتے چلے جائیں گے۔انہی گناہوں کو جلانے ماہ رمضان آیا ہے۔خوایشات کو جلانے ماہ رمضان آیا ہے اب سمجھ آیا رمضان کو رمضان کیوں کہاجاتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں