610

سوشل میڈیا اور پھیلتی بے حیائی

تحریر شئیر کریں

سوشل میڈیا اور پھیلتی بے حیائی
کیا سد باب ممکن ہے؟
؟؟

سوشل میڈیا کا دور ایک ایسا مقناطیسی دور ہے جس کی کشش بڑے بڑے مومنین کو متزلزل کر گئی،ایک ایسی ضرورت ثابت ہوئی جس کے آگے پیٹ کی آگ بھی معدوم ہوتی معلوم ہوئی،ایک ایسی ہتھیلی پر سرسوں جیسی شہرت بنی کہ پھر اچھے برے، صحیح و غلط کی تمیز سے عاری ہوگئی،
یعنی سوشل میڈیا یا چھ انچ کی اسکرین جو ہر چھوٹے بڑے، امیر و غریب، ہر قسم کے افراد کے پاس بلا امتیاز موجود ہے کھانے کو گھر میں کچھ ہو نا ہو انٹرنیٹ و موبائل فون کی سہولت میسر ہے جو پہلے روکھی سوکھی کھاتے تھے انٹرنیٹ کے نشے کے بعد اس سوکھی کے پیسے بھی اسی نشے کی نذر ہو جاتے ہیں

اور رات بھر سستے ترین پیکجز کے عذاب پیٹ کی آگ کو بڑے آرام سے بھجا لیتے ہیں اور تو اور آپ کا ضمیر اگر شہرت کا بھوکا ہو تو کوئی سی خرافات سر انجام دے کر دیکھ لیں رات و رات شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگے گے اور پھر شہرت کے اس مینار پر پہنچانے والے صرف رات کو پیکجز لگا کر وقت برباد کرنے والے نہیں ہونگے بلکہ وہ لوگ بھی ہونگے جنہوں نے یہ سوچ کر پیکج لگایا تھا کہ نیک کام کو فروغ دیں گے یا دین کو پھیلائیں گے کیونکہ! معزز قارئین سوشل میڈیا ایک دلدل ہے جس میں آپ پاؤں رکھتے ہیں پھر دھنستے چلے جاتے ہیں یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو دیکھتے دیکھتے خوفناک آگ کی لپیٹ میں لے لیتی ہے یہ ایک ایسا نشہ ہے جو لگ گیا پھر جان نہ چھوڑی۔


کسی بھی ملک و ملت کا اصل سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں کیونکہ وہاں سے ہی آپ کی ملت کو بقاء ملتی ہے اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جس بھی قوم کی نوجوان نسل بگڑ گئی پھر اس قوم کو تباہ ہونے سے کوئی نہ بچا سکا۔آج ذرہ سر اٹھا کر دیکھ لیں ہر طرف ہر ایک فرد اپنے ارد گرد سے بیگانہ اس نشے میں محو نظر آتا ہے یقیناً اس میں ہم سب شامل ہیں بحیثیت ذمہ دار والدین کے والدین اپنی ذمہ داریاں بھول گئے اور بھلا ہو اس ماڈرنزم کا جس نے بڑے بڑے نیکوکاروں کو اپنے نام کے حسن سے دیوانہ بنا کر ایسا محروم بصیرت کیا

کہ پھر نہ قرآن کے احکام یاد رہے نہ احادیث ہی راستہ روک سکیں اور نہ پچھلوں کی حیا کی داستانیں دماغ کے نہاں خانوں سے جھانک سکی۔ پھر ہوا یوں کہ “بدھیا مری بلا سے آگرہ تو دیکھ لیا” ماڈرنزم کے نام پر ہر متوسط و اونچے طبقے یا نچلے طبقے حتی کہ جھونپڑیوں والوں تک نے اپنے ننھے منے مستقبل کے ہاتھوں میں یہ زہر تھما دیا اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے چکروں میں یہ تک نہ بتا سکے کہ یہ زہر کب کتنا لینا ہے اور ہمارا یہ مستقبل تیزی سے اس زہر کا شکار ہو رہا ہے۔


ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں منفی و مثبت سوشل میڈیا کے مثبت فوائد سے کسی صورت قطع نظر نہیں رہا جاسکتا لیکن اب اس کا استعمال مثبت سے زیادہ منفی ہوتا دکھائی دیتا ہے آئے دن کوئی نہ کوئی بے معنی و بے مطلب حرکات نوجوانوں کی طرف سے دیکھنے کو ملتی ہیں اور پھر پورے کا پورا پاکستان اس بے حیائی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے

مثلاً ایک روز فیس بک کھولی تو سامنے ایک بے پردہ لڑکی اپنے کچھ مخلوط دوستوں کے ساتھ کچھ پارٹی کرتی نظر آتی ہے پھر اس حرکت کو خوب خوب بے حد مقبولیت حاصل ہوئی یہاں تک کہ دنیا کے کونے کونے میں اس پارٹی کو پہنچایا گیا اس لڑکی کو بے حیائی و بے پردگی پر ایوارڈ دینے کو دل کیے کچھ کا تو بس نہیں چلتا تھا کہ جا کہ ایک پارٹی اس کے ساتھ ہوجائے اور وہ لڑکی جو پہلے ہی بیچاری ماڈرنزم کے نام پر گھر والوں سے ڈھیر ساری آزادی کی زندگی کے مزے لے رہی تھی پھر اس آزادی کے فوائد پر مزید ابھر کر سامنے آئی اور اس کے ماڈرنزم کو مزید فروغ ملا اور پیچھے رہ گئے ہماری نوجوان نسل کو اپنی پہچان و ثقافت سے ہمہ وقت خبردار رکھنے والے مارننگ شوز تو مس ندا نے بھی اپنے حصے کا فرض پوری ایمانداری سے سرانجام دیتے ہوئے اس پارٹی گرل کی مزید حوصلہ افزائی کی۔


اس ملت خور زہر سے ہمیں اپنے آپ کو اپنی نسل کو ہر صورت بچانا ہو گا ہمیں آگے بھی بڑھنا ہے اور اپنے دامن کو بھی بچانا ہے ہم دنیا سے کٹ نہیں سکتے بلکہ ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر اپنے اپنے حصے کا قرض چکانا ہے۔ ہمیں بس کچھ اقدامات کرنے ہیں اور ہر ایک نے اپنے حصے کا دیا جلانا ہے پھر ان شآءاللہ کل کی روشنی ایسی تابناک ہوگی کہ ہر شے نکھر نکھر جائے گی۔

سوشل میڈیا اور پھیلتی بے حیائی کے سلسلے میں


سب سے پہلے۔!
حکومت پر عائد ہوتا ہے کہ بالحیثیت اسلامی حکمران کے ملک بھر میں فحش ویب سائٹس کو مکمل طور پر بلاک کرے کیونکہ اصل تباہی یہیں سے شروع ہوتی ہے اور یہاں سے ہی تمام گناہ جنم لیتے ہیں فحش ویب سائٹس اس وقت گناہوں کا وہ جنم کار آلہ بنی ہوئی ہیں جن سے بے حیائی، زنا، کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی، قوم لوط کے رزیل عوامل اور اس طرح کے بے شمار گناہ جنم لے رہے ہیں کیونکہ یہ نوجوانوں کے حیا کا گلا گھونٹ دیتی ہیں اور پھر حدیث مبارکہ کے مطابق “” جب تم میں حیا نہ رہے تو جو جی چاہے کر””

طالبان نے حیا کا مفہوم سمجھا دیا


پھر حیا کے بغیر انسانوں کو جانور بننے میں لمحے بھی نہیں لگتے اور ماں، بیٹی، بہن، بیوی ہر طرح کے رشتے سے ناآشنا ہوجاتا ہے۔
دوسرے نمبر پر ٹک ٹاک جیسے ایپ کو ہمیشہ کے لیے پاکستان میں بند کر دے کیونکہ اس پلیٹ فارم نے ہر ایک کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے میں جو مدد دی ہے وہ تاریخ ساز ہے۔”” بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی”” لیکن ایسے ایسے بھڑوے اور کوٹھے والیاں پیدا ہوئیں جو شاید تاحیات دیکھنے کو نہ ملتی، یہ ایسا زہریلا بچھو ہے جس نے شاید سو میں سے ایک کو بخشا ہوگا ہے اور پھر اس کے کاٹ لینے کے بعد شہرت کا ایسا نشہ چڑھتا ہے کہ ناچنا، برہنہ ہونا، نامحرم کی بانہوں میں سر عام جھولنا اور پھر حد کو پار کر جانا کچھ بھی برا نہیں لگتا۔!


والدین اپنے رتبے و ذمہ داریوں کو پہچانیں بچوں کے ہاتھوں میں فون دیں لیکن دوسرے ہاتھ میں قرآن و حدیث بھی دیں، سوشل میڈیا کا مثبت استعمال سکھائیں پرکھوں کے حیا کے قصے سنائیں، انہیں بتائیں کہ یہ پاک ستان ہمارے بڑوں نے لہو بہا کر، عصمتیں لٹا کر، گھر جلا کر، جگر کے ٹکڑے پارہ پارہ کر کے کس مقصد کے لیے حاصل کر کے پلیٹ میں سجا کر ہمیں دیا اس سجی پلیٹ کی قربانیوں کی قیمت ہم نے کیسے چکانی ہے انہیں بتائیں کہ! حیا ایمان کی شاخوں میں سے ہے اگر شاخ نہ رہے تو درخت کتنے بدھے لگتے ہیں اور ایسے درخت کبھی سایہ نہیں دے سکتے بلکہ جلائے جاتے ہیں، اپنے بچوں کی گھٹی میں ڈالیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین کے سپاہی ہیں اور سپاہی ہمیشہ ہتھیاروں کا مثبت استعمال کرتے ہیں ہمیں بھی اس سوشل میڈیا کے ہتھیار کا مثبت استعمال کرنا ہے اسلام اور پاکستان کے شہداء کے لہو کا قرض چکانا ہے۔!


“” وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن
پرکار و سخن ساز ہے نم ناک نہیں ہے
عالم ہے فقط مومن جاں‌باز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے “”

سوشل میڈیا اور پھیلتی بے حیائی سدباب ممکن ہے اگر علماء اور دین دار طبقہ۔خلوص نیت سے اصلاح کی تحریک چلائیں اور تنقید کی بجائے اخلاص اور نرمی کا برتاو کریں۔

ربیعہ صالحہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں